کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا زیاد بن لبید انصاری بدری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ میں شریک، کوفہ میں رہتے تھے، کنیت ابوعبداللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ زُرَيْقِ بْنِ عَبْدِ بْنِ حَارِثَةَ، زِيَادِ بْنِ لَبِيدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ سِنَانِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ أُمَيَّةَ»
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں کہ بدر میں شریک ہونے والے انصار کے ناموں میں، پھر بنو بیاضہ بن عامر بن زریق بن عبد بن حارثہ میں سے، سیدنا زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ، زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا»
ترجمہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ بیعتِ عقبہ میں شریک ہونے والے انصار میں، پھر بنو بیاضہ میں سے، سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے، اور انہوں نے بدر میں بھی شرکت کی۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، قَالَا، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ وَهُوَ يَقُولُ: «كَيْفَ وَقَدْ ذَهَبَ أَوَانُ الْعِلْمِ» قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي كَيْفَ يَذْهَبُ أَوَانُ الْعِلْمِ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ونُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، ثُمَّ لَا يَنْتَفِعُونَ مِنْهَا بِشَيْءٍ؟»
ترجمہ
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ اپنے صحابہ سے گفتگو کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم کا زمانہ کیسے چلا گیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کا زمانہ کیسے جا سکتا ہے جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں، اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھائیں گے، قیامت تک؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے اے ابن لبید! میں تو تمہیں مدینہ کے سب سے بڑے فقیہ لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ کیا یہود و نصاریٰ تورات و انجیل نہیں پڑھتے، پھر بھی انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا؟“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: «ذَلِكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوْ لَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَلَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِنْهَا؟»
ترجمہ
سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کوئی بات ذکر کی، پھر فرمایا: ”یہ علم کے چلے جانے کے وقت کی بات ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے جا سکتا ہے جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے اے زیاد! میں تو تمہیں مدینہ کے سب سے بڑے فقیہ آدمی میں سے سمجھتا تھا۔ کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات و انجیل نہیں پڑھتے، پھر بھی اس پر کچھ عمل نہیں کرتے؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَوَانُ ذَهَابِ الْعِلْمِ» ، قُلْتُ: وَكَيْفَ وَفِينَا كِتَابُ اللهِ نُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ لَبِيدٍ مَا كُنْتُ أَحْسِبُكَ إِلَّا مِنْ أَعْقِلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فِيهِمْ كِتَابُ اللهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ وَلَمْ يَنْتَفِعُوا مِنْهُ بِشَيْءٍ؟»
ترجمہ
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ علم کے چلے جانے کا وقت ہے۔“ میں نے عرض کیا: یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، ہم اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے اے ابن لبید! میں تو تمہیں مدینہ کے سب سے عقلمند لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ کیا یہود و نصاریٰ کے پاس اللہ کی کتاب تورات اور انجیل موجود نہیں، پھر بھی انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا؟“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ونُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا وأَرِقَّاءَنَا؟ قَالَ: «وَاللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ يَا زِيَادُ لَمِنْ فُقَهَاءِ الْمُسْلِمِينَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ أُنْزِلَتْ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَا نَفَعَهُمْ إِذْ لَمْ يَعْمَلُوا بِهِ؟»
ترجمہ
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے اٹھایا جا سکتا ہے جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں، عورتوں اور غلاموں کو سکھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو تمہیں اے زیاد، مسلمانوں کے فقہاء میں سے سمجھتا تھا۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تورات اور انجیل یہود و نصاریٰ پر نازل ہوئیں، پھر جب انہوں نے ان پر عمل نہ کیا تو انہیں کیا فائدہ ہوا؟“