حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: «أَسْلَمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ»
ترجمہ
عروہ بن زبیر کہتے ہیں: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے آٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَغَيْرِهِ، قَالَ: «فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، أَوْ سِتَّ عَشْرَةَ»
ترجمہ
قتادہ، حسن (بصری) اور دوسروں سے روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے ایمان لانے والے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، اور وہ پندرہ یا سولہ سال کے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، يَوْمَ سَبْعَةَ عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، سَنَةَ أَرْبَعِينَ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن، رمضان کی سترہ (17) تاریخ کو، سنہ 40 ہجری میں شہید کر دیے گئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْقَزَّازُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَعْفَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «تُوُفِّيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً»
ترجمہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر تریسٹھ (63) برس تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «تُوُفِّيَ عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
سفیان، جعفر بن محمد کے واسطے سے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر اٹھاون (58) برس تھی۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عَوَانَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحُمِلَ إِلَى مَنْزِلِهِ، أَتَاهُ الْعُوَّادُ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " كُلُّ امْرِئٍ مُلَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْهُ فِي فِرَارِهِ، وَالْأَجَلُ مُسَاقُ النَّفْسِ، وَالْهَرَبُ مِنْ آفَاتِهِ كَمْ أَطْرَدْتُ الْأَيَّامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الْأَمْرِ وَأَبَى الله عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا إِخْفَاءَهُ هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ، أَمَّا وَصِيَّتِي إِيَّاكُمْ فَاللهَ عَزَّ وَجَلَّ، لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَمُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَضُيِّعُوا سُنَّتَهُ، أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ، وَخَلَاكُمْ ذَمُّ مَا لَمْ يُشَرَّدُوا، وَأُحْمِلَ كُلُّ امْرِئٍ مَجْهُودَهُ، وَخُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ بِرَبٍّ رَحِيمٍ، وَدِينٍ قَوِيمٍ وَإِمَامٍ عَلِيمٍ، كُنَّا فِي رِيَاحٍ وَذَرِيِّ أَغْصَانٍ، وَتَحْتَ ظِلِّ غَمَامَةٍ اضْمَحَلَّ مَرْكَزُهَا فَيَحُطُّهَا عَانٍ، جَاوَرَكُمْ تُدْنِي أَيَّامًا تِبَاعًا، ثُمَّ هَوًى فَسَتُعْقَبُونَ مِنْ بَعْدِهِ جُثَّةً خَوَاءً سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَكَةٍ كَاظِمَةً، بَعْدَ نُطُوقٍ، إِنَّهُ أَوْعَظُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنْ نُطْقِ الْبَلِيغِ، وَدَاعِيكُمْ دَاعِي مُرْصَدٍ لِلتَّلَاقِ غَدًا تَرَوْنَ أَيَّامِي، وَيُكْشَفُ عَنْ سَرَائِرِي لَنْ يُحَابِيَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَنْ أَتَزَلَّفَهُ بِتَقْوًى فَيَغْفِرَ عَنْ فَرَطٍ مَوْعُودٍ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ إِلَى يَوْمِ اللِّزَامِ إِنْ أَبْقَ، فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي، وَإِنْ أفْنَ فَالْفَنَاءُ مِيعَادِي، الْعَفْوُ لِي قُرْبَةٌ، وَلَكُمْ حَسَنَةٌ، فَاعْفُوا عَفَا اللهُ عَنَّا وَعَنْكُمْ {أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ، وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: ٢٢] ثُمَّ قَالَ:
[البحر الكامل]
عِشْ مَا بَدَا لَكَ، قَصْرُكَ الْمَوْتُ ... لَا مُرَحِّلٌ عَنْهُ، وَلَا فَوْتُ
بَيْنَا غِنَى بَيْتٍ وَبَهْجَةٍ ... زَالَ الْغِنَى وَتَقَوَّضَ الْبَيْتُ
يَا لَيْتَ شِعْرِي مَا يُرَادُ بِنَا ... وَلقَلَّ مَا يُجْدِي لَنَا لَيْتُ "
[البحر الكامل]
عِشْ مَا بَدَا لَكَ، قَصْرُكَ الْمَوْتُ ... لَا مُرَحِّلٌ عَنْهُ، وَلَا فَوْتُ
بَيْنَا غِنَى بَيْتٍ وَبَهْجَةٍ ... زَالَ الْغِنَى وَتَقَوَّضَ الْبَيْتُ
يَا لَيْتَ شِعْرِي مَا يُرَادُ بِنَا ... وَلقَلَّ مَا يُجْدِي لَنَا لَيْتُ "
ترجمہ
عوانہ بن حکم کہتے ہیں: جب عبدالرحمٰن بن ملجم نے علی رضی اللہ عنہ پر تلوار سے وار کیا اور انہیں ان کے گھر لے جایا گیا تو عیادت کرنے والے ان کے پاس آئے، تو انہوں نے اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی، اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، پھر فرمایا: ”ہر شخص کو اس چیز سے ملنا ہے جس سے وہ بھاگ کر دور رہنا چاہتا ہے۔ موت جان کو ہانک لے جانے والی ہے، اور اس کی آفتوں سے بھاگنا (بےسود ہے)۔ میں نے کتنے ہی دن اس بات کی تلاش میں گزارے کہ اس معاملے کا چھپا ہوا راز جان لوں، مگر اللہ عزوجل نے اس کے سوا کچھ نہ چاہا کہ اسے پوشیدہ رکھے۔ افسوس، یہ علم تو محفوظ ہے۔ جہاں تک تمہارے لیے میری وصیت کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے: اللہ عزوجل کے بارے میں - اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا - اور محمد ﷺ کے بارے میں - ان کی سنت کو ضائع نہ کرنا - ان دونوں ستونوں کو قائم رکھو، اور جب تک تم منتشر نہ ہو جاؤ تم پر کوئی ملامت نہیں۔ ہر شخص اپنی محنت کا بوجھ اٹھائے گا، اور جاہلوں سے ایک رحیم رب، ایک سیدھے دین، اور ایک باعلم امام کی بدولت سزا ہلکی کر دی گئی۔ ہم ہواؤں اور شاخوں کے جھونکوں میں، اور ایک بادل کے سائے تلے تھے جس کا مرکز بکھر گیا تو وہ بادل ایک بے سہارا مسافر کو اتار دیتا ہے۔ دنیا تمہارے قریب رہی، پے در پے دن قریب لاتی رہی، پھر ڈھل گئی، تو اس کے بعد تمہیں ایک خالی، ساکن جسد ملے گا، حرکت کے بعد خاموش، بولنے کے بعد چپ - یہ عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے کسی فصیح خطیب کے کلام سے بڑھ کر نصیحت آموز ہے۔ اور تمہیں بلانے والا، کل ملاقات کے لیے تاک میں بیٹھا بلانے والا ہے۔ کل تم میرے دن کے حالات دیکھو گے، اور میرے راز کھولے جائیں گے۔ اللہ عزوجل مجھ پر مہربانی نہ کرے گا، سوائے اس کے کہ میں تقویٰ کے ذریعے اس کا قرب حاصل کروں، تو وہ میری کسی کوتاہی کو معاف کر دے۔ تم پر سلامتی ہو، ملاقات کے دن تک۔ اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا خود مختار ہوں، اور اگر میں فنا ہو گیا تو فنا ہی میرا وعدہ گاہ ہے۔ معاف کر دینا میرے لیے قربت اور تمہارے لیے نیکی ہے، تو معاف کر دو، اللہ ہمیں اور تمہیں معاف فرمائے: ”کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟ اور اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے“ [النور: 22]۔“ پھر فرمایا:
