کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: اسید بن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُكْرِيَ الْأَرْضَ بِبَعْضِ مَا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے بیٹے اسید بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ نے ہمیں زمین کو اس کی پیداوار کے کچھ حصے کے عوض کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4356
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 266، حدیث 4371
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ رَافِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَافِعًا أَتَى عَشِيرَتَهُ فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، وَفِي أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةٌ وَرُشْدٌ» ، فَقَالُوا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «الْحَقْلُ» . فَقُلْتُ لِأُسَيْدٍ: وَمَا الْحَقْلُ؟ قَالَ: «كَرْيُ الْأَرْضِ» ، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ كَانُوا يُكْرُونَهَا؟ قَالَ: «بِالْأَرْبِعَاءِ وَبِالشَّيْءِ مِنَ الْحَصِيدِ»
ترجمہ
اسید بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے پاس آئے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے نرمی کا باعث تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے حکم میں برکت اور بھلائی ہے۔“ لوگوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”حقل۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے اسید سے پوچھا: حقل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”زمین کرایہ پر دینا۔“ میں نے پوچھا: وہ کس طرح کرایہ پر دیتے تھے؟ فرمایا: ”نالیوں کے کنارے اور فصل کے کچھ حصے کے عوض۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4357
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 266، حدیث 4372