کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا جندرہ بن خیشنہ لیثی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوقرصافہ، بنو لیث بن بکر بن عبدمناۃ بن کنانہ کے مولیٰ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، حَدَّثَتْنِي عَزَّةُ بِنْتُ عِيَاضِ بْنِ أَبِي قِرْصَافَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا قِرْصَافَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِي أَنِّي كُنْتُ يَتِيمًا بَيْنَ أُمِّي وَخَالَتِي، فَكَانَ أَكْثَرُ مَيْلِي إِلَى خَالَتِي، وَكُنْتُ أَرْعَى شُوَيْهَاتٍ لِي، وَكَانَتْ خَالَتِي كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ لِي: يَا بُنَيَّ، لَا تَمُرَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُغْوِيَكَ ويُضِلَّكَ. فَكُنْتُ أَخْرُجُ حَتَّى آتِيَ الْمَرْعَى، فَأَتْرُكَ شُوَيْهَاتِي، ثُمَّ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ عِنْدَهُ أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَرُوحُ بِغَنَمِي ضُمَّرًا يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ، وَقَالَتْ لِي خَالَتِي: مَا لِغَنَمِكَ يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ؟ قُلْتُ: مَا أَدْرِي. ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ الْيَوْمَ الثَّانِيَ، فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، هَاجِرُوا وَتَمَسَّكُوا بِالْإِسْلَامِ، فَإِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا دَامَ الْجِهَادُ» . ثُمَّ إِنِّي رَجَعْتُ بِغَنَمي كَمَا رَجَعْتُ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَلَمْ أَزَلْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعُ مِنْهُ حَتَّى أَسْلَمْتُ وَبَايَعْتُهُ وصافَحْتُهُ بِيَدِي، وشَكَوْتُ إِلَيْهِ أَمْرَ خَالَتِي وَأَمْرَ غَنَمِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جِئْني بِالشِّياهِ» . فَجِئْتُهُ بِهِنَّ، فَمَسَحَ ظُهُورَهُنَّ وضُرُوعَهُنَّ، وَدَعَا فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَامْتَلَأَتْ شَحْمًا وَلَبَنًا، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَى خَالَتِي بِهِنَّ، قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَكَذَا فَارْعَ. قُلْتُ: يَا خَالَةُ، مَا رَعَيْتُ إِلَّا حَيْثُ كُنْتُ أَرْعَى كُلَّ يَوْمٍ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكِ بِقِصَّتي، فَأَخْبَرْتُهَا بِالْقِصَّةِ، وَإِتْيانِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرْتُهَا بِسِيرَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي وَخَالَتِي: اذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ. فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي، فَأَسْلَمْنَ وبايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا صَافَحْنَ. فَهَذَا مَا كَانَ مِنْ إِسْلَامِ أَبِي قِرْصَافَةَ وَهِجْرَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ زِيَادٌ: «وَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يَسْكُنُ أَرْضَ تِهَامَةَ»
ترجمہ
… اور میری خالہ نے مجھ سے کہا: تمہاری بکریوں کے تھن خشک کیوں ہیں؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ پھر میں دوسرے دن دوبارہ ان کے پاس گیا، تو انہوں نے پہلے دن کی طرح ہی کیا، سوائے اس کے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! ہجرت کرو اور اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھو، کیونکہ جب تک جہاد جاری ہے ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔“ پھر میں اپنی بکریوں کے ساتھ اسی طرح واپس آیا جیسے پہلے دن آیا تھا۔ پھر تیسرے دن میں دوبارہ ان کے پاس گیا، اور نبی کریم ﷺ کے پاس ہی رہا، آپ ﷺ سے سنتا رہا، یہاں تک کہ میں مسلمان ہو گیا اور آپ ﷺ سے بیعت کی اور اپنے ہاتھ سے مصافحہ کیا، اور آپ ﷺ سے اپنی خالہ اور اپنی بکریوں کی شکایت کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”بکریاں میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ میں انہیں لے آیا، آپ ﷺ نے ان کی پشتوں اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، تو وہ چربی اور دودھ سے بھر گئیں۔ جب میں انہیں لے کر اپنی خالہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: بیٹا! اسی طرح چراتے رہو۔ میں نے کہا: خالہ! میں نے تو انہیں وہیں چرایا جہاں ہر روز چراتا تھا، لیکن میں آپ کو اپنا قصہ بتاتا ہوں۔ چنانچہ میں نے انہیں پورا قصہ بتایا، اور نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے جانے کا، اور آپ ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کی گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ اس پر میری ماں اور خالہ نے مجھ سے کہا: ہمیں بھی ان کے پاس لے چلو۔ چنانچہ میں، میری ماں اور میری خالہ گئے، تو انہوں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، لیکن مصافحہ نہیں کیا۔ یہ ابوقرصافہ کے اسلام لانے اور نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کا واقعہ ہے۔ زیاد کہتے ہیں: ”ابوقرصافہ سرزمینِ تہامہ میں رہا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، عَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ عَقِبٌ؟» قُلْتُ: لِي أَخٌ. قَالَ: «فَجِئْ بِهِ» . فَرَفَقْتُ بِأَخِي وَكَانَ غُلَامًا صَغِيرًا حَتَّى جَاءَ مَعِي، فَلَمَّا دَنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَرَبَ، فَأَخَذْتُهُ فَضَمَمْتُ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَايَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ اسْمُهُ مِيسَمًا، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمُهُ يَا أَبَا قِرْصَافَةَ؟» قُلْتُ: اسْمُهُ مِيسَمٌ. قَالَ: «بَلِ اسْمُهُ مُسْلِمٌ» . فَقُلْتُ: مُسْلِمٌ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهِ
