کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ، مصر میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَبَلَغَنِي أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُرْسِلَ جَيْشًا إِلَى قَوْمِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رُدَّ الْجَيْشَ، فَأَنَا لَكَ بِإِسْلَامِهِمْ وطَاعَتِهِمْ، قَالَ: «افْعَلْ» فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ، فَأَتَى وَفْدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِهِمْ وطَاعَتِهِمْ، فَقَالَ: «يَا أَخَا صُدَاءَ إِنَّكَ لَمُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ» قُلْتُ: بَلْ هَدَاهُمُ اللهُ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِمْ قَالَ: «أَفَلَا أُؤَمِّرُكَ عَلَيْهِمْ؟» قُلْتُ: بَلَى، فَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ، فَكَتَبَ لِي بِذَلِكَ كِتَابًا، وَسَأَلْتُهُ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ، فَفَعَلَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأَعْرَسْنَا مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، فَلَزِمْتُهُ وَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَنْقَطِعُونَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ غَيْرِي، فَلَمَّا تَحَيَّنَ الصُّبْحُ أَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ، ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا أَخَا صُدَاءَ مَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ قَالَ: «صُبَّهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ» فَأَتَيْتُهُ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَرَأَيْتُ بَيْنَ كُلِّ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ عَيْنًا تَفُورُ قَالَ: " يَا أَخَا صُدَاءَ لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّي لسَقِيَنا وَاسْتَقَيْنَا، نَادِ فِي النَّاسِ: مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْوُضُوءَ " قَالَ: فَاغْتَرَفَ مَنِ اغْتَرَفَ، وَجَاءَ بِلَالٌ لِيُقِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَخَا صُدَاءَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ» فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ أَتَى أَهْلُ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ، وَيَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ حَدِّثْنَا بِمَا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَأَنَا فِيهِمْ، فَقَالَ: «لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ» فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي وَأَتَاهُ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ ودَاءٌ فِي الْبَطْنِ» قَالَ: فَأَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَاتِ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ لَمْ يَرْضَ فِي الصَّدَقَاتِ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ حَتَّى جَعَلَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءَ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ " فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اقْبَلْ إِمَارَتَكَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا قَالَ: «وَلِمَ؟» قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: «لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ» وَقَدْ آمَنْتُ وسَمِعْتُكَ تَقُولُ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ ودَاءٌ فِي الْبَطْنِ» فَقَدْ سَأَلْتُكَ وَأَنَا غَنِيٌّ قَالَ: «هُوَ ذَاكَ، فَإِنْ شِئْتَ فَخُذْ، وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ» قُلْتُ: بَلْ أَدَعُ قَالَ: «فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُوَلِّيهِ» فَدَلَلْتُهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْوَفْدِ فَوَلَّاهُ
قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا بِئْرًا إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا، فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ وَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهٍ حَوْلَنَا، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ الْيَوْمَ أَنْ نَتَفَرَّقَ، كُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ، فَادْعُ اللهَ يَسَعُنَا مَاؤُهَا، فَدَعَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَنَقَدَهُنَّ فِي كَفِّهِ ثُمَّ قَالَ: «إِذَنْ اسْتَمُّوهَا فَأَلْقُوا وَاحِدَةً وَاحِدَةً وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ» فَمَا اسْتَطَاعُوا أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى قَعْرِهَا بَعْدُ
قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا بِئْرًا إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا، فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ وَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهٍ حَوْلَنَا، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ الْيَوْمَ أَنْ نَتَفَرَّقَ، كُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ، فَادْعُ اللهَ يَسَعُنَا مَاؤُهَا، فَدَعَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَنَقَدَهُنَّ فِي كَفِّهِ ثُمَّ قَالَ: «إِذَنْ اسْتَمُّوهَا فَأَلْقُوا وَاحِدَةً وَاحِدَةً وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ» فَمَا اسْتَطَاعُوا أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى قَعْرِهَا بَعْدُ
ترجمہ
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ میری قوم کی طرف لشکر بھیجنا چاہتے ہیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لشکر واپس بلا لیجیے، میں ان کے اسلام اور اطاعت کا ذمہ لیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا ہی کرو۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں خط لکھا، تو ان کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کے پاس ان کے اسلام اور اطاعت کی خبر لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صداء کے بھائی! تمہاری بات تمہاری قوم میں مانی جاتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: بلکہ اللہ نے انہیں ہدایت دی اور ان پر احسان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان پر امیر مقرر نہ کر دوں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے مجھے ان کا امیر مقرر کر دیا اور اس بارے میں مجھے ایک تحریر لکھ دی۔ میں نے آپ ﷺ سے ان کے صدقات میں سے کچھ مانگا تو آپ ﷺ نے وہ بھی عطا فرما دیا۔
نبی کریم ﷺ ان دنوں اپنے کسی سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو ہم نے رات کے شروع میں آرام کیا۔ میں آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہا، جبکہ آپ ﷺ کے صحابہ ایک ایک کر کے الگ ہوتے گئے یہاں تک کہ میرے سوا ان میں سے کوئی آپ ﷺ کے ساتھ نہ رہا۔ جب صبح ہونے کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے اذان دی۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے صداء کے بھائی! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن تھوڑا سا ہے جو آپ کے لیے کافی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے برتن میں ڈال کر میرے پاس لے آؤ۔“ میں وہ لے آیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی ہر دو انگلیوں کے درمیان سے پانی کا چشمہ ابل رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صداء کے بھائی! اگر مجھے اپنے رب سے حیا نہ آتی تو ہم بھی پیتے اور تمہیں بھی پلاتے۔ لوگوں میں اعلان کر دو: جو وضو کرنا چاہے کر لے۔“ چنانچہ جس نے چاہا پانی لے لیا۔
پھر بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”صداء کے بھائی نے اذان دی ہے، اور جو اذان دے وہی اقامت بھی کہے۔“ جب آپ ﷺ نے فجر پڑھائی تو اس پڑاؤ کے لوگ اپنے عامل کی شکایت لے کر آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے کہ جاہلیت میں ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان کیا معاملات تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر — اور میں بھی ان میں تھا — فرمایا: ”مومن آدمی کے لیے امارت میں کوئی بھلائی نہیں۔“ یہ بات میرے دل میں کھٹک گئی۔
پھر ایک سائل آیا اور آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مالدار ہونے کے باوجود لوگوں سے سوال کرے تو یہ اس کے سر کے لیے درد اور پیٹ کے لیے بیماری ہے۔“ اس نے کہا: تو مجھے صدقات میں سے کچھ دے دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صدقات کے معاملے میں کسی نبی یا کسی اور کے فیصلے پر اکتفا نہیں کیا یہاں تک کہ خود ان کے آٹھ حصے مقرر فرما دیے، اگر تم ان میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دے دوں گا۔
جب صبح ہوئی تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اپنی امارت واپس لے لیجیے، مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کیا: میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”مومن آدمی کے لیے امارت میں کوئی بھلائی نہیں“، اور میں مومن ہو چکا ہوں۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے: ”جو مالدار ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگے تو یہ سر کا درد اور پیٹ کی بیماری ہے“، حالانکہ میں نے بھی آپ سے مانگا تھا جبکہ میں مالدار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بات یہی ہے، اگر چاہو تو لے لو، اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔“ میں نے عرض کیا: میں چھوڑتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو مجھے کسی ایسے آدمی کی طرف رہنمائی کرو جسے میں امیر بنا دوں۔“ چنانچہ میں نے وفد میں سے ایک آدمی کی طرف رہنمائی کی تو آپ ﷺ نے اسے امیر بنا دیا۔
ان لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارا ایک کنواں ہے، سردیوں میں اس کا پانی ہمارے لیے کافی ہوتا ہے اور ہم سب اس پر جمع ہو جاتے ہیں، لیکن گرمیوں میں وہ کم پڑ جاتا ہے اور ہم اپنے آس پاس کے دوسرے پانیوں پر بکھر جاتے ہیں، اور آج ہم بکھرنے کی طاقت نہیں رکھتے کیونکہ ہمارے ارد گرد ہر طرف دشمن ہے۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اس کا پانی ہمارے لیے کافی ہو جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے سات کنکریاں منگوائیں، انہیں اپنی ہتھیلی میں رکھا، پھر فرمایا: ”انہیں لے کر ایک ایک کر کے کنویں میں ڈالو اور اللہ کا نام لو۔“ اس کے بعد وہ لوگ اس کنویں کی تہہ تک دیکھنے کے قابل ہی نہ رہے۔
ان لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارا ایک کنواں ہے، سردیوں میں اس کا پانی ہمارے لیے کافی ہوتا ہے اور ہم سب اس پر جمع ہو جاتے ہیں، لیکن گرمیوں میں وہ کم پڑ جاتا ہے اور ہم اپنے آس پاس کے دوسرے پانیوں پر بکھر جاتے ہیں، اور آج ہم بکھرنے کی طاقت نہیں رکھتے کیونکہ ہمارے ارد گرد ہر طرف دشمن ہے۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اس کا پانی ہمارے لیے کافی ہو جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے سات کنکریاں منگوائیں، انہیں اپنی ہتھیلی میں رکھا، پھر فرمایا: ”انہیں لے کر ایک ایک کر کے کنویں میں ڈالو اور اللہ کا نام لو۔“ اس کے بعد وہ لوگ اس کنویں کی تہہ تک دیکھنے کے قابل ہی نہ رہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ لِلْفَجْرِ، فَجَاءَ بِلَالٌ لِيُقِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ إِنَّ أَخَا صُدَاءَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ»
ترجمہ
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے فجر کی اذان دی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! صداء کے بھائی نے اذان دی ہے، اور جو اذان دے وہی اقامت بھی کہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيُّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، فَقَالَ لِي: «أَذِّنْ يَا أَخَا صُدَاءَ» فَأَذَّنْتُ وَأَنَا عَلَى رَاحِلَتِي
ترجمہ
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، جب فجر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے صداء کے بھائی! اذان دو۔“ چنانچہ میں نے اپنی سواری پر ہی اذان دی۔