کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْشُدُكَ اللهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللهِ، فَقَالَ الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ: نَعَمْ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ وَأْذَنْ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهَ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونَا إِنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَتَهِ الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ رَدٌّ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاحِدٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ - لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ - عَلَى امْرَأَةٍ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ
ترجمہ
(دوسرا فریق، جو زیادہ سمجھ دار تھا، بولا:) جی ہاں، تو آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور مجھے بولنے کی اجازت دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بولو۔“ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم لازم ہے، تو میں نے اس سے سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر چھڑا لیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر تو صرف سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا: بکریاں اور لونڈی واپس کی جائیں، اور تمہارے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور اے انیس - قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے مخاطب ہو کر - جاؤ اس دوسرے کی بیوی کے پاس، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ وہ صبح اس کے پاس گئے، اس نے اقرار کر لیا تو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اسے سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5169
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 233، حدیث 5188
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونَا أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِوَلِيدَةٍ وَمِائَةِ شَاةٍ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَعَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ - حَسِبْتُهُ - قَالَ: فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَأَمَّا ابْنُكَ فَإِنَّ عَلَيْهِ جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ» وَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ أُنَيْسٌ: «قُمْ يَا أُنَيْسُ فَاسْأَلِ امْرَأَةَ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا»
ترجمہ
(اسی طرح، دوسرا فریق نے عرض کیا:) پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور اس شخص کی بیوی پر رجم ہے، تو آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، بکریاں اور لونڈی تجھے واپس کی جاتی ہیں، اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔“ اور قبیلہ اسلم کے ایک شخص، جسے انیس کہا جاتا تھا، سے فرمایا: ”اے انیس! کھڑے ہو جاؤ اور اس شخص کی بیوی سے پوچھو، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5170
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 234، حدیث 5189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَأْذَنْ لِي بِأَنْ أَتَكَلَّمَ، أَوِ ائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكَلَّمْ» فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا - وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ - فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ» وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرَ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
ترجمہ
(دوسرے، جو زیادہ سمجھ دار تھے، نے کہا:) جی ہاں، یا رسول اللہ! تو آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بات کرو۔“ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا - اور عسیف کا مطلب مزدور ہے - اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم لازم ہے، تو میں نے اس سے سو بکریاں اور اپنی ایک باندی دے کر چھڑا لیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، تمہاری بکریاں اور باندی تمہیں واپس کی جاتی ہیں۔“ اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دیں، چنانچہ اس نے اقرار کیا تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5171
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 234، حدیث 5190
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا مَالِكٌ، وَاللَّيْثُ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، - قَالَ سُفْيَانُ: وَشِبْلٍ، إِنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمْ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا - قَالَ: وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ - فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَنَّ الرَّجْمَ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا جَارِيَتُكَ وَغَنَمُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ» وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
ترجمہ
(دوسرے میں سے ایک نے کہا:) یا رسول اللہ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے۔ اور دوسرے نے، جو زیادہ سمجھ دار تھے، کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیے۔ فرمایا: ”بات کرو۔“ کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا - عسیف یعنی مزدور - اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم لازم ہے، تو میں نے اس سے سو بکریاں اور اپنی ایک باندی دے کر چھڑا لیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، تمہاری باندی اور بکریاں تمہیں واپس کی جاتی ہیں۔“ اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دیں، چنانچہ اس نے اقرار کیا تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5172
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 235، حدیث 5191
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَشِبْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ،
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی، ابوہریرہ اور شبل رضی اللہ عنہم سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5173
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 235، حدیث 5192
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی جو اوپر گزری۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5174
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 235، حدیث 5193
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ مَعْرُوفٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيمَنْ لَمْ يُحْصِنْ: «إِذَا زَنَى جُلِدَ مِائَةً وَتَغْرِيبُ عَامٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو غیر شادی شدہ کے بارے میں یہ فرماتے سنا: ”جب وہ زنا کرے تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال جلاوطن کیا جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5175
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 236، حدیث 5194
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، وَيُونُسَ بْنَ يَزِيدَ، وَغَيْرَهُمَا، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلَيْنِ، أَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْضَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهَ، وَقَالَ الْآخَرُ وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا: أَجَلْ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ» وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يُرْجَمَ امْرَأَةَ الْآخَرَ إِنِ اعْتَرَفَتْ، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
