المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن رافع بن خديج، عن أبيه والاختلاف على مجاهد في روايته باب: ابن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات، اور مجاہد سے اس روایت میں اختلاف
حدیث نمبر: 4351
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ، فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا» ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ أَعْلَمَ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لِأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ»ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا حکم بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی کو دے دے یا چھوڑ دے۔“ یہ بات جب طاؤس سے ذکر کی گئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما اس بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے، وہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کو اپنی زمین عطیہ دے، یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“