حدیث نمبر: 5271
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، قَالَا، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ وَهُوَ يَقُولُ: «كَيْفَ وَقَدْ ذَهَبَ أَوَانُ الْعِلْمِ» قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي كَيْفَ يَذْهَبُ أَوَانُ الْعِلْمِ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ونُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، ثُمَّ لَا يَنْتَفِعُونَ مِنْهَا بِشَيْءٍ؟»
ترجمہ

سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ اپنے صحابہ سے گفتگو کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم کا زمانہ کیسے چلا گیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کا زمانہ کیسے جا سکتا ہے جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں، اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھائیں گے، قیامت تک؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے اے ابن لبید! میں تو تمہیں مدینہ کے سب سے بڑے فقیہ لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ کیا یہود و نصاریٰ تورات و انجیل نہیں پڑھتے، پھر بھی انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5271
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 264، حدیث 5290