المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب فيما أعد الله من عقابه، وغضبه يوم القيامة لمن اغتصب مال مسلم، أو حلف عليه بيمين كاذبة باب: جو کسی مسلمان کا مال زبردستی چھینے یا اس پر جھوٹی قسم کھائے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن جو عذاب اور غضب تیار کر رکھا ہے، اس کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْحَضْرَمِيِّينَ رَجُلًا مِنَّا، يُقَالُ لَهُ: الْحَفْشِيشُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «جِئْ بِشُهُودِكَ عَلَى حَقِّكَ، وَإِلَّا حَلَفَ لَكَ» قَالَ لَهُ: أَرْضِي أَعْظَمُ شَأْنًا مِنْ أَنْ لَا يَحْلِفَ عَلَيْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ يَمِينَ الْمُسْلِمِ مِنْ وَرَاءِ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ» فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ هُوَ حَلَفَ كَاذِبًا، أَدْخَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّارَ» ، فَانْطَلَقَ الْأَشْعَثُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَصْلِحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمَا…وہ کہتے ہیں: حضرمیوں میں سے ایک شخص نے ہم میں سے ایک شخص کے خلاف، جسے حفشیش کہا جاتا تھا، نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی زمین کے بارے میں جھگڑا کیا، تو نبی کریم ﷺ نے حضرمی سے فرمایا: ”اپنے حق پر اپنے گواہ لاؤ، ورنہ وہ تمہارے لیے قسم کھائے گا۔“ اس نے کہا: میری زمین اس سے بہت بڑی ہے کہ اس پر قسم نہ کھائی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کی قسم اس سے بھی بڑی چیز کے پیچھے (چھپی) ہے۔“ تو وہ (اشعث) قسم کھانے چلا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے جھوٹی قسم کھائی تو اللہ عزوجل اسے جہنم میں داخل کرے گا۔“ چنانچہ اشعث چلے گئے اور اسے یہ بات بتائی، تو اس نے کہا: میرے اور اس کے درمیان صلح کروا دو، چنانچہ ان کے درمیان صلح کروا دی گئی۔