”جتنا چاہے زندہ رہ، تیرا ٹھکانہ موت ہی ہے، نہ اس سے کوچ ٹل سکتا ہے اور نہ اس سے بچاؤ۔
ابھی گھر کی خوشحالی اور رونق قائم تھی کہ خوشحالی جاتی رہی اور گھر ڈھے گیا۔
کاش مجھے معلوم ہوتا کہ ہمارے ساتھ کیا ارادہ کیا جاتا ہے، اور ”کاش“ کہنے سے ہمیں کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔“
”جتنا چاہے زندہ رہ، تیرا ٹھکانہ موت ہی ہے، نہ اس سے کوچ ٹل سکتا ہے اور نہ اس سے بچاؤ۔
ابھی گھر کی خوشحالی اور رونق قائم تھی کہ خوشحالی جاتی رہی اور گھر ڈھے گیا۔
کاش مجھے معلوم ہوتا کہ ہمارے ساتھ کیا ارادہ کیا جاتا ہے، اور ”کاش“ کہنے سے ہمیں کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: كَانَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُلْجَمٍ لَعَنَهُ اللهُ وَأَصْحَابَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُلْجَمٍ وَالْبَرْكَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَعَمْرَو بْنَ بَكْرٍ التَّمِيمِيَّ، اجْتَمَعُوا بِمَكَّةَ فَذَكَرُوا أَمْرَ النَّاسِ، وَعَابُوا عَمَلَ وُلَاتِهِمْ، ثُمَّ ذَكَرُوا أَهْلَ النَّهَرِ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا نَصْنَعُ بِالْبَقَاءِ بَعْدَهُمْ شَيْئًا، إِخْوَانُنَا الَّذِينَ كَانُوا دُعَاةَ النَّاسِ لِعِبَادَةِ رَبِّهِمُ الَّذِينَ كَانُوا لَا يَخَافُونَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَلَوْ شَرَيْنَا أَنْفُسَنَا، فَأَتَيْنَا أَئِمَّةَ الضَّلَالَةِ فَالْتَمَسْنَا قَتْلَهُمْ، فَأَرَحْنَا مِنْهُمُ الْبِلَادَ وَثَأَرْنَا بِهِمْ إِخْوَانَنَا، قَالَ ابْنُ مُلْجَمٍ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ -: أَنَا أَكْفِيكُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَقَالَ الْبَرْكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: أَنَا أَكْفِيكُمْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ التَّمِيمِيُّ: أَنَا أَكْفِيكُمْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَتَعَاهَدُوا وَتَوَاثَقُوا بِاللهِ، لَا يَنْكُصُ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ حَتَّى يَقْتُلَهُ، أَوْ يَمُوتَ دُونَهُ، فَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ، فَسَمُّوها وَاتَّعَدُوا لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَثِبَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي تَوَجَّهَ إِلَيْهِ، وَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ إِلَى الْمِصْرِ الَّذِي فِيهِ صَاحِبُهُ الَّذِي يَطْلُبُ، فَأَمَّا ابْنُ الْمُلْجَمِ الْمُرَادِيُّ، فَأَتَى أَصْحَابَهُ بِالْكُوفَةِ وَكَاتَمَهُمْ أَمْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُظْهِرُوا شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ، وَأَنَّهُ لَقِيَ أَصْحَابًا لَهُ مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ وَقَدْ قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مِنْهُمْ عِدَّةً يَوْمَ النَّهَرِ، فَذَكَرُوا قَتْلَاهُمْ فَتَرَحَّمُوا عَلَيْهِمْ، قَالَ: وَلَقِيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ يُقَالُ لَهَا قَطَامُ بِنْتُ الشَّحنةِ وَقَدْ قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبَاهَا، وَأَخَاهَا يَوْمَ النَّهَرِ، وَكَانَتْ فَائِقَةَ الْجَمَالِ، فَلَمَّا رَآهَا الْتَبَسَتْ بِعَقْلِهِ وَنَسِيَ حَاجَتَهُ الَّتِي جَاءَ لَهَا، فَخَطَبَهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تَشْتَفِيَ لِي، قَالَ: وَمَا تَشَائِينَ؟ قَالَتْ: ثَلَاثَةُ آلَافٍ، وَعَبْدٌ، وَقَيْنَةٌ، وَقَتْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: هُوَ مَهْرٌ لَكَ، فَأَمَّا قَتْلُ عَلِيٍّ فَمَا أَرَاكِ ذَكَرْتِيهِ لِي وَأَنْتِ تُرِيدِينَهُ؟ قَالَتْ: بَلَى، فَالْتَمِسْ غُرَّتَهُ فَإِنْ أَصَبْتَهُ شَفَيْتَ نَفْسَكَ وَنَفْسِي، وَنَفَعَكَ الْعَيْشُ مَعِي، وَإِنْ قُتِلْتَ فَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِي إِلَى هَذَا الْمِصْرِ إِلَّا قَتْلُ عَلِيٍّ، قَالَتْ: فَإِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَأَخْبِرْنِي حَتَّى أَطْلُبَ لَكَ مَنْ يَشُدُّ ظَهْرَكَ، وَيُسَاعِدُكَ عَلَى أَمْرِكَ، فَبَعَثَتْ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهَا مِنْ تَيْمِ الرَّبَابِ، يُقَالُ لَهُ: وَرْدَانُ، فَكَلَّمَتْهُ، فَأَجَابَهَا، وَأَتَى ابْنُ مُلْجَمٍ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ: شَبِيبُ بْنُ نَجْدَةً، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي شَرَفِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَتْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِدًّا، كَيْفَ تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ؟ قَالَ: أَكْمُنُ لَهُ فِي السَّحَرِ فَإِذَا خَرَجَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ شَدَدْنَا عَلَيْهِ فَقَتَلْنَاهُ، فَإِنْ نَجَوْنَا شَفَيْنَا أَنْفُسَنَا وَأَدْرَكْنَا ثَأْرَنَا، وَإِنْ قُتِلْنَا فَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَزِبْرِجِ أَهْلِهَا، قَالَ: وَيْحَكَ لَوْ كَانَ غَيْرَ عَلِيٍّ كَانَ أَهْوَنَ عَلَيَّ، قَدْ عَرَفْتُ بَلَاءَهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَسَابِقَتَهُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا أَجِدُنِي أنْشَرِحُ لِقَتْلِهِ، قَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهَرِ الْعُبَّادَ الْمُصَلِّينَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَقَتْلُهُ بِمَا قَتَلَ مِنْ إِخْوَانِنَا، فَأَجَابَهُ فَجَاءُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى قَطَامِ وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ مُعْتَكِفَةٌ فِيهِ، فَقَالُوا لَهَا: قَدْ أَجْمَعَ رَأْيُنَا عَلَى قَتْلِ عَلِيٍّ، قَالَتْ: فَإِذَا أَرَدْتُمْ ذَلِكَ فَائْتُونِي، فَجَاءَ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَاعَدْتُ فِيهَا صَاحِبِي أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا صَاحِبَهُ، فَدَعَتْ لَهُمْ بِالْحَرِيرِ فَعَصَّبَتْهُمْ، وَأَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ وَجَلَسُوا مُقَابِلَ السُّدَةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا عَلِيٌّ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَجَعَلَ يُنَادِي: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَشَدَّ عَلَيْهِ شَبِيبٌ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ، فَوَقَعَ السَّيْفُ بِعِضَادَةِ الْبَابِ - أَوْ بِالطَّاقِ - فَشَدَّ عَلَيْهِ ابْنُ مُلْجَمٍ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فِي قَرْنِهِ، وَهَرَبَ وَرْدَانُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمِّهِ، وَهُوَ يَنْزِعُ الْحَرِيرَ وَالسَّيْفَ عَنْ صَدْرِهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا السَّيْفُ وَالْحَرِيرُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَذَهَبَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَجَاءَ بِسَيْفِهِ فَضَرَبَهُ، حَتَّى قَتَلَهُ وَخَرَجَ شَبِيبٌ نَحْوَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ إِلَّا أَنَّ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ يُقَالُ لَهُ: عُوَيْمِرٌ ضَرَبُ رِجْلَهُ بِالسَّيْفِ فَصَرَعَهُ وَجَثَمَ عَلَيْهِ الْحَضْرَمِيُّ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ قَدْ أَقْبَلُوا فِي طَلَبِهِ، وَسَيْفُ شَبِيبٍ فِي يَدِهِ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ فَتَرَكَهُ، فَنَجَا بِنَفْسِهِ وَنَجَا شَبِيبٌ فِي غِمَارِ النَّاسِ، وَخَرَجَ ابْنُ مُلْجَمٍ فَشَدَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ هَمْدَانَ يُكَنَّى: أَبَا أَدَمَا فَضَرَبَ رِجْلَهُ وَصَرَعَهُ، وَتَأَخَّرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَفَعَ فِي ظَهْرِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ بْنِ أَبِي وَهْبٍ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ الْغَدَاةَ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، وَذَكَرُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ: وَاللهِ إِنِّي لِأُصَلِّي تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا عَلِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ، قَرِيبًا مِنَ السُّدَّةِ فِي رِجَالٍ كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ الْمِصْرِ مَا فِيهِمْ إِلَّا قِيَامٌ وَرُكُوعٌ وَسُجُودٌ وَمَا يَسْأَمُونَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِهِ، إِذْ خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَجَعَلَ يُنَادِي: أَيُّهَا النَّاسُ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَمَا أَدْرِي أَتَكَلَّمَ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَوْ نَظَرْتُ إِلَى بَرِيقِ السُّيُوفِ، وَسَمِعْتُ: الْحُكْمُ للَّهِ، لَا لَكَ يَا عَلِيُّ وَلَا لِأَصْحَابِكَ، فَرَأَيْتُ سَيْفًا، ثُمَّ رَأَيْتُ نَاسًا، وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: لَا يَفُوتُكُمُ الرَّجُلُ، وَشَدَّ عَلَيْهِ النَّاسُ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أُخِذَ ابْنُ مُلْجَمٍ فَأُدْخِلَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ مِنِ النَّاسِ، فَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، إِنْ هَلَكْتُ فَاقْتُلُوهُ كَمَا قَتَلَنِي، وَإِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي، وَلَمَّا أُدْخِلَ ابْنُ مُلْجَمٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا عَدُوَّ اللهِ، أَلَمْ أُحْسِنْ إِلَيْكَ؟ أَلَمْ أَفْعَلْ بِكَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: شَحَذْتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَسَأَلْتُ اللهَ أَنْ يَقْتُلَ بِهِ شَرَّ خَلْقِهِ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أُرَاكَ إِلَّا مَقْتُولًا بِهِ، وَمَا أُرَاكَ إِلَّا مِنْ شَرِّ خَلْقِ اللهِ، وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ مَكْتُوفًا بَيْنَ يَدَيِ الْحَسَنِ، إِذْ نَادَتْهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عَلِيٍّ وَهِيَ تَبْكِي: يَا عَدُوَّ اللهِ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ عَلَى أَبِي، وَاللهُ مُخْزِيكَ، قَالَ: فَعَلَامَ تَبْكِينَ؟ وَاللهِ لَقَدِ اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ، وَسَمَّمْتُهُ بِأَلْفٍ، وَلَوْ كَانَتْ هَذِهِ الضَّرْبَةُ لِجَمِيعِ أَهْلِ الْمِصْرِ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ سَاعَةً، وَهَذَا أَبُوكِ بَاقِيًا حَتَّى الْآنَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي، وَإِنْ هَلَكْتُ مِنْ ضَرْبَتِي هَذِهِ فَاضْرِبْهُ ضَرْبَةً، وَلَا تُمَثِّلْ بِهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ» وَذَكَرَ أَنَّ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ يَسْأَلُ بِهِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ فَقَدْنَاكَ وَلَا نَفْقُدُكَ فَنُبَايِعُ الْحَسَنَ؟ قَالَ: مَا آمُرُكُمْ، وَلَا أَنْهَاكُمْ أَنْتُمْ أَبْصَرُ، فَلَمَّا قُبِضَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى ابْنِ مُلْجَمٍ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ: هَلْ لَكَ فِي خَصْلَةٍ؟ إِنِّي وَاللهِ مَا أَعْطَيْتُ اللهَ عَهْدًا إِلَّا وَفَّيْتُ بِهِ، إِنِّي كُنْتُ أَعْطَيْتُ اللهَ عَهْدًا أَنْ أَقْتُلَ عَلِيًّا، وَمُعَاوِيَةَ أَوْ أَمُوتَ دُونَهُمَا، فَإِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَلَكَ اللهَ عَلَيَّ إِنْ لَمْ أُقْتُلْ أَنْ آتِيَكَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِكَ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا وَاللهِ أَوْ تُعَايِنُ النَّارَ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ النَّاسُ فَأَدْرَجُوهُ فِي بَوَارِي، ثُمَّ أَحْرَقُوهُ بِالنَّارِ، وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَخُوضُونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ، تَقُولُونَ: قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا لَا يُقْتَلُ بِي إِلَّا قَاتِلِي، وَأَمَّا الْبَرْكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فَقَعَدَ لِمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ بِسَيْفِهِ وَأَدْبَرَ مُعَاوِيَةُ هَارِبًا، فَوَقَعَ السَّيْفُ فِي إِلْيَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي خَبَرًا أُبَشِّرُكَ بِهِ، فَإِنْ أَخْبَرْتُكَ أَنَافِعِي ذَلِكَ عِنْدَكَ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّ أَخًا لِي قَتَلَ عَلِيًّا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، قَالَ: فَلَعَلَّهُ لَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: بَلَى، إِنَّ عَلِيًّا يَخْرُجُ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ يَحْرُسُهُ، فَأَمَرَ بِهِ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُتِلَ، فَبَعَثَ إِلَى السَّاعِدِيِّ وَكَانَ طَبِيبًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنْ ضَرَبْتَكَ مَسْمُومَةٌ، فَاخْتَرْ مِنِّي إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ: إِمَّا أَنْ أَحْمِيَ حَدِيدَةً فَأَضَعَهَا مَوْضِعَ السَّيْفِ، وَإِمَّا أَسْقِيَكَ شَرْبَةً تَقْطَعُ مِنْكَ الْوَلَدَ، وَتَبْرَأُ مِنْهَا، فَإِنَّ ضَرَبْتَكَ مَسْمُومَةٌ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَمَّا النَّارُ فَلَا صَبْرَ لِي عَلَيْهَا، وَأَمَّا انْقِطَاعُ الْوَلَدِ فَإِنَّ فِي يَزِيدَ، وَعَبْدِ اللهِ، وَوَلَدِهِمَا مَا تَقَرُّ بِهِ عَيْنَيَّ، فَسَقَاهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الشَّرْبَةَ، فَبَرَأَ فَلَمْ يُولَدْ بَعْدُ لَهُ، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْمَقْصُورَاتِ، وَقِيَامِ الشُّرَطِ عَلَى رَأْسِهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: أَيْ بَنِيَّ أُوصِيكُمَا بِتَقْوَى اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ عِنْدَ مَحِلِّهَا، وَحُسْنِ الْوُضُوءِ، فَإِنَّهُ لَا يُقْبَلُ صَلَاةٌ إِلَّا بِطَهُورٍ، وَأُوصِيكُمْ بِغَفْرِ الذَّنْبِ، وَكَظْمِ الْغَيْظِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، وَالْحِلْمِ عَنِ الْجَهْلِ، وَالتَّفَقُّهِ فِي الدِّينِ، وَالتَّثَبُّتِ فِي الْأَمْرِ، وَتَعَاهُدِ الْقُرْآنِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ، وَالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَاجْتِنَابِ الْفَوَاحِشِ، قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ: هَلْ حَفِظْتَ مَا أَوْصَيْتُ بِهِ أَخَوَيْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أُوصِيكَ بِمِثْلِهِ، وَأُوصِيكَ بِتَوقِيرِ أَخَوَيْكَ لِعِظَمِ حَقِّهِمَا عَلَيْكَ، وَتَزْيِينِ أَمْرِهِمَا، وَلَا تَقْطَعْ أَمْرًا دُونَهُمَا، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: أُوصِيكُمَا بِهِ، فَإِنَّهُ شَقِيقُكُمَا، وَابْنُ أبِيكُمَا، وَقَدْ عَلِمْتُمَا أَنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُحِبُّهُ، ثُمَّ أَوْصَى فَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَوْصَى أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أُوصِيكُمَا يَا حَسَنُ، وَيَا حُسَيْنُ، وَجَمِيعَ أَهْلِي وَوَلَدِي، وَمَنْ بَلَغَهُ كِتَابِي بِتَقْوَى اللهِ رَبِّكُمْ، وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا، وَلَا تَفَرَّقُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ صَلَاحَ ذَاتِ الْبَيْنِ أَعْظَمُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ» وَانْظُرُوا إِلَى ذَوِي أَرْحَامِكُمْ فَصِلِوهُمْ يُهَوِّنُ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحِسَابَ، وَاللهَ اللهَ فِي الْأَيْتَامِ لَا يَضِيعُنَّ بِحَضْرَتِكُمْ، وَاللهَ اللهَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ ، وَاللهَ اللهَ فِي الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا تُطْفِيءُ غَضَبَ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ، وَاللهَ اللهَ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ فَأَشْرِكُوهُمْ فِي مَعَايِشِكُمْ، وَاللهَ اللهَ فِي الْقُرْآنِ فَلَا يَسْبِقَنَّكُمْ بِالْعَمَلِ بِهِ غَيْرُكُمْ، وَاللهَ اللهَ فِي الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ، وَاللهَ اللهَ فِي بَيْتِ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَخْلُوَنَّ مَا بَقِيتُمْ، فَإِنَّهُ إِنْ تُرِكَ لَمْ تَنَاظَرُوا، وَاللهَ اللهَ فِي أَهْلِ ذِمَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا يُظْلَمُنَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ، وَاللهَ اللهَ فِي جِيرَانِكُمْ فَإِنَّهُمْ وَصِيَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِهِمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُمْ» وَاللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ وَصِيٌّ بِهِمْ، وَاللهَ اللهَ فِي الضَّعِيفَيْنِ: نِسَائُكُمْ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ، فَإِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ: النِّسَاءُ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، لَا تَخَافُنَّ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، يَكْفِكُمْ مَنْ أرَادَكُمْ وَبَغَى عَلَيْكُمْ، وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللهُ، وَلَا تَتْرُكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَيُوَلِّيَ أَمْرَكُمْ شِرَارَكُمْ، ثُمَّ تَدْعُونَ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ، عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ، وَالتَّبَاذُلِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّقَاطُعَ، وَالتَّدَابُرَ، وَالتَّفُرَّقَ، وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى، وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ، حَفِظَكُمُ اللهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ، وَحَفِظَ فِيكُمْ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْتَوْدِعُكُمُ اللهَ وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، ثُمَّ لَمْ يَنْطِقْ إِلَّا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهَ حَتَّى قُبِضَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ وَغَسَّلَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَوَلِيَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمَلَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَكَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ قَبْلَ أَنْ يَضْرِبَ عَلِيًّا قَاعِدًا فِي بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، إِذْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةِ أَبْجَرَ بْنِ جَابِرٍ الْعِجْلِيِّ أَبِي حَجَّارٍ، وَكَانَ نَصْرَانِيًّا وَالنَّصَارَى حَوْلَهُ، وَأُنَاسٌ مَعَ حَجَّارٍ بِمَنْزِلَتِهِ فِيهِمْ، يَمْشُونَ فِي جَانِبٍ، أَمَامَهُمْ شَقِيقُ بْنُ ثَوْرٍ السُّلَمِيُّ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ: مَا هَؤُلَاءِ؟ فَأُخْبِرَ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ:
[البحر الطويل]
لَئِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ مُسْلِمًا ... لَقَدْ بُوعِدَتْ مِنْهُ جِنَازَةُ أَبْجَرِ
وَإِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ كَافِرًا ... فَمَا مِثْلُ هَذَا مِنْ كُفُورٍ بِمُنْكَرِ
أَتَرْضَوْنَ هَذَا إِنَّ قِسًّا وَمُسْلِمًا ... جَمِيعًا لَدَى نَعْشٍ فَيَا قُبْحَ مَنْظَرِ
