المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن رافع بن خديج، عن أبيه والاختلاف على مجاهد في روايته باب: ابن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات، اور مجاہد سے اس روایت میں اختلاف
حدیث نمبر: 4354
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ أَتَى قَوْمِهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِكُمْ رَافِقًا، وَلَكِنْ طَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا شَقَّ عَلَيْكُمْ خَيْرٌ مِنْ مَعْصِيَتِهِ فِيمَا رَفَقَ بِكُمْ، نَهَاكُمْ أَنْ تُعْطُوا أَرْضَكُمْ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ: «وَلَكِنْ لِيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَزْرَعْهَا أَخَاهُ» فَقَالُوا: إِذَنْ يَكُونُ بُورًا، فَقَالَ: «ذَرُوهَا تَكُونُ بُورًا»ترجمہ
…لیکن رسول اللہ ﷺ کی اس بات میں اطاعت کرنا جو تم پر دشوار گزرے، اس کی نافرمانی سے بہتر ہے جو تمہارے لیے آسانی کا باعث ہو۔ آپ ﷺ نے تمہیں اپنی زمین تہائی اور چوتھائی پیداوار کے عوض دینے سے منع فرمایا ہے: ”بلکہ وہ خود اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی سے کاشت کرائے۔“ لوگوں نے کہا: تو پھر وہ بنجر رہ جائے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بنجر ہی رہنے دو۔“