المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع بن جبير بن مطعم، عن أبيه باب: نافع بن جبیر بن مطعم کی اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسْمًا فِي نَفَرٍ مِنَ النَّاسِ، وَتَبِعَهُ النَّاسُ فَمَرَّ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَتْ بِثِيَابِهِ، فَقَالَ: «رُدُّوا عَلَيَّ ثِيَابِي، أَتَخَافُونَ عَلَيَّ، فَوَاللهِ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَقَسَّمْتُهُ»ترجمہ
نافع بن جبیر رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں میں ایک تقسیم کی، لوگ آپ ﷺ کے پیچھے چل رہے تھے، آپ ﷺ ایک درخت کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پکڑ لیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے کپڑے مجھے واپس دو، کیا تمہیں میرے بارے میں (بخل کا) اندیشہ ہے؟ اللہ کی قسم، اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اسے تقسیم کر دیتا۔“