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَيَّاشٍ الْمُرَادِيُّ:
[البحر الطويل]
وَلَمْ أَرَ مَهْرًا سَاقَهُ ذُو سَمَاحَةٍ ... كَمَهْرِ قَطَامِ بَيِّنًا غَيْرَ مُعْجَمِ
ثَلَاثَةُ آلَافٍ، وَعَبْدٌ، وَقَيْنَةٌ ... وَضَرْبُ عَلِيٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمَّمِ
وَلَا مَهْرَ أَغْلَى مِنْ عَلِيٍّ وَإِنْ غَلَا ... وَلَا قَتْلَ إِلَّا دُونَ قَتْلِ ابْنِ مُلْجَمِ
، وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ:
[البحر الوافر]
أَلَا أَبْلِغْ مُعَاوِيَةَ بْنَ حَرْبٍ ... وَلَا قَرَّتْ عُيُونُ الشَّامِتِينَا
أَفِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَجَعْتُمُونَا ... بِخَيْرِ النَّاسِ طُرًّا أَجْمَعِينَا
قَتَلْتُمُ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ الْمَطَايَا ... وَخَيْسَهَا وَمَنْ رَكِبَ السَّفِينَا
وَمَنْ لَبِسَ النِّعَالَ وَمَنْ حَذَاهَا ... وَمَنْ قَرَأَ الْمَثَانِيَ وَالْمِئِينَا
لَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ حَيْثُ كَانَتْ ... بِأَنَّكَ خَيْرُهَا حَسَبًا وَدِينًا
، وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَقَعَدَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَحِمَهُ اللهُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا مُعَاوِيَةُ، فَلَمْ يَخْرُجْ وَكَانَ اشْتَكَى بَطْنَهُ، فَأَمَرَ خَارِجَةَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، وَكَانَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ، وَكَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، فَخَرَجَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَأُخِذَ وَأُدْخِلَ عَلَى عَمْرٍو، فَلَمَّا رَآهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، قَالَ: فَمَنْ قَتَلْتُ؟ قَالُوا: خَارِجَةَ، قَالَ: أَمَا وَاللهِ يَا فَاسِقُ مَا ضَمَّدْتُ غَيْرَكَ، قَالَ عَمْرٌو: أَرَدْتَنِي، وَاللهُ أَرَادَ خَارِجَةَ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ:
[البحر الطويل]
وَقَتْكَ وَأَسْبَابُ الْأُمُورِ كَثِيرَةٌ ... مَنِيَّةُ شَيْخٍ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ
فَيَا عَمْرُو مَهْلًا إِنَّمَا أَنْتَ عَمُّهُ ... وَصَاحِبُهُ دُونَ الرِّجَالِ الْأَقَارِبِ
نَجَوْتَ وَقَدْ بَلَّ الْمُرَادِيُّ سَيْفَهُ ... مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْخِ الْأَبَاطِحِ طَالِبِ
وَيَضْرِبُنِي بِالسَّيْفِ آخَرُ مِثْلُهُ ... فَكَانَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ ضَرْبَةَ لَازِبِ
وَأَنْتَ تُنَاغِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ... بِمِصْرِكَ بِيضًا كَالظِّبَاءِ الشَّوَارِبِ
، وَكَانَ الَّذِي ذَهَبَ بِنَعْيِهِ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ كَانَ الْحَسَنُ بَعَثَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَلَى تَقْدِمَتِهِ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ إِيلِيَاءَ فِي ذَلِكَ الْعَامِ، وَخَرَجَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُصُورِ الْبِيضِ فِي الْمَدَائِنِ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ مَسْكَنًا وَكَانَ عَلَى الْمَدَائِنِ عَمُّ الْمُخْتَارِ لِابْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ: هَلْ لَكَ فِي الْغِنَى وَالشَّرَفِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُوثِقُ الْحَسَنَ وَتَسْتَأْمِنْ بِهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: عَلَيْكَ لَعْنَةُ اللهِ، أَأَثِبُ عَلَى ابْنِ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُوثِقُهُ؟ بِئْسَ الرَّجُلُ أَنْتَ، فَلَمَّا رَأَى الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَفَرُّقَ النَّاسِ عَنْهُ بَعَثَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ يَطْلُبُ الصُّلْحَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ فَقَدِمَا عَلَى الْحَسَنِ بِالْمَدَائِنِ، فَأَعْطَيَاهُ مَا أَرَادَ وَصَالَحَاهُ، ثُمَّ قَامَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّاسِ، وَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، إِنَّهُ مِمَّا يُسْخِئُ بِنَفْسِي عَنْكُمْ ثَلَاثٌ: قَتْلُكُمْ أَبِي، وَطَعْنُكُمْ إِيَّايَ، وَانْتِهَابُكُمْ مَتَاعِي، وَدَخَلَ فِي طَاعَةِ مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُمَا اللهُ، وَدَخَلَ الْكُوفَةَ فَبَايَعَهُ النَّاسُ "
[البحر الطويل]
لَئِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ مُسْلِمًا ... لَقَدْ بُوعِدَتْ مِنْهُ جِنَازَةُ أَبْجَرِ
وَإِنْ كَانَ حَجَّارُ بْنُ أَبْجَرَ كَافِرًا ... فَمَا مِثْلُ هَذَا مِنْ كُفُورٍ بِمُنْكَرِ
أَتَرْضَوْنَ هَذَا إِنَّ قِسًّا وَمُسْلِمًا ... جَمِيعًا لَدَى نَعْشٍ فَيَا قُبْحَ مَنْظَرِ
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَيَّاشٍ الْمُرَادِيُّ:
[البحر الطويل]
وَلَمْ أَرَ مَهْرًا سَاقَهُ ذُو سَمَاحَةٍ ... كَمَهْرِ قَطَامِ بَيِّنًا غَيْرَ مُعْجَمِ
ثَلَاثَةُ آلَافٍ، وَعَبْدٌ، وَقَيْنَةٌ ... وَضَرْبُ عَلِيٍّ بِالْحُسَامِ الْمُصَمَّمِ
وَلَا مَهْرَ أَغْلَى مِنْ عَلِيٍّ وَإِنْ غَلَا ... وَلَا قَتْلَ إِلَّا دُونَ قَتْلِ ابْنِ مُلْجَمِ
، وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ:
[البحر الوافر]
أَلَا أَبْلِغْ مُعَاوِيَةَ بْنَ حَرْبٍ ... وَلَا قَرَّتْ عُيُونُ الشَّامِتِينَا
أَفِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَجَعْتُمُونَا ... بِخَيْرِ النَّاسِ طُرًّا أَجْمَعِينَا
قَتَلْتُمُ خَيْرَ مَنْ رَكِبَ الْمَطَايَا ... وَخَيْسَهَا وَمَنْ رَكِبَ السَّفِينَا
وَمَنْ لَبِسَ النِّعَالَ وَمَنْ حَذَاهَا ... وَمَنْ قَرَأَ الْمَثَانِيَ وَالْمِئِينَا
لَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ حَيْثُ كَانَتْ ... بِأَنَّكَ خَيْرُهَا حَسَبًا وَدِينًا
، وَأَمَّا عَمْرُو بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَقَعَدَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَحِمَهُ اللهُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الَّتِي ضُرِبَ فِيهَا مُعَاوِيَةُ، فَلَمْ يَخْرُجْ وَكَانَ اشْتَكَى بَطْنَهُ، فَأَمَرَ خَارِجَةَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، وَكَانَ صَاحِبَ شُرْطَتِهِ، وَكَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، فَخَرَجَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَشَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَأُخِذَ وَأُدْخِلَ عَلَى عَمْرٍو، فَلَمَّا رَآهُمْ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، قَالَ: فَمَنْ قَتَلْتُ؟ قَالُوا: خَارِجَةَ، قَالَ: أَمَا وَاللهِ يَا فَاسِقُ مَا ضَمَّدْتُ غَيْرَكَ، قَالَ عَمْرٌو: أَرَدْتَنِي، وَاللهُ أَرَادَ خَارِجَةَ، فَقَدَّمَهُ فَقَتَلَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ:
