المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن زيد بن خالد باب: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5180
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُسَيْدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنْشُدُكَ اللهَ لَمَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا - يَعْنِي أَجِيرَهُ - وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَلَمَّا سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ أَخْبِرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا الْمِائَةُ شَّاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةٍ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَسَأَلَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَاترجمہ
(اس نے عرض کیا:) پھر جب میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، جبکہ اس شخص کی بیوی پر رجم لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادمہ تجھے واپس کی جاتی ہیں، اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور اے انیس! صبح اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے اقرار کر لیا، تو اسے سنگسار کر دیا۔