❮
❯
حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَزَرِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، حَدَّثَتْنِي عَزَّةُ بِنْتُ عِيَاضِ بْنِ أَبِي قِرْصَافَةَ، قَالَتْ: " أَسَرَ الرُّومُ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ إِذَا كَانَ وَقْتُ كُلِّ صَلَاةٍ صَعِدَ سُوَرَ عَسْقَلَانَ، وَنَادَى: يَا فُلَانُ الصَّلَاةَ، فَسَمِعَهُ وَهُوَ فِي بَلَدِ الرُّومِ "
ترجمہ

عزہ بنت عیاض بن ابی قرصافہ بیان کرتی ہیں: رومیوں نے سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو قید کر لیا تھا، چنانچہ ابوقرصافہ جب بھی کسی نماز کا وقت ہوتا تو عسقلان کی فصیل پر چڑھ جاتے اور پکارتے: اے فلاں! نماز! تو وہ (بیٹا) ان کی آواز روم کے شہر میں (قید ہوتے ہوئے) سنتا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2510
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 19، حدیث 2523