[البحر الطويل]
وَقَتْكَ وَأَسْبَابُ الْأُمُورِ كَثِيرَةٌ ... مَنِيَّةُ شَيْخٍ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ
فَيَا عَمْرُو مَهْلًا إِنَّمَا أَنْتَ عَمُّهُ ... وَصَاحِبُهُ دُونَ الرِّجَالِ الْأَقَارِبِ
نَجَوْتَ وَقَدْ بَلَّ الْمُرَادِيُّ سَيْفَهُ ... مِنَ ابْنِ أَبِي شَيْخِ الْأَبَاطِحِ طَالِبِ
وَيَضْرِبُنِي بِالسَّيْفِ آخَرُ مِثْلُهُ ... فَكَانَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ ضَرْبَةَ لَازِبِ
وَأَنْتَ تُنَاغِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ... بِمِصْرِكَ بِيضًا كَالظِّبَاءِ الشَّوَارِبِ
، وَكَانَ الَّذِي ذَهَبَ بِنَعْيِهِ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ كَانَ الْحَسَنُ بَعَثَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَلَى تَقْدِمَتِهِ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ إِيلِيَاءَ فِي ذَلِكَ الْعَامِ، وَخَرَجَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُصُورِ الْبِيضِ فِي الْمَدَائِنِ، وَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ حَتَّى نَزَلَ مَسْكَنًا وَكَانَ عَلَى الْمَدَائِنِ عَمُّ الْمُخْتَارِ لِابْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: سَعْدُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ: هَلْ لَكَ فِي الْغِنَى وَالشَّرَفِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُوثِقُ الْحَسَنَ وَتَسْتَأْمِنْ بِهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: عَلَيْكَ لَعْنَةُ اللهِ، أَأَثِبُ عَلَى ابْنِ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُوثِقُهُ؟ بِئْسَ الرَّجُلُ أَنْتَ، فَلَمَّا رَأَى الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَفَرُّقَ النَّاسِ عَنْهُ بَعَثَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ يَطْلُبُ الصُّلْحَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ فَقَدِمَا عَلَى الْحَسَنِ بِالْمَدَائِنِ، فَأَعْطَيَاهُ مَا أَرَادَ وَصَالَحَاهُ، ثُمَّ قَامَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّاسِ، وَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، إِنَّهُ مِمَّا يُسْخِئُ بِنَفْسِي عَنْكُمْ ثَلَاثٌ: قَتْلُكُمْ أَبِي، وَطَعْنُكُمْ إِيَّايَ، وَانْتِهَابُكُمْ مَتَاعِي، وَدَخَلَ فِي طَاعَةِ مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُمَا اللهُ، وَدَخَلَ الْكُوفَةَ فَبَايَعَهُ النَّاسُ "
ترجمہ
…تو علی نے حسن رضی اللہ عنہما سے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو اس کے بارے میں اپنی رائے پر عمل کروں گا، اور اگر میں اس زخم سے چل بسوں تو اسے صرف ایک ہی وار کرنا، اس کا مثلہ نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مثلہ کرنے سے منع کرتے سنا ہے، چاہے وہ کاٹنے والے کتے ہی کا کیوں نہ ہو۔ اور ذکر کیا کہ جندب بن عبداللہ نے علی کی عیادت کے لیے ان کے پاس جا کر پوچھا: اے امیر المومنین! اگر ہم آپ کو کھو بیٹھیں - اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو - تو کیا ہم حسن کی بیعت کر لیں؟ آپ نے فرمایا: نہ میں تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں، تم خود بہتر جانتے ہو۔ جب علی رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو بلوایا، اسے ان کے پاس لایا گیا، تو ابن ملجم نے ان سے کہا: کیا آپ ایک بات پر رضامند ہوں گے؟ اللہ کی قسم! میں نے کبھی اللہ سے جو عہد کیا اسے پورا کیا، میں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ میں علی اور معاویہ کو قتل کروں گا یا انہیں قتل کرتے ہوئے مر جاؤں گا۔ اگر آپ چاہیں تو مجھے چھوڑ دیں (کہ میں معاویہ کو قتل کروں)، اور میں آپ سے اللہ کے نام پر وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں اسے قتل نہ کر سکا تو میں واپس آ کر اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دوں گا۔ حسن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک کہ تم آگ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو۔ چنانچہ انہوں نے اسے آگے کر کے قتل کر دیا، پھر لوگوں نے اسے لے کر چٹائیوں میں لپیٹا اور آگ میں جلا دیا۔ اور علی رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی فرما دیا تھا: اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں مسلمانوں کے خون میں ہاتھ رنگتے ہوئے نہ پاؤں، یہ کہتے ہوئے کہ امیر المومنین قتل کر دیے گئے، امیر المومنین قتل کر دیے گئے، سن لو! میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیا جائے۔ جہاں تک برک بن عبداللہ کا تعلق ہے تو وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی گھات میں بیٹھا، تو وہ فجر کی نماز کے لیے نکلے، تو اس نے تلوار سے ان پر حملہ کیا، معاویہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، تو تلوار ان کی سرین میں لگی۔ اس شخص نے کہا: میرے پاس ایک خوشخبری ہے جو میں آپ کو سناؤں گا، اگر میں آپ کو بتاؤں تو کیا اس کا مجھے کوئی فائدہ ہو گا؟ معاویہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے ایک بھائی نے آج رات علی کو قتل کر دیا ہے۔ معاویہ نے کہا: شاید وہ اس پر قدرت نہ پا سکا ہو؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، علی تو بغیر کسی محافظ کے نکلتے ہیں۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا۔ معاویہ نے ساعدی کو بلوایا، جو طبیب تھے، انہوں نے زخم کو دیکھ کر کہا: آپ کا زخم زہر آلود ہے، آپ مجھ سے دو باتوں میں سے ایک کا انتخاب کر لیں: یا تو میں ایک لوہا گرم کر کے زخم کی جگہ پر رکھوں، یا آپ کو ایک ایسا مشروب پلاؤں جو آپ کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کر دے، اور آپ اس زخم سے شفایاب ہو جائیں، کیونکہ آپ کا زخم زہریلا ہے۔ معاویہ نے کہا: آگ پر تو مجھ میں صبر کی طاقت نہیں، اور جہاں تک اولاد کے منقطع ہونے کا تعلق ہے تو یزید، عبداللہ اور ان کی اولاد میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک کافی ہے۔ چنانچہ اس طبیب نے انہیں اسی رات وہ مشروب پلا دیا، تو وہ شفایاب ہو گئے، لیکن اس کے بعد ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی۔ اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقصورے بنوانے اور اپنے سر پر پہرے داروں کے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ اور علی نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اے میرے بیٹو! میں تم دونوں کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، نماز کو اس کے وقت پر قائم کرنے، زکوٰۃ کو اس کے وقت پر ادا کرنے، اور اچھی طرح وضو کرنے کی، کیونکہ طہارت کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اور میں تمہیں گناہ معاف کرنے، غصہ پی جانے، صلہ رحمی کرنے، جہالت پر بردباری اختیار کرنے، دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے، معاملات میں ثابت قدم رہنے، قرآن کی پابندی کرنے، اچھے پڑوسی بننے، نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، اور بےحیائی سے بچنے کی وصیت کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے محمد بن حنفیہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: کیا تم نے وہ وصیت یاد کر لی جو میں نے تمہارے دونوں بھائیوں کو کی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو میں تمہیں بھی اسی کی وصیت کرتا ہوں، اور یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ تم اپنے دونوں بھائیوں کی عزت کرنا، کیونکہ ان کا تم پر بڑا حق ہے، اور ان کے معاملات کو سنوارنا، اور ان کے بغیر کوئی معاملہ طے نہ کرنا۔ پھر ان دونوں سے فرمایا: میں تمہیں اس کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ وہ تمہارا بھائی اور تمہارے والد کا بیٹا ہے، اور تم جانتے ہو کہ تمہارے والد اس سے محبت کرتے تھے۔ پھر انہوں نے وصیت فرمائی، اور ان کی وصیت یہ تھی: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ وہ وصیت ہے جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کی۔ وہ اس بات کی گواہی دیتے ہوئے وصیت کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اس نے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے، خواہ مشرکین کو ناپسند ہو۔ پھر بےشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ پھر میں تم دونوں کو، اے حسن اور اے حسین، اور اپنے تمام اہل خانہ اور اولاد کو، اور جس تک بھی میرا یہ خط پہنچے اسے، اپنے رب اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، اور یہ کہ تم مسلمان ہی حالت میں مرو۔ اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو، کیونکہ میں نے ابوالقاسم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”آپس کے تعلقات کو درست رکھنا عام نماز اور روزے سے بڑھ کر ہے۔“ اپنے رشتہ داروں کی طرف دیکھو اور ان سے صلہ رحمی کرو، اللہ تم پر حساب کو آسان فرما دے گا۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، یتیموں کے معاملے میں، کہ وہ تمہاری موجودگی میں ضائع نہ ہوں۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، نماز کے معاملے میں، کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، زکوٰۃ کے معاملے میں، کیونکہ وہ رب عزوجل کے غضب کو بجھا دیتی ہے۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، فقراء اور مساکین کے معاملے میں، انہیں اپنے معاش میں شریک کرو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، قرآن کے معاملے میں، کہیں کوئی اور تم سے آگے بڑھ کر اس پر عمل نہ کر جائے۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کے معاملے میں۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اپنے رب عزوجل کے گھر کے معاملے میں، جب تک تم زندہ ہو وہ خالی نہ رہے، کیونکہ اگر اسے چھوڑ دیا گیا تو تمہیں مہلت نہ دی جائے گی۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اپنے نبی ﷺ کی ذمی رعایا کے معاملے میں، وہ تمہارے درمیان مظلوم نہ رہیں۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اپنے پڑوسیوں کے معاملے میں، کیونکہ وہ تمہارے نبی ﷺ کی وصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جبریل مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔“ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، اپنے نبی ﷺ کے صحابہ کے معاملے میں، کیونکہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں وصیت فرمائی تھی۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، دو کمزوروں کے معاملے میں: تمہاری عورتیں اور تمہاری مملوک باندیاں، کیونکہ آپ ﷺ کے آخری الفاظ یہ تھے: ”میں تمہیں دو کمزوروں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں: عورتیں، اور تمہاری مملوک باندیاں۔“ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا۔ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا، جو تمہارا ارادہ کرے اور تم پر زیادتی کرے اللہ اس کے مقابلے میں تمہارے لیے کافی ہو گا۔ لوگوں سے اچھی بات کہو جیسا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، اور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا نہ چھوڑو، ورنہ تم پر تمہارے بدترین لوگ مسلط کر دیے جائیں گے، پھر تم دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہ ہو گی۔ آپس میں تعلقات جوڑنا اور ایک دوسرے کو دینا لازم پکڑو، اور آپس میں قطع تعلقی، پیٹھ پھیرنے اور تفرقے سے بچو۔ نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بےشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تمہیں اہل بیت میں سے محفوظ رکھے، اور تمہارے درمیان تمہارے نبی ﷺ کی حرمت کی حفاظت کرے۔ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام بھیجتا ہوں۔“ اس کے بعد وہ صرف ”لا الٰہ الا اللہ“ کے سوا کچھ نہ بولے، یہاں تک کہ رمضان کے مہینے میں، سنہ چالیس ہجری میں وفات پا گئے۔ انہیں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر نے غسل دیا، اور انہیں تین کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص شامل نہ تھی، اور حسن نے ان کی نماز جنازہ میں نو تکبیریں کہیں۔ حسن رضی اللہ عنہ نے ان کا کام چھ ماہ تک سنبھالا۔ اور ابن ملجم، علی پر وار کرنے سے پہلے، بنی بکر بن وائل کے محلے میں بیٹھا تھا کہ اس کے سامنے سے ابجر بن جابر العجلی، ابوحجار، کا جنازہ گزرا، جو نصرانی تھا، اور نصرانی لوگ اس کے گرد تھے، اور حجار جیسے مرتبے کے کچھ لوگ بھی ان کے ساتھ ایک طرف چل رہے تھے، ان کے آگے شقیق بن ثور السلمی تھا۔ جب اس نے انہیں دیکھا تو پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو اسے بتایا گیا، پھر اس نے یہ شعر کہے:
”اگر حجار بن ابجر مسلمان تھا تو اس کا جنازہ ابجر کے جنازے سے دور رکھا گیا۔
اور اگر حجار بن ابجر کافر تھا تو اس جیسے کسی منکر کام کی کوئی مثال نہیں۔
کیا تم اس پر راضی ہو کہ ایک پادری اور ایک مسلمان دونوں ایک ہی جنازے میں شامل ہوں؟ کیسا برا منظر ہے!“ اور ابن ابی عیاش المرادی نے کہا:
”میں نے کسی سخی کا دیا ہوا مہر قطام کے مہر جیسا نمایاں اور واضح نہیں دیکھا۔
تین ہزار درہم، ایک غلام، اور ایک گانے والی باندی، اور علی پر تیز دھار تلوار کا وار۔
اور علی سے بڑھ کر کوئی مہر گراں نہیں، خواہ وہ کتنا ہی مہنگا ہو، اور ابن ملجم کے قتل سے کم کوئی قتل اس کا بدلہ نہیں۔“ اور ابوالاسود الدؤلی نے کہا:
