المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زياد بن لبيد الأنصاري بدري عقبي " كان ينزل الكوفة يكنى أبا عبد الله " باب: سیدنا زیاد بن لبید انصاری بدری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ میں شریک، کوفہ میں رہتے تھے، کنیت ابوعبداللہ
حدیث نمبر: 5274
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ونُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا وأَرِقَّاءَنَا؟ قَالَ: «وَاللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ يَا زِيَادُ لَمِنْ فُقَهَاءِ الْمُسْلِمِينَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ أُنْزِلَتْ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَا نَفَعَهُمْ إِذْ لَمْ يَعْمَلُوا بِهِ؟»ترجمہ
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے اٹھایا جا سکتا ہے جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں، عورتوں اور غلاموں کو سکھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو تمہیں اے زیاد، مسلمانوں کے فقہاء میں سے سمجھتا تھا۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تورات اور انجیل یہود و نصاریٰ پر نازل ہوئیں، پھر جب انہوں نے ان پر عمل نہ کیا تو انہیں کیا فائدہ ہوا؟“