المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع مولى بن عمر، عن رافع باب: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4292
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى كَاتَبُ الْعُمَرِيِّ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّوِيلِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَافِعٌ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» . فَتَرَكَ إِكْرَاءَهَا عَبْدُ اللهِترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: (انہیں معلوم ہوا) کہ رافع بن خدیج رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بلاط کی طرف نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے پوچھا تو رافع نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ عبداللہ نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