ترجمہ
(دوسرے نے، جو زیادہ سمجھ دار تھے، کہا:) یا رسول اللہ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیے۔ فرمایا: ”بات کرو۔“ کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم لازم ہے، تو میں نے اس سے سو بکریاں اور اپنی ایک باندی دے کر چھڑا لیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، تمہاری بکریاں اور باندی تمہیں واپس کی جاتی ہیں۔“ اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کو، اگر وہ اقرار کرے، سنگسار کریں، چنانچہ اس نے اقرار کیا تو اسے سنگسار کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5176
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 236، حدیث 5195
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ الرَّجْمً عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ» قَالَ: وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يُرْجَمَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَرَجَمَهَا
ترجمہ
(دونوں راویوں نے بتایا کہ) دو آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کرانے آئے، ایک نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجیے۔ فرمایا: ”بات کرو۔“ کہا: یا رسول اللہ! میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم لازم ہے، تو میں نے اس سے سو بکریاں اور باندی دے کر چھڑا لیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور رجم اس کی بیوی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، تمہاری بکریاں اور باندی تمہیں واپس کی جاتی ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کو سنگسار کریں، تو انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5177
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 236، حدیث 5196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَأْمُرُ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصِنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ وَتَغْرِيبِ عَامٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو غیر شادی شدہ کے زنا کرنے پر سو کوڑوں اور ایک سال کی جلاوطنی کا حکم دیتے سنا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5178
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 237، حدیث 5197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصِنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ وَتَغْرِيبِ عَامٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غیر شادی شدہ کے زنا کے بارے میں سو کوڑوں اور ایک سال کی جلاوطنی کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5179
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 237، حدیث 5198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُسَيْدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنْشُدُكَ اللهَ لَمَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا - يَعْنِي أَجِيرَهُ - وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَلَمَّا سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ أَخْبِرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا الْمِائَةُ شَّاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةٍ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَسَأَلَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
ترجمہ
(اس نے عرض کیا:) پھر جب میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ اس شخص کی بیوی پر رجم لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادمہ تجھے واپس کی جاتی ہیں، اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور اے انیس! صبح اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے اقرار کر لیا، تو اسے سنگسار کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5180
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 237، حدیث 5199
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيٌّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ جَاءَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنْشُدُكَ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا بِكِتَابِ اللهِ وَأْذَنْ لِي، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَفَدَيْتُهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ الرَّجْمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَا الْجَارِيَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ» وَقَالَ: «اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَغَدَا إِلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ، فَرَجَمَهَا
ترجمہ
(اس نے کہا:) تو میں نے اسے سو بکریوں اور ایک لونڈی دے کر چھڑا لیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور رجم اس شخص کی بیوی پر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، لونڈی اور بکریاں تجھے واپس کی جاتی ہیں، اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔“ اور فرمایا: ”اے انیس! صبح اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ وہ صبح اس کے پاس گئے تو اس نے اقرار کر لیا، تو اسے سنگسار کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5181
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 238، حدیث 5200
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَا: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ الَّتِي لَمْ تُحْصَنْ، فَقَالَ: «إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِذَا زَنَتْ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ - شَكَّ الزُّهْرِيُّ - فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے اس لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر تیسری یا چوتھی بار زنا کرے - زہری کو شک تھا - تو اسے بیچ دو، چاہے بالوں کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5182
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 238، حدیث 5201
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا أَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ؟ فَقَالَ: «إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «وَلَا أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، وَالضَّفِيرُ هُوَ الْحَبْلُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کرے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اسے بیچ دو، چاہے بالوں کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔“ ابن شہاب کہتے ہیں: ”مجھے یاد نہیں کہ تیسری بار کے بعد تھا یا چوتھی بار کے بعد، اور ضفیر رسی کو کہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5183
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 238، حدیث 5202
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ؟ فَقَالَ: «اجْلِدْهَا» قَالَ: فَإِنْ زَنَتْ؟ قَالَ: «اجْلِدْهَا» ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: «بِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ» وَالضَّفِيرُ حَبَلٌ مِنْ شَعَرٍ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی، ابوہریرہ اور شبل رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص نے اس لونڈی کے بارے میں پوچھا جو غیر شادی شدہ ہوتے ہوئے زنا کرے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کوڑے لگاؤ۔“ اس نے پوچھا: اگر پھر زنا کرے؟ فرمایا: ”اسے کوڑے لگاؤ۔“ پھر تیسری یا چوتھی بار کے بارے میں فرمایا: ”اسے بیچ دو، چاہے بالوں کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5184
