المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زياد أبو الأغر النهشلي " كان ينزل البصرة " باب: سیدنا زیاد ابوالاغر نہشلی رضی اللہ عنہ، بصرہ میں رہتے تھے
حدیث نمبر: 5275
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ حَرْبِ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، ثنا أَبُو الْهَيْثَمِ الْقَصَّابُ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَدِمَ بِبَعِيرٍ لَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُحَمَّلٌ طَعَامًا، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَعْرَابِيُّ مَا تَحْمِلُ؟» قُلْتُ: أُجَهِّزُ قَمْحًا فَقَالَ لِي: «مَا تُرِيدُ؟» قُلْتُ: أُرِيدُ بَيْعَهُ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «أَحْسَنُوا مُبَايَعَةَ الْأَعْرَابِيِّ»ترجمہ
سیدنا زیاد ابوالاغر نہشلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ اپنا ایک اونٹ لے کر مدینہ آئے جس پر غلہ لدا ہوا تھا، تو نبی کریم ﷺ ان سے ملے اور فرمایا: ”اے دیہاتی! تم کیا لے کر آئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں گندم لایا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کا کیا کرنا چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں اسے بیچنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”دیہاتی کے ساتھ اچھی طرح خرید و فروخت کرو۔“