کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرٍ مِنْ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ، قَالَ نَافِعٌ: فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ: ابْنُ عُمَرَ مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ تَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَرْيِ الْمَزَارِعِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» . فَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت کے ابتدائی دور میں اپنی زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے۔ پھر ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ گیا، تو ابن عمر نے پوچھا: مجھے تمہارے بارے میں جو بات پہنچی ہے کہ تم نبی کریم ﷺ سے زمینوں کے کرائے کے بارے میں کچھ روایت کرتے ہو، وہ کیا ہے؟ رافع نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ اس کے بعد جب بھی عبداللہ سے زمینوں کے کرائے کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے: رافع بن خدیج کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4287
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 253، حدیث 4302
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَا: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا قَالَ: زَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا کرتے تھے، تو ابن عمر نے اسے چھوڑ دیا، اور جب بھی ان سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے: رافع کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4288
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 253، حدیث 4303
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَخَرَجَ إِلَيْهِ بِالْبَلَاطِ فَسَأَلَهُ: فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» فَتَرَكَ عَبْدُ اللهِ، كِرَاءَهَا
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے، پھر انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں، تو وہ بلاط کے مقام پر ان کے پاس گئے اور ان سے پوچھا، تو رافع نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ عبداللہ نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4289
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 253، حدیث 4304
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعًا لَهُ حَتَّى، حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں: وہ اپنی زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے، تو ابن عمر نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4290
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 254، حدیث 4305
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ حَتَّى بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِالْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَافِعٌ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» فَتَرَكَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ نافع کہتے ہیں: تو عبداللہ بن عمر بلاط کے مقام پر ان کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے پوچھا تو رافع نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ عبداللہ نے یہ چیز چھوڑ دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4291
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 254، حدیث 4306
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى كَاتَبُ الْعُمَرِيِّ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّوِيلِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَافِعٌ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» . فَتَرَكَ إِكْرَاءَهَا عَبْدُ اللهِ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما زمینیں کرائے پر دیا کرتے تھے، اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ نافع کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہما ان کی طرف بلاط کی جانب نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے پوچھا تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4292
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 254، حدیث 4307
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4293
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 254، حدیث 4308
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا» حَتَّى سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا: ”ہم اپنی زمین کرائے پر دیا کرتے تھے“ یہاں تک کہ ہم نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4294
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 254، حدیث 4309
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْثَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَارَعَةِ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4295
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 255، حدیث 4310
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ يُزَارِعُ أَرْضَهُ، فَلَقِي رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ فَحَدَّثَهُ رَافِعٌ وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر ان کی ملاقات سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو رافع نے انہیں یہ حدیث بتائی اور اس سے منع کیا اور کہا: ”نبی کریم ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4296
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 255، حدیث 4311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقِصْرِيُّ بِقَصْرِ بْنِ هُبَيْرَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4297
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 255، حدیث 4312
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْكَلَاعِيُّ، ثنا زَيْنُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، لَمَّا سَمِعَ حَدِيثَ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ» . قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا كُنَّا نُكْرِيهَا عَلَى رَبِيعِ السَّاقِي وبِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ التِّبْنِ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنی کہ ”رسول اللہ ﷺ نے زمین کے کرائے سے منع فرمایا ہے“، تو ابن عمر نے فرمایا: ہم تو اسے صرف نہر کے کنارے کی پیداوار اور اس میں سے نکلنے والے بھوسے کے کچھ حصے کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4298
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 255، حدیث 4313
حَدَّثَنَا بِشْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ كَانَ يُؤَاجِرُ أَرْضَهُ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ» فَتَرَكَ ذَلِكَ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرائے پر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے زمین کے کرائے سے منع فرمایا ہے، تو انہوں نے یہ چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4299
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 255، حدیث 4314
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سِكِّينٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّلْعِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَأْخُذُ كَرْيَ الْأَرْضِ حَتَّى، حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین کا کرایہ لیا کرتے تھے یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کے کرائے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4300
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 255، حدیث 4315
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَنَانَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَذْكُرُ غَيْرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دَفَعْنَا إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ؟، فَقَالَ رَافِعٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَّا فَأَعْمَى اللهُ هَاتَيْنِ يَقُولُ: «لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین اس کی پیداوار کے کچھ حصے کے عوض کرایہ پر دیا کرتے تھے، پھر انہیں خبر پہنچی کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے خلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث جاننے سے پہلے زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ پھر ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو زمین کرایہ پر دینے سے منع کرتے سنا ہے؟ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو (یہ فرماتے) سنا ہے، ورنہ اللہ میری یہ دونوں آنکھیں اندھی کر دے: آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”زمین کو کسی بھی چیز کے عوض کرایہ پر مت دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4301
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 256، حدیث 4316
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4302
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 256، حدیث 4317
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللهَ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدَيَّ أَنَّ عُمُومَتَهُ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَافِعٍ بَعْدَمَا رَوَوْا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو، جبکہ وہ میرے ہاتھوں کا سہارا لیے ہوئے تھے، یہ خبر دی کہ ان (رافع) کے چچا نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، پھر وہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹے اور انہوں نے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4303
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 256، حدیث 4318
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى لَقِيَهُ رَافِعٌ فَأَخْبَرَهُ: «بِنَهْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ» . قَالَ نَافِعٌ: وَأَنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ سَأَلَ رَافِعًا
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی اس سے متعلق ممانعت کی خبر دی۔ نافع کہتے ہیں: جب ابن عمر نے رافع سے سوال کیا تو میں ان کے ساتھ تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4304
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 256، حدیث 4319
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ» ، فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھیت کرایہ پر دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے بعض چچاؤں سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4305
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 256، حدیث 4320
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، أَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ طَاوُسٍ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ طَاوُسٌ عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ فَقَالَ: «كُنَّا نُعْطِي الْأَرْضَ بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ عَلَى مَا فِي الرَّبِيعِ وَعَلَى مَا فِي الْبَعْلِ فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ» ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ضَرَبَ طَاوُسٌ عَلَى يَدَيَّ فَقَالَ: إِنْ كَانَتْ لَكَ أَرْضٌ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ -
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں طاؤس کے ساتھ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو طاؤس نے ان سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم زمین نہری اور بارانی پیداوار کے آدھے اور تہائی کے عوض دیتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔“ جب طاؤس واپس ہوئے تو انہوں نے میرے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور کہا: اگر تمہاری کوئی زمین ہو — پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4306
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 257، حدیث 4321
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ فَتَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنْ يُكْرِيَهَا»
ترجمہ
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر دیتے رہے، یہاں تک کہ انہیں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی، تو وہ ان کے پاس گئے اور ان سے پوچھا، انہوں نے بتایا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زمین کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4307
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 257، حدیث 4322