المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن رافع بن خديج، عن أبيه والاختلاف على مجاهد في روايته باب: ابن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات، اور مجاہد سے اس روایت میں اختلاف
حدیث نمبر: 4340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ، وَعُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنَيْنِ، نَهَانَا أَنْ نُكْرِيَ أَرْضَنَا بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وبِوَرِقٍ مَنْقُودَةٍ، وَقَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ»ترجمہ
…اور رسول اللہ ﷺ کا حکم سر آنکھوں پر ہے، آپ ﷺ نے ہمیں اپنی زمین اس کی پیداوار کے کچھ حصے یا متعین چاندی کے سکوں کے عوض کرایہ پر دینے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو دے دے۔“