المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن رافع بن خديج، عن أبيه والاختلاف على مجاهد في روايته باب: ابن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات، اور مجاہد سے اس روایت میں اختلاف
حدیث نمبر: 4345
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَنَا رَافِعٌ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَقُ بِنَا، نَهَانَا أَنْ نَزْرَعَ أَرْضًا إِلَّا أَرْضًا يَمْلِكُ أَحَدُنَا رَقَبَتَهَا أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ»ترجمہ
…کہتے ہیں: سیدنا رافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے نرمی کا باعث تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نرمی کا باعث ہے، آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم کوئی زمین کاشت کریں سوائے اس زمین کے جس کی ملکیت ہم میں سے کسی کی ہو یا وہ عطیہ ہو جو کوئی شخص کسی کو دے۔“