المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن زيد بن خالد باب: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْشُدُكَ اللهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللهِ، فَقَالَ الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ: نَعَمْ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ وَأْذَنْ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهَ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونَا إِنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَتَهِ الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ رَدٌّ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاحِدٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ - لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ - عَلَى امْرَأَةٍ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ(دوسرا فریق، جو زیادہ سمجھ دار تھا، بولا:) جی ہاں، تو آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجیے، اور مجھے بولنے کی اجازت دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بولو۔“ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم لازم ہے، تو میں نے اس سے سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر چھڑا لیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر تو صرف سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ رجم اس کی بیوی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا: بکریاں اور لونڈی واپس کی جائیں، اور تمہارے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور اے انیس - قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے مخاطب ہو کر - جاؤ اس دوسرے کی بیوی کے پاس، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ وہ صبح اس کے پاس گئے، اس نے اقرار کر لیا تو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اسے سنگسار کر دیا گیا۔