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرا ایک بھائی ہے۔ فرمایا: ”اسے لے آؤ۔“ چنانچہ میں نے اپنے بھائی سے نرمی کی، وہ ایک چھوٹا لڑکا تھا، یہاں تک کہ وہ میرے ساتھ آ گیا۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کے قریب پہنچا تو بھاگ کھڑا ہوا، تو میں نے اسے پکڑ لیا اور اس کے ہاتھ پاؤں جمع کر دیے، پھر اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا، اور نبی کریم ﷺ نے اس سے بیعت لی۔ اس کا نام میسم تھا، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوقرصافہ! اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اس کا نام میسم ہے۔ فرمایا: ”بلکہ اس کا نام مسلم ہے۔“ میں نے عرض کیا: مسلم آپ کے ساتھ ہے، یا رسول اللہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، عَنْ عَزَّةَ، عَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ أَنَّهُ «رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاهُ، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى»
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ چت لیٹے ہوئے تھے اور ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، عَنْ عَزَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدِّثُوا عَنِّي بِمَا تَسْمَعُونَ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ - وَقَالَ: عَلَيَّ غَيْرَ مَا قُلْتُ - بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي جَهَنَّمَ يَرْتَعُ فِيهِ "
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے وہی بیان کرو جو تم سنتے ہو، اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ مجھ پر جھوٹ باندھے، جو مجھ پر جھوٹ باندھے - یعنی مجھ سے وہ بات کہے جو میں نے نہیں کہی - تو اس کے لیے جہنم میں ایک گھر بنا دیا جائے گا جس میں وہ چرے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، عَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غفار (قبیلہ)، اللہ نے اسے بخش دیا، اور اسلم (قبیلہ)، اللہ نے اسے سلامت رکھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، عَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ يَقُولُ: لَمَّا بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي وَرَجَعْنَا مِنْ عِنْدِهِ مُنْصَرِفِينَ، قَالَتْ لِي أُمِّي وَخَالَتِي: «يَا بُنَيَّ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ هَذَا الرَّجُلِ أَحْسَنَ مِنْهُ وَجْهًا، وَلَا أَنْقَى ثَوْبًا، وَلَا أَلْيَنَ كَلَامًا، وَرَأَيْنَا كَأَنَّ النُّورَ يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ»
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے، میری ماں اور میری خالہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور ہم آپ کے پاس سے واپس لوٹے تو میری ماں اور خالہ نے مجھ سے کہا: ”اے بیٹے! ہم نے اس شخص جیسا کوئی خوبصورت چہرے والا، پاکیزہ لباس والا، اور نرم گفتار والا نہیں دیکھا، اور ہم نے دیکھا کہ گویا ان کے منہ سے نور نکل رہا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ قَوْمًا حَشَرَهُ اللهُ فِي زُمْرَتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی قوم سے محبت رکھے، اللہ اسے قیامت کے دن انہی کے زمرے میں اٹھائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَيُّوبُ، ثنا زِيَادٌ، عَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْنُسًا وَقَالَ: «الْبَسْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک برنس (ٹوپی دار چادر) پہنائی اور فرمایا: ”اسے پہن لو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، عَنْ عَزَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ابْنُوا الْمَسَاجِدَ وَأَخْرِجُوا الْقُمَامَةَ مِنْهَا، فَمَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَذِهِ الْمَسَاجِدُ الَّتِي تُبْنَى فِي الطَّرِيقِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَإِخْرَاجُ الْقُمَامَةِ مِنْهَا مُهُورُ حُورِ الْعِينِ "
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”مساجد بناؤ اور ان سے کوڑا کرکٹ نکالا کرو، جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اور یہ مساجد جو راستے میں بنائی جاتی ہیں (کیا ان کا بھی یہی حکم ہے)؟ فرمایا: ”ہاں، اور ان سے کوڑا نکالنا حورِ عین کا مہر ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ مَرْثَدٍ الْكِنَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَطِيَّةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِرْصَافَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْبَأْسِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”اے اللہ! مجھے سختی کے دن رسوا نہ کرنا، اور قیامت کے دن بھی رسوا نہ کرنا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَزَرِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، حَدَّثَتْنِي عَزَّةُ بِنْتُ عِيَاضِ بْنِ أَبِي قِرْصَافَةَ، قَالَتْ: " أَسَرَ الرُّومُ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ إِذَا كَانَ وَقْتُ كُلِّ صَلَاةٍ صَعِدَ سُوَرَ عَسْقَلَانَ، وَنَادَى: يَا فُلَانُ الصَّلَاةَ، فَسَمِعَهُ وَهُوَ فِي بَلَدِ الرُّومِ "
ترجمہ
عزہ بنت عیاض بن ابی قرصافہ بیان کرتی ہیں: رومیوں نے ابوقرصافہ کے ایک بیٹے کو قید کر لیا تھا، چنانچہ ابوقرصافہ جب بھی کسی نماز کا وقت ہوتا تو عسقلان کی فصیل پر چڑھ جاتے اور پکارتے: اے فلاں! نماز! تو وہ (بیٹا) ان کی آواز روم کے شہر میں (قید ہوتے ہوئے) سنتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْبَأْسِ»
حَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ «يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ ذِكْرُ مَوْلِدِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَصِفَتِهِ وَوَفَاتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
حَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ «يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ ذِكْرُ مَوْلِدِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَصِفَتِهِ وَوَفَاتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
بنو کنانہ کے ایک شیخ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: ”اے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، اور سختی کے دن بھی رسوا نہ کرنا۔“
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد تھی۔ (سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت، حلیے اور وفات کا ذکر)
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد تھی۔ (سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت، حلیے اور وفات کا ذکر)