المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب فيما أعد الله من عقابه، وغضبه يوم القيامة لمن اغتصب مال مسلم، أو حلف عليه بيمين كاذبة باب: جو کسی مسلمان کا مال زبردستی چھینے یا اس پر جھوٹی قسم کھائے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن جو عذاب اور غضب تیار کر رکھا ہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ الْقَاضِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: لَقَدِ اشْتَرَيْتُ يَمِينِي مَرَّةً بِسَبْعِينَ أَلْفًا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»ترجمہ
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک بار اپنی قسم ستر ہزار (درہم) میں خریدی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا تھا: ”جو شخص کسی مسلمان کا حق جھوٹی قسم سے چھین لے وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“