المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع مولى بن عمر، عن رافع باب: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4291
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ حَتَّى بَلَغَهُ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِالْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَافِعٌ: «نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَرْيِ الْمَزَارِعِ» فَتَرَكَ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: (انہیں معلوم ہوا) کہ رافع بن خدیج رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بن عمر بلاط کے مقام پر ان کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے پوچھا تو رافع نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے زمینوں کے کرائے سے منع فرمایا ہے۔“ چنانچہ عبداللہ نے یہ چیز چھوڑ دی۔