المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب فيما أعد الله من عقابه، وغضبه يوم القيامة لمن اغتصب مال مسلم، أو حلف عليه بيمين كاذبة باب: جو کسی مسلمان کا مال زبردستی چھینے یا اس پر جھوٹی قسم کھائے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن جو عذاب اور غضب تیار کر رکھا ہے، اس کا بیان
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهِ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ، فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ لَنَا خَاصَمْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنْ لِي بَيِّنَةٌ، فَقَالَ: «أُحَلِّفُهُ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِذًا يَحْلِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» وَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ…عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال چھین لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اتنے میں اشعث (رضی اللہ عنہ) اندر آئے اور پوچھا: ابوعبدالرحمن (عبداللہ بن مسعود) نے تم سے کیا بیان کیا؟ ہم نے کہا: فلاں فلاں بات۔ انہوں نے فرمایا: یہ (آیت) میرے بارے میں نازل ہوئی، میرا اور ایک شخص کا ہماری ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا، میں نبی کریم ﷺ کے سامنے جھگڑنے گیا، میرے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس سے قسم لوں؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو وہ قسم کھا لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال چھین لے اور وہ اس میں فاجر ہو، وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اور یہ آیت نازل ہوئی: ”بےشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 77]، آیت کے آخر تک۔