المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ابن رافع بن خديج، عن أبيه والاختلاف على مجاهد في روايته باب: ابن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات، اور مجاہد سے اس روایت میں اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ وَيَشْتَرِطُ ثُلُثَهُ جَدَاوِلَ وَالْقَصَّابِينَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ بِالْحَدِيدِ وَمَا شَاءَ اللهُ، وَنُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً، حَتَّى جَاءَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ، «إِذَا اسْتَغْنَى أَحَدُكُمْ عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ يَدَعْ، وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ» . وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَكُونَ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَقُولُ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ "امام مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین سے بے نیاز ہو جاتا تو وہ اسے تہائی، چوتھائی یا آدھی پیداوار کے عوض دے دیتا اور نہروں کے کنارے، قصابین اور جو کچھ چشمہ سیراب کرتا اس کا تہائی حصہ شرط کے طور پر رکھتا۔ وہ کہتے ہیں: اور ہم لوہے (کے اوزار) سے کام کیا کرتے تھے اور جو اللہ چاہتا (کرتے) اور اس سے کچھ فائدہ حاصل کرتے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو تمہارے لیے فائدہ مند تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کو دے دے یا چھوڑ دے، اور آپ ﷺ تمہیں مزابنہ سے منع فرماتے ہیں۔“ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درخت پر پھلوں کی بڑی مقدار ہو اور کوئی کہے: میں نے اسے اتنے اتنے وسق خشک کھجور کے عوض خرید لیا ہے۔