❮
❯
حدیث نمبر: 5616
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَا: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَكَرِهَتْهُ، وَكَانَ رَجُلًا ذَمِيمًا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَأَرَاهُ، فَلَوْلَا مَخَافَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَرَدَّتْ إِلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہم دونوں بیان کرتے ہیں: حبیبہ بنت سہل، ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، مگر وہ انہیں ناپسند کرتی تھیں، اور وہ ایک بدصورت آدمی تھے۔ تو وہ خاتون نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسے دیکھتی ہوں تو اگر اللہ عزوجل کا خوف نہ ہوتا تو میں اس کے چہرے پر تھوک دیتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اسے اس کا باغ واپس کرو گی جو اس نے تمہیں مہر میں دیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے بلوایا، تو اس نے اسے اس کا باغ لوٹا دیا، اور آپ ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کروا دی، اور یہ اسلام میں ہونے والا پہلا خلع تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5616
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 103، حدیث 5637