حدیث نمبر: 5272
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: «ذَلِكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوْ لَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَلَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِنْهَا؟»
ترجمہ

سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کوئی بات ذکر کی، پھر فرمایا: ”یہ علم کے چلے جانے کے وقت کی بات ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے جا سکتا ہے جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے اے زیاد! میں تو تمہیں مدینہ کے سب سے بڑے فقیہ آدمی میں سے سمجھتا تھا۔ کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات و انجیل نہیں پڑھتے، پھر بھی اس پر کچھ عمل نہیں کرتے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5272
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 265، حدیث 5291