المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع مولى بن عمر، عن رافع باب: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَنَانَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَذْكُرُ غَيْرَ ذَلِكَ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دَفَعْنَا إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ؟، فَقَالَ رَافِعٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَّا فَأَعْمَى اللهُ هَاتَيْنِ يَقُولُ: «لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ»نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین اس کی پیداوار کے کچھ حصے کے عوض کرایہ پر دیا کرتے تھے، پھر انہیں خبر پہنچی کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے خلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث جاننے سے پہلے زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ پھر ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو زمین کرایہ پر دینے سے منع کرتے سنا ہے؟ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو (یہ فرماتے) سنا ہے، ورنہ اللہ میری یہ دونوں آنکھیں اندھی کر دے: آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”زمین کو کسی بھی چیز کے عوض کرایہ پر مت دو۔“