حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا كُرْدُوسٌ التَّغْلِبِيُّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍، أَرْضِي اغْتَصَبَهَا أَبُو هَذَا؟ فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ: «مَا تَقُولُ؟» قَالَ: أَقُولُ: إِنَّ أَرْضِي فِي يَدِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ؟» قَالَ: لَا، وَلَكِنْ يَحْلِفُ يَا رَسُولَ اللهِ بِالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ هُوَ، مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالًا إِلَّا لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ» فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ
ترجمہ

…اور ایک شخص حضرموت سے، دونوں یمن میں ایک زمین کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑے کے لیے آئے، تو حضرمی نے کہا: یا رسول اللہ! میری زمین اس کے باپ نے چھین لی ہے۔ آپ ﷺ نے کندی سے فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو؟“ اس نے کہا: میں کہتا ہوں کہ میری زمین میرے قبضے میں ہے، میں نے اپنے باپ سے وراثت میں پائی ہے۔ آپ ﷺ نے حضرمی سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، لیکن یا رسول اللہ! یہ اس ذات کی قسم کھا لے جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں کہ اسے معلوم نہیں کہ یہ میری زمین ہے جو اس کے باپ نے چھینی تھی۔ چنانچہ کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی کا مال ناحق ہتھیا لے، وہ قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا (یا بےکار) ہوگا۔“ تو کندی نے وہ زمین واپس کر دی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 633
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 233، حدیث 637