حدیث نمبر: 5273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَوَانُ ذَهَابِ الْعِلْمِ» ، قُلْتُ: وَكَيْفَ وَفِينَا كِتَابُ اللهِ نُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ لَبِيدٍ مَا كُنْتُ أَحْسِبُكَ إِلَّا مِنْ أَعْقِلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فِيهِمْ كِتَابُ اللهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ وَلَمْ يَنْتَفِعُوا مِنْهُ بِشَيْءٍ؟»
ترجمہ

سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ علم کے چلے جانے کا وقت ہے۔“ میں نے عرض کیا: یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے، ہم اپنے بیٹوں کو سکھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو سکھائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے اے ابن لبید! میں تو تمہیں مدینہ کے سب سے عقلمند لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ کیا یہود و نصاریٰ کے پاس اللہ کی کتاب تورات اور انجیل موجود نہیں، پھر بھی انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5273
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 265، حدیث 5292