کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: جو کسی مسلمان کا مال زبردستی چھینے یا اس پر جھوٹی قسم کھائے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن جو عذاب اور غضب تیار کر رکھا ہے، اس کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا كُرْدُوسٌ التَّغْلِبِيُّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍، أَرْضِي اغْتَصَبَهَا أَبُو هَذَا؟ فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ: «مَا تَقُولُ؟» قَالَ: أَقُولُ: إِنَّ أَرْضِي فِي يَدِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ؟» قَالَ: لَا، وَلَكِنْ يَحْلِفُ يَا رَسُولَ اللهِ بِالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ هُوَ، مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالًا إِلَّا لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ» فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ
ترجمہ
…اور ایک شخص حضرموت سے، دونوں یمن میں ایک زمین کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑے کے لیے آئے، تو حضرمی نے کہا: یا رسول اللہ! میری زمین اس کے باپ نے چھین لی ہے۔ آپ ﷺ نے کندی سے فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو؟“ اس نے کہا: میں کہتا ہوں کہ میری زمین میرے قبضے میں ہے، میں نے اپنے باپ سے وراثت میں پائی ہے۔ آپ ﷺ نے حضرمی سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، لیکن یا رسول اللہ! یہ اس ذات کی قسم کھا لے جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں کہ اسے معلوم نہیں کہ یہ میری زمین ہے جو اس کے باپ نے چھینی تھی۔ چنانچہ کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی کا مال ناحق ہتھیا لے، وہ قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا (یا بےکار) ہوگا۔“ تو کندی نے وہ زمین واپس کر دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 633
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 233، حدیث 637
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْحَضْرَمِيِّينَ رَجُلًا مِنَّا، يُقَالُ لَهُ: الْحَفْشِيشُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «جِئْ بِشُهُودِكَ عَلَى حَقِّكَ، وَإِلَّا حَلَفَ لَكَ» قَالَ لَهُ: أَرْضِي أَعْظَمُ شَأْنًا مِنْ أَنْ لَا يَحْلِفَ عَلَيْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ يَمِينَ الْمُسْلِمِ مِنْ وَرَاءِ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ» فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ هُوَ حَلَفَ كَاذِبًا، أَدْخَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّارَ» ، فَانْطَلَقَ الْأَشْعَثُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَصْلِحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ
…وہ کہتے ہیں: حضرمیوں میں سے ایک شخص نے ہم میں سے ایک شخص کے خلاف، جسے حفشیش کہا جاتا تھا، نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی زمین کے بارے میں جھگڑا کیا، تو نبی کریم ﷺ نے حضرمی سے فرمایا: ”اپنے حق پر اپنے گواہ لاؤ، ورنہ وہ تمہارے لیے قسم کھائے گا۔“ اس نے کہا: میری زمین اس سے بہت بڑی ہے کہ اس پر قسم نہ کھائی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کی قسم اس سے بھی بڑی چیز کے پیچھے (چھپی) ہے۔“ تو وہ (اشعث) قسم کھانے چلا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے جھوٹی قسم کھائی تو اللہ عزوجل اسے جہنم میں داخل کرے گا۔“ چنانچہ اشعث چلے گئے اور اسے یہ بات بتائی، تو اس نے کہا: میرے اور اس کے درمیان صلح کروا دو، چنانچہ ان کے درمیان صلح کروا دی گئی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 634
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 233، حدیث 638
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ الْقَاضِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: لَقَدِ اشْتَرَيْتُ يَمِينِي مَرَّةً بِسَبْعِينَ أَلْفًا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»
ترجمہ
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک بار اپنی قسم ستر ہزار (درہم) میں خریدی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا: ”جو شخص کسی مسلمان کا حق جھوٹی قسم سے چھین لے وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 635
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 234، حدیث 639
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: كَانَتْ لِي أَرْضٌ فِي يَدِ عَمٍّ لِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ» قُلْتُ: يَحْلِفُ إِذًا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ
…سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: میری ایک زمین میرے چچا کے قبضے میں تھی، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس گواہ ہے یا اس کی قسم؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو پھر وہ قسم کھا لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال چھین لے اور وہ اس میں فاجر ہو، وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بےشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 77]، آیت کے آخر تک۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 636
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 234، حدیث 640
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: " نَزَلَتْ فِيَّ هَذِهِ الْآيَةُ، خَاصَمْتُ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] "
ترجمہ
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، میں نے ایک شخص کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھگڑا کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”بےشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 77]۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 637
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 234، حدیث 641
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهِ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ، فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ لَنَا خَاصَمْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنْ لِي بَيِّنَةٌ، فَقَالَ: «أُحَلِّفُهُ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذًا يَحْلِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» وَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ
…عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال چھین لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اتنے میں اشعث (رضی اللہ عنہ) اندر آئے اور پوچھا: ابوعبدالرحمن (عبداللہ بن مسعود) نے تم سے کیا بیان کیا؟ ہم نے کہا: فلاں فلاں بات۔ انہوں نے فرمایا: یہ (آیت) میرے بارے میں نازل ہوئی، میرا اور ایک شخص کا ہماری ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا، میں نبی کریم ﷺ کے سامنے جھگڑنے گیا، میرے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس سے قسم لوں؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو وہ قسم کھا لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال چھین لے اور وہ اس میں فاجر ہو، وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اور یہ آیت نازل ہوئی: ”بےشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 77]، آیت کے آخر تک۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 638
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 234، حدیث 642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ تَدَارٍ فِي مَالٍ - أَوْ أَرْضٍ - فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «لَكَ بَيِّنَةٌ؟» فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَسَيُسْتَحْلَفُ صَاحِبُكَ» قَالَ: إِذًا يَحْلِفُ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ
…سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، میرا اور ایک شخص کا کسی مال - یا زمین - کے بارے میں جھگڑا تھا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہارے ساتھی سے قسم لی جائے گی۔“ میں نے کہا: تو وہ قسم کھا لے گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”بےشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 77]، آیت کے آخر تک۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 639
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 235، حدیث 643
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، عَفَا عَنْهُ، أَوْ عَاقَبَهُ»
ترجمہ
…سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال چھین لے، وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا، پھر (چاہے) وہ اسے معاف کر دے یا سزا دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 640
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 235، حدیث 644