کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات، اور مجاہد سے اس روایت میں اختلاف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ، نَهَانَا أَنْ نَعْمَلَ الْأَرْضَ بِبَعْضِ خَرَاجِهَا وبِوَرِقٍ مَنْقُودَةٍ وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ»
ترجمہ
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے نفع بخش تھا - اور رسول اللہ ﷺ کا حکم سر آنکھوں پر ہے - آپ ﷺ نے ہمیں زمین کو اس کی پیداوار کے کچھ حصے یا متعین چاندی کے سکوں کے عوض کاشت کروانے سے منع فرمایا، اور پچھنا لگانے والے کی کمائی سے بھی منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ بِحَائِطٍ فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ: «لِمَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: هُوَ لِي قَالَ: «مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟» قُلْتُ: اسْتَأْجَرْتُهُ قَالَ: «لَا تَسْتَأْجِرْهُ بِشَيْءٍ»
ترجمہ
ابن رافع بن خدیج رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک باغ کے پاس سے گزرے تو وہ آپ ﷺ کو اچھا لگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کس کا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہیں کہاں سے ملا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اسے کرایہ پر لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کسی بھی چیز کے عوض کرایہ پر مت لو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ، وَعُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنَيْنِ، نَهَانَا أَنْ نُكْرِيَ أَرْضَنَا بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وبِوَرِقٍ مَنْقُودَةٍ، وَقَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ»
ترجمہ
…اور رسول اللہ ﷺ کا حکم سر آنکھوں پر ہے، آپ ﷺ نے ہمیں اپنی زمین اس کی پیداوار کے کچھ حصے یا متعین چاندی کے سکوں کے عوض کرایہ پر دینے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو دے دے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، نَهَانَا إِذَا كَانَ لِأَحَدِنَا أَرْضٌ أَنْ يُعْطِيَهَا بِبَعْضِ خَرْجِهَا بِثُلُثٍ أَوْ بِنِصْفٍ وَقَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا، آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم میں سے کسی کے پاس زمین ہو تو وہ اسے تہائی یا آدھی پیداوار کے عوض دے دے، اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو دے دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَاهَانَ الْأُبُلِّيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّهِيدِيُّ، ثنا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ طَاوُسٍ حَتَّى أَدْخَلْتُهُ عَلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَحَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ»
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں طاؤس کا ہاتھ پکڑ کر انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس لے گیا، تو انہوں نے اپنے والد سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا کہ آپ ﷺ نے بنجر زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ أَنَّهُ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: رَاحَ إِلَيْنَا خَالَايَ فَقَالَا: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَاعَةُ اللهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ لَنَا أَنْفَعُ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شام کے وقت میرے دونوں ماموں ہمارے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو دے دے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَنَا رَافِعٌ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَقُ بِنَا، نَهَانَا أَنْ نَزْرَعَ أَرْضًا إِلَّا أَرْضًا يَمْلِكُ أَحَدُنَا رَقَبَتَهَا أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ»
ترجمہ
…کہتے ہیں: سیدنا رافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے نرمی کا باعث تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نرمی کا باعث ہے، آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم کوئی زمین کاشت کریں سوائے اس زمین کے جس کی ملکیت ہم میں سے کسی کی ہو یا وہ عطیہ ہو جو کوئی شخص کسی کو دے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ وَيَشْتَرِطُ ثُلُثَهُ جَدَاوِلَ وَالْقَصَّابِينَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ بِالْحَدِيدِ وَمَا شَاءَ اللهُ، وَنُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً، حَتَّى جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ، «إِذَا اسْتَغْنَى أَحَدُكُمْ عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ يَدَعْ، وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ» . وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَكُونَ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَقُولُ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ "
ترجمہ
…یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو تمہارے لیے فائدہ مند تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کو دے دے یا چھوڑ دے، اور آپ ﷺ تمہیں مزابنہ سے منع فرماتے ہیں۔“ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درخت پر پھلوں کی بڑی مقدار ہو اور کوئی کہے: میں نے اسے اتنے اتنے وسق خشک کھجور کے عوض خرید لیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ ابْنِ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَغْنَى أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ يَدَعْ»
«وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ»
«وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ»
ترجمہ
اسید بن اخی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کو دے دے یا چھوڑ دے۔“
اور آپ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔
اور آپ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ» . وَالْحَقْلُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں 'حقل' سے منع فرمایا۔ اور حقل یہ ہے کہ زمین تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض کرایہ پر دی جائے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا» ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَعْلَمَ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لِأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا حکم بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی کو دے دے یا چھوڑ دے۔“ یہ بات جب طاؤس سے ذکر کی گئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما اس بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے، وہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کو اپنی زمین عطیہ دے، یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَزْرَعُ وَقَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ، فَقَالَ: «لِمَنْ هَذِهِ؟» ، فَقَالَ: لِفُلَانٍ أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کی زمین کے پاس سے گزرے جو کاشت کر رہا تھا، حالانکہ آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ وہ محتاج ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کس کی ہے؟“ اس نے کہا: فلاں شخص کی، اس نے مجھے کرایہ پر دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کاش وہ اسے (بغیر کرایہ کے) اپنے بھائی کو عطیہ دے دیتا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّبَالِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: رَاحَ عُمُومَتِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا، فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ أَنْفَعُ قَالَ: «لِيَزْرَعْ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَوْ يَدَعْهَا بَوَارًا»
ترجمہ
…پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی زمین خود کاشت کرے، یا کسی کو دے دے، یا اسے بنجر ہی چھوڑ دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ أَتَى قَوْمِهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِكُمْ رَافِقًا، وَلَكِنْ طَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا شَقَّ عَلَيْكُمْ خَيْرٌ مِنْ مَعْصِيَتِهِ فِيمَا رَفَقَ بِكُمْ، نَهَاكُمْ أَنْ تُعْطُوا أَرْضَكُمْ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ: «وَلَكِنْ لِيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَزْرَعْهَا أَخَاهُ» فَقَالُوا: إِذَنْ يَكُونُ بُورًا، فَقَالَ: «ذَرُوهَا تَكُونُ بُورًا»
ترجمہ
…لیکن رسول اللہ ﷺ کی اس بات میں اطاعت کرنا جو تم پر دشوار گزرے، اس کی نافرمانی سے بہتر ہے جو تمہارے لیے آسانی کا باعث ہو۔ آپ ﷺ نے تمہیں اپنی زمین تہائی اور چوتھائی پیداوار کے عوض دینے سے منع فرمایا ہے: ”بلکہ وہ خود اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی سے کاشت کرائے۔“ لوگوں نے کہا: تو پھر وہ بنجر رہ جائے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بنجر ہی رہنے دو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى طَاوُسٍ فَحَدَّثْتُهُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ مِنَ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، فَضَرَبَ طَاوُسٌ فِي صَدْرِي وَقَالَ: «تُحَدِّثُنِي عَنْ رَافِعٍ، وَقَدْ عَمِلَ بِهَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ فَأَعْطَى الْأَرْضَ بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ؟»
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں طاؤس کے پاس گیا اور انہیں وہ بات سنائی جو میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے محاقلہ کی ممانعت کے بارے میں سنی تھی، تو طاؤس نے میرے سینے پر مارا اور کہا: ”تم مجھے رافع کی بات سناتے ہو، حالانکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس پر عمل کیا اور زمین آدھے یا تہائی حصے کے عوض دی تھی؟“