حدیث نمبر: 5274
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ونُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا وأَرِقَّاءَنَا؟ قَالَ: «وَاللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ يَا زِيَادُ لَمِنْ فُقَهَاءِ الْمُسْلِمِينَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ أُنْزِلَتْ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَا نَفَعَهُمْ إِذْ لَمْ يَعْمَلُوا بِهِ؟»
ترجمہ

سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے اٹھایا جا سکتا ہے جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں، عورتوں اور غلاموں کو سکھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تو تمہیں اے زیاد، مسلمانوں کے فقہاء میں سے سمجھتا تھا۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تورات اور انجیل یہود و نصاریٰ پر نازل ہوئیں، پھر جب انہوں نے ان پر عمل نہ کیا تو انہیں کیا فائدہ ہوا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5274
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 265، حدیث 5293