المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن رافع بن خديج، عن أبيه والاختلاف على مجاهد في روايته باب: ابن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات، اور مجاہد سے اس روایت میں اختلاف
حدیث نمبر: 4339
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ بِحَائِطٍ فَأَعْجَبَهُ فَقَالَ: «لِمَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: هُوَ لِي قَالَ: «مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟» قُلْتُ: اسْتَأْجَرْتُهُ قَالَ: «لَا تَسْتَأْجِرْهُ بِشَيْءٍ»ترجمہ
ابن رافع بن خدیج رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک باغ کے پاس سے گزرے تو وہ آپ ﷺ کو اچھا لگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کس کا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہیں کہاں سے ملا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اسے کرایہ پر لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کسی بھی چیز کے عوض کرایہ پر مت لو۔“