کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرٍ مِنْ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ، قَالَ نَافِعٌ: فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ: ابْنُ عُمَرَ مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ تَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَرْيِ الْمَزَارِعِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» . فَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رافع کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ گیا، تو ابن عمر نے پوچھا: مجھے تمہارے بارے میں جو بات پہنچی ہے کہ تم نبی کریم ﷺ سے زمینوں کے کرائے کے بارے میں کچھ روایت کرتے ہو، وہ کیا ہے؟ رافع نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ اس کے بعد جب بھی عبداللہ سے زمینوں کے کرائے کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے: رافع بن خدیج کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَا: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا قَالَ: زَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ رافع بن خدیج نے عبداللہ بن عمر کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا کرتے تھے، تو ابن عمر نے اسے چھوڑ دیا، اور جب بھی ان سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے: رافع کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَخَرَجَ إِلَيْهِ بِالْبَلَاطِ فَسَأَلَهُ: فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» فَتَرَكَ عَبْدُ اللهِ، كِرَاءَهَا
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: ابن عمر زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے، پھر انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں، تو وہ بلاط کے مقام پر ان کے پاس گئے اور ان سے پوچھا، تو رافع نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ عبداللہ نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعًا لَهُ حَتَّى، حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ
ترجمہ
نافع، ابن عمر سے روایت کرتے ہیں: وہ اپنی زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے، تو ابن عمر نے اسے چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ حَتَّى بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِالْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَافِعٌ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» فَتَرَكَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: (انہیں معلوم ہوا) کہ رافع بن خدیج رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بن عمر بلاط کے مقام پر ان کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے پوچھا تو رافع نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ عبداللہ نے یہ چیز چھوڑ دی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى كَاتَبُ الْعُمَرِيِّ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّوِيلِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَافِعٌ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» . فَتَرَكَ إِكْرَاءَهَا عَبْدُ اللهِ
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: (انہیں معلوم ہوا) کہ رافع بن خدیج رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بلاط کی طرف نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے پوچھا تو رافع نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ عبداللہ نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ رافع بن خدیج انصاری نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا» حَتَّى سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: میں نے ابن عمر کو یہ کہتے سنا: ”ہم اپنی زمین کرائے پر دیا کرتے تھے“ یہاں تک کہ ہم نے رافع بن خدیج کی رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْثَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ»
ترجمہ
نافع، ابن عمر کے واسطے سے، رافع بن خدیج سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ يُزَارِعُ أَرْضَهُ، فَلَقِي رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ فَحَدَّثَهُ رَافِعٌ وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر ان کی ملاقات رافع بن خدیج سے ہوئی، تو رافع نے انہیں یہ حدیث بتائی اور اس سے منع کیا اور کہا: ”نبی کریم ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقِصْرِيُّ بِقَصْرِ بْنِ هُبَيْرَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع، ابن عمر کے واسطے سے، رافع بن خدیج سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْكَلَاعِيُّ، ثنا زَيْنُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، لَمَّا سَمِعَ حَدِيثَ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ» . قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا كُنَّا نُكْرِيهَا عَلَى رَبِيعِ السَّاقِي وبِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ التِّبْنِ
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رافع بن خدیج کی یہ حدیث سنی کہ ”رسول اللہ ﷺ نے زمین کے کرائے سے منع فرمایا ہے“، تو ابن عمر نے فرمایا: ہم تو اسے صرف نہر کے کنارے کی پیداوار اور اس میں سے نکلنے والے بھوسے کے کچھ حصے کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا بِشْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ كَانَ يُؤَاجِرُ أَرْضَهُ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ» فَتَرَكَ ذَلِكَ
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرائے پر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج نے انہیں بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے زمین کے کرائے سے منع فرمایا ہے، تو انہوں نے یہ چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سِكِّينٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّلْعِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَأْخُذُ كَرْيَ الْأَرْضِ حَتَّى، حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ»
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: ابن عمر زمین کا کرایہ لیا کرتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کے کرائے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَنَانَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَذْكُرُ غَيْرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دَفَعْنَا إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ؟، فَقَالَ رَافِعٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَّا فَأَعْمَى اللهُ هَاتَيْنِ يَقُولُ: «لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو زمین کرایہ پر دینے سے منع کرتے سنا ہے؟ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو (یہ فرماتے) سنا ہے، ورنہ اللہ میری یہ دونوں آنکھیں اندھی کر دے: آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”زمین کو کسی بھی چیز کے عوض کرایہ پر مت دو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللهَ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدَيَّ أَنَّ عُمُومَتَهُ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَافِعٍ بَعْدَمَا رَوَوْا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو، جبکہ وہ میرے ہاتھوں کا سہارا لیے ہوئے تھے، یہ خبر دی گئی کہ ان کے چچا نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، پھر وہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے جب انہوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى لَقِيَهُ رَافِعٌ فَأَخْبَرَهُ: «بِنَهْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ» . قَالَ نَافِعٌ: وَأَنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ سَأَلَ رَافِعًا
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی اس سے متعلق ممانعت کی خبر دی۔ نافع کہتے ہیں: جب ابن عمر نے رافع سے سوال کیا تو میں ان کے ساتھ تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ» ، فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھیت کرایہ پر دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے بعض چچاؤں سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، أَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ طَاوُسٍ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ طَاوُسٌ عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ فَقَالَ: «كُنَّا نُعْطِي الْأَرْضَ بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ عَلَى مَا فِي الرَّبِيعِ وَعَلَى مَا فِي الْبَعْلِ فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ» ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ضَرَبَ طَاوُسٌ عَلَى يَدَيَّ فَقَالَ: إِنْ كَانَتْ لَكَ أَرْضٌ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ -
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں طاؤس کے ساتھ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو طاؤس نے ان سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم زمین کا کچھ حصہ نہری اور بارانی پیداوار کے آدھے یا تہائی کے عوض دیتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔“ جب طاؤس واپس ہوئے تو انہوں نے میرے ہاتھ پر تھپکی دی اور کہا: اگر تمہاری کوئی زمین ہو تو... اور پھر پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ فَتَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنْ يُكْرِيَهَا»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر دیتے رہے، یہاں تک کہ انہیں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی، تو وہ ان کے پاس گئے اور ان سے پوچھا، انہوں نے بتایا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زمین کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