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 239، حدیث 5203
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَنَّهُمَا شَهِدَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ؟ قَالَ: «اجْلِدُوهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِعِقَالٍ»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہما گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لونڈی کے زنا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”اسے تین بار کوڑے لگاؤ، پھر اسے بیچ دو، چاہے ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5185
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 239، حدیث 5204
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُسَيْدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا، فَإِنْ عَادَتِ الرَّابِعَةَ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرِ شَعَرٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگائے، پھر اگر دوبارہ کرے تو کوڑے لگائے، پھر اگر دوبارہ کرے تو کوڑے لگائے، پھر اگر چوتھی بار کرے تو اسے بیچ دے، چاہے بالوں کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5186
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 239، حدیث 5205
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدٌ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: «اجْلِدُوهَا إِنْ زَنَتْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ» فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو، جب ان سے اس لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہوتے ہوئے زنا کرے، یہ فرماتے سنا: ”اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر تیسری یا چوتھی بار اسے بیچ دو، چاہے بالوں کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5187
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 239، حدیث 5206
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگائے، پھر اگر زنا کرے تو کوڑے لگائے، پھر اگر زنا کرے تو کوڑے لگائے، پھر اگر زنا کرے تو اسے بیچ دے، چاہے بالوں کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5188
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 240، حدیث 5207
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَلْعَنُهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے مرغے کو، جو رسول اللہ ﷺ کے پاس بولا، بددعا دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بددعا نہ دو، کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5189
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 240، حدیث 5208
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ: «إِنَّهُ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مرغے کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”یہ نماز کے لیے اذان دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5190
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 240، حدیث 5209
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَيَّارٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرغے کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ یہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5191
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 240، حدیث 5210
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَيَّارٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ بِوَقْتٍ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرغے کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ یہ وقت کی اذان دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5192
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 240، حدیث 5211
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ»
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرغے کو برا بھلا نہ کہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5193
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 241، حدیث 5212
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ سَمَاءٍ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرُونَ، فَأَمَّا مَنْ حَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ وَأَثْنَى عَلِيَّ فَذَاكَ آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِالْكَوْكَبِ وَكَفَرَ بِنِعْمَتِي "
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں بارش کے بعد ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا تم نے سنا کہ تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ فرمایا: میں نے اپنے بندوں پر جو بھی نعمت کی، تو ان میں سے ایک گروہ اس کا ناشکرا نکلا۔ جس نے کہا: ہم پر میری بارش اور میری رحمت سے بارش ہوئی، تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستارے کا انکار کیا۔ اور جس نے کہا: ہم پر فلاں فلاں ستارے کے طلوع سے بارش ہوئی، تو وہ ستارے پر ایمان لایا اور میری نعمت کا انکار کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5194
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 241، حدیث 5213
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: مُطِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَصْبَحْنَا: «أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي الْيَوْمَ مُؤْمِنٌ وَكَافِرٌ، فَأَمَّا الَّذِي يَقُولُ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَاكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا الَّذِي يَقُولُ: هَذِهِ رَحْمَةٌ، وَهَذَا رِزْقُ اللهِ فَذَاكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ "
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ میں ہم پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارش ہوئی، جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں - آپ ﷺ نے یہ دو بار فرمایا - پھر فرمایا: ”آج میرے بندوں میں سے ایک مومن ہو گیا اور ایک کافر۔ جس نے کہا: ہم پر فلاں فلاں ستارے کے نوء سے بارش ہوئی، تو وہ میرا منکر اور ستارے کا مومن ہو گیا، اور جس نے کہا: یہ اللہ کی رحمت اور اس کا رزق ہے، تو وہ مجھ پر مومن اور ستارے کا منکر ہو گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5195
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 241، حدیث 5214
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرُونَ يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، وَأَمَّا مَنْ آمَنَ بِي وَحَمِدَنِي عَلَى سُقْيَايَ فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَاكَ الَّذِي آمَنَ بِالْكَوْكَبِ وَكَفَرَ بِي "
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم پر بارش ہوئی، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے تمہارے رب نے آج رات کیا فرمایا؟ فرمایا: میں نے اپنے بندوں پر جو بھی نعمت کی، تو ان میں سے ایک گروہ اس کا ناشکرا نکلا، وہ کہتے ہیں: ہم پر فلاں فلاں ستارے کے نوء سے بارش ہوئی۔ اور جو مجھ پر ایمان لایا اور میری بارش پر میری حمد کی، تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستارے کا منکر ہوا، اور جس نے کہا: ہم پر فلاں فلاں ستارے کے نوء سے بارش ہوئی، تو وہ ستارے پر ایمان لایا اور میرا منکر ہوا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5196
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 241، حدیث 5215
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5197
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 241، حدیث 5216