المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جندرة بن خيشنة أبو قرصافة الليثي مولى بني ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة باب: سیدنا جندرہ بن خیشنہ لیثی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوقرصافہ، بنو لیث بن بکر بن عبدمناۃ بن کنانہ کے مولیٰ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْهَيْصَمِ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَيَّارٍ، حَدَّثَتْنِي عَزَّةُ بِنْتُ عِيَاضِ بْنِ أَبِي قِرْصَافَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا قِرْصَافَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِي أَنِّي كُنْتُ يَتِيمًا بَيْنَ أُمِّي وَخَالَتِي، فَكَانَ أَكْثَرُ مَيْلِي إِلَى خَالَتِي، وَكُنْتُ أَرْعَى شُوَيْهَاتٍ لِي، وَكَانَتْ خَالَتِي كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ لِي: يَا بُنَيَّ، لَا تَمُرَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُغْوِيَكَ ويُضِلَّكَ. فَكُنْتُ أَخْرُجُ حَتَّى آتِيَ الْمَرْعَى، فَأَتْرُكَ شُوَيْهَاتِي، ثُمَّ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ عِنْدَهُ أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَرُوحُ بِغَنَمِي ضُمَّرًا يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ، وَقَالَتْ لِي خَالَتِي: مَا لِغَنَمِكَ يَابِسَاتِ الضُّرُوعِ؟ قُلْتُ: مَا أَدْرِي. ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ الْيَوْمَ الثَّانِيَ، فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، هَاجِرُوا وَتَمَسَّكُوا بِالْإِسْلَامِ، فَإِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا دَامَ الْجِهَادُ» . ثُمَّ إِنِّي رَجَعْتُ بِغَنَمي كَمَا رَجَعْتُ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَلَمْ أَزَلْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعُ مِنْهُ حَتَّى أَسْلَمْتُ وَبَايَعْتُهُ وصافَحْتُهُ بِيَدِي، وشَكَوْتُ إِلَيْهِ أَمْرَ خَالَتِي وَأَمْرَ غَنَمِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جِئْني بِالشِّياهِ» . فَجِئْتُهُ بِهِنَّ، فَمَسَحَ ظُهُورَهُنَّ وضُرُوعَهُنَّ، وَدَعَا فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَامْتَلَأَتْ شَحْمًا وَلَبَنًا، فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَى خَالَتِي بِهِنَّ، قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَكَذَا فَارْعَ. قُلْتُ: يَا خَالَةُ، مَا رَعَيْتُ إِلَّا حَيْثُ كُنْتُ أَرْعَى كُلَّ يَوْمٍ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكِ بِقِصَّتي، فَأَخْبَرْتُهَا بِالْقِصَّةِ، وَإِتْيانِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرْتُهَا بِسِيرَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي وَخَالَتِي: اذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ. فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي، فَأَسْلَمْنَ وبايَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا صَافَحْنَ. فَهَذَا مَا كَانَ مِنْ إِسْلَامِ أَبِي قِرْصَافَةَ وَهِجْرَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ زِيَادٌ: «وَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يَسْكُنُ أَرْضَ تِهَامَةَ»… اور میری خالہ نے مجھ سے کہا: تمہاری بکریوں کے تھن خشک کیوں ہیں؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ پھر میں دوسرے دن دوبارہ ان کے پاس گیا، تو انہوں نے پہلے دن کی طرح ہی کیا، سوائے اس کے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! ہجرت کرو اور اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھو، کیونکہ جب تک جہاد جاری ہے ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔“ پھر میں اپنی بکریوں کے ساتھ اسی طرح واپس آیا جیسے پہلے دن آیا تھا۔ پھر تیسرے دن میں دوبارہ ان کے پاس گیا، اور نبی کریم ﷺ کے پاس ہی رہا، آپ ﷺ سے سنتا رہا، یہاں تک کہ میں مسلمان ہو گیا اور آپ ﷺ سے بیعت کی اور اپنے ہاتھ سے مصافحہ کیا، اور آپ ﷺ سے اپنی خالہ اور اپنی بکریوں کی شکایت کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”بکریاں میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ میں انہیں لے آیا، آپ ﷺ نے ان کی پشتوں اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، تو وہ چربی اور دودھ سے بھر گئیں۔ جب میں انہیں لے کر اپنی خالہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: بیٹا! اسی طرح چراتے رہو۔ میں نے کہا: خالہ! میں نے تو انہیں وہیں چرایا جہاں ہر روز چراتا تھا، لیکن میں آپ کو اپنا قصہ بتاتا ہوں۔ چنانچہ میں نے انہیں پورا قصہ بتایا، اور نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے جانے کا، اور آپ ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کی گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ اس پر میری ماں اور خالہ نے مجھ سے کہا: ہمیں بھی ان کے پاس لے چلو۔ چنانچہ میں، میری ماں اور میری خالہ گئے، تو انہوں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، لیکن مصافحہ نہیں کیا۔ یہ ابوقرصافہ کے اسلام لانے اور نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کا واقعہ ہے۔ زیاد کہتے ہیں: ”ابوقرصافہ سرزمینِ تہامہ میں رہا کرتے تھے۔“