”معاویہ بن حرب کو خبر پہنچاؤ، اور طعنہ زنی کرنے والوں کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوں۔
کیا تم نے حرمت والے مہینے میں ہمیں تمام لوگوں میں سب سے بہتر شخص کے غم میں مبتلا کر دیا؟
تم نے سواریوں پر چڑھنے والوں میں سب سے بہتر، اور سب سے مضبوط، اور کشتی پر سوار ہونے والوں میں سب سے بہتر شخص کو قتل کر دیا۔
اور جوتا پہننے والوں میں اور جوتا بنانے والوں میں، اور مثانی اور مئین پڑھنے والوں میں سب سے بہتر شخص کو۔
قریش کو جہاں بھی وہ رہی، یہ معلوم تھا کہ تم نسب اور دین کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو۔“ جہاں تک عمرو بن ابی بکر (قاتل) کا تعلق ہے تو وہ اسی رات جس میں معاویہ پر وار ہوا، عمرو بن العاص رحمہ اللہ کی گھات میں بیٹھا، لیکن وہ اس رات نہ نکلے کیونکہ ان کے پیٹ میں تکلیف تھی، تو انہوں نے خارجہ بن ابی حبیب کو حکم دیا، جو ان کے پولیس افسر تھے اور بنی عامر بن لؤی سے تھے۔ وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے نکلے، تو اس نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ عمرو بن العاص ہیں، ان پر حملہ کر کے تلوار سے قتل کر دیا۔ پھر اسے پکڑ کر عمرو کے پاس لایا گیا، جب اس نے لوگوں کو عمرو کو امیر کہہ کر سلام کرتے دیکھا تو پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: عمرو بن العاص۔ اس نے پوچھا: تو میں نے کسے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا: خارجہ کو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم اے فاسق! میں نے تیرے سوا کسی اور کا قصد نہیں کیا تھا۔ عمرو نے کہا: تو نے مجھے چاہا تھا، مگر اللہ نے خارجہ کو چاہا۔ پھر اسے آگے کر کے قتل کر دیا گیا۔ یہ خبر معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اسے لکھا:
”تجھے بچا لیا، اور اسباب بہت ہیں، لیکن یہاں تو بنی لؤی بن غالب کے ایک بوڑھے کی موت کام آ گئی۔
اے عمرو! ذرا ٹھہرو، تم تو صرف اس کے چچا اور اس کے ساتھی ہو، قریبی رشتہ داروں کے بجائے۔
تم بچ گئے جبکہ مرادی نے اپنی تلوار ابوطالب کے بزرگوں میں سے ایک کے خون سے تر کی۔
اور مجھے ایک اور اسی جیسے شخص نے تلوار سے مارا، تو وہ وار مجھ پر مستقل نشان چھوڑ گیا۔
اور تم ہر روز اور ہر رات اپنے شہر میں ہرنوں جیسی سفید عورتوں سے دل بہلاتے رہتے ہو۔“ اور جو شخص وفات کی خبر لے کر گیا وہ سفیان بن عبدشمس بن ابی وقاص الزہری تھا۔ حسن نے قیس بن سعد بن عبادہ کو بارہ ہزار فوجیوں کے ساتھ اپنا پیش رو دستہ بنا کر بھیجا تھا، اور معاویہ نکل کر اسی سال ایلیاء (بیت المقدس) میں اترے۔ حسین رضی اللہ عنہ نکل کر مدائن کے سفید محلوں میں اترے، اور معاویہ نکل کر مسکن میں اترے۔ مدائن پر ابن ابی عبید (مختار) کے چچا کی حکومت تھی، جسے سعد بن مسعود کہا جاتا تھا۔ مختار نے، جو اس وقت نوجوان تھا، اس سے کہا: کیا آپ کو مال و عزت کی خواہش ہے؟ اس نے پوچھا: وہ کیسے؟ مختار نے کہا: حسن کو باندھ لیں اور انہیں معاویہ کے حوالے کر کے امان مانگ لیں۔ سعد نے اس سے کہا: تجھ پر اللہ کی لعنت ہو! کیا میں رسول اللہ ﷺ کی نواسی کے بیٹے پر حملہ کر کے اسے باندھ لوں؟ تم بہت برے آدمی ہو۔ جب حسن رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان سے منتشر ہو رہے ہیں تو معاویہ نے ان کی طرف صلح کا پیغام بھیجا۔ معاویہ نے عبداللہ بن عامر اور عبداللہ بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس کو ان کے پاس بھیجا، وہ دونوں مدائن میں حسن کے پاس پہنچے، اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو وہ چاہتے تھے اور ان سے صلح کر لی۔ پھر حسن رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا: اے اہل عراق! تین باتیں ہیں جو مجھے تم سے بیزار کر دیتی ہیں: تمہارا میرے والد کو قتل کرنا، تمہارا مجھے زخمی کرنا، اور تمہارا میرا سامان لوٹ لینا۔ پھر وہ معاویہ کی اطاعت میں داخل ہو گئے - اللہ ان دونوں پر رحم فرمائے - اور کوفہ میں داخل ہوئے تو لوگوں نے ان کی بیعت کی۔
”اگر حجار بن ابجر مسلمان تھا تو اس کا جنازہ ابجر کے جنازے سے دور رکھا گیا۔
اور اگر حجار بن ابجر کافر تھا تو اس جیسے کسی منکر کام کی کوئی مثال نہیں۔
کیا تم اس پر راضی ہو کہ ایک پادری اور ایک مسلمان دونوں ایک ہی جنازے میں شامل ہوں؟ کیسا برا منظر ہے!“ اور ابن ابی عیاش المرادی نے کہا:
”میں نے کسی سخی کا دیا ہوا مہر قطام کے مہر جیسا نمایاں اور واضح نہیں دیکھا۔
تین ہزار درہم، ایک غلام، اور ایک گانے والی باندی، اور علی پر تیز دھار تلوار کا وار۔
اور علی سے بڑھ کر کوئی مہر گراں نہیں، خواہ وہ کتنا ہی مہنگا ہو، اور ابن ملجم کے قتل سے کم کوئی قتل اس کا بدلہ نہیں۔“ اور ابوالاسود الدؤلی نے کہا:
”معاویہ بن حرب کو خبر پہنچاؤ، اور طعنہ زنی کرنے والوں کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوں۔
کیا تم نے حرمت والے مہینے میں ہمیں تمام لوگوں میں سب سے بہتر شخص کے غم میں مبتلا کر دیا؟
تم نے سواریوں پر چڑھنے والوں میں سب سے بہتر، اور سب سے مضبوط، اور کشتی پر سوار ہونے والوں میں سب سے بہتر شخص کو قتل کر دیا۔
اور جوتا پہننے والوں میں اور جوتا بنانے والوں میں، اور مثانی اور مئین پڑھنے والوں میں سب سے بہتر شخص کو۔
قریش کو جہاں بھی وہ رہی، یہ معلوم تھا کہ تم نسب اور دین کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو۔“ جہاں تک عمرو بن ابی بکر (قاتل) کا تعلق ہے تو وہ اسی رات جس میں معاویہ پر وار ہوا، عمرو بن العاص رحمہ اللہ کی گھات میں بیٹھا، لیکن وہ اس رات نہ نکلے کیونکہ ان کے پیٹ میں تکلیف تھی، تو انہوں نے خارجہ بن ابی حبیب کو حکم دیا، جو ان کے پولیس افسر تھے اور بنی عامر بن لؤی سے تھے۔ وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے نکلے، تو اس نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ عمرو بن العاص ہیں، ان پر حملہ کر کے تلوار سے قتل کر دیا۔ پھر اسے پکڑ کر عمرو کے پاس لایا گیا، جب اس نے لوگوں کو عمرو کو امیر کہہ کر سلام کرتے دیکھا تو پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: عمرو بن العاص۔ اس نے پوچھا: تو میں نے کسے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا: خارجہ کو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم اے فاسق! میں نے تیرے سوا کسی اور کا قصد نہیں کیا تھا۔ عمرو نے کہا: تو نے مجھے چاہا تھا، مگر اللہ نے خارجہ کو چاہا۔ پھر اسے آگے کر کے قتل کر دیا گیا۔ یہ خبر معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے اسے لکھا:
”تجھے بچا لیا، اور اسباب بہت ہیں، لیکن یہاں تو بنی لؤی بن غالب کے ایک بوڑھے کی موت کام آ گئی۔
اے عمرو! ذرا ٹھہرو، تم تو صرف اس کے چچا اور اس کے ساتھی ہو، قریبی رشتہ داروں کے بجائے۔
تم بچ گئے جبکہ مرادی نے اپنی تلوار ابوطالب کے بزرگوں میں سے ایک کے خون سے تر کی۔
اور مجھے ایک اور اسی جیسے شخص نے تلوار سے مارا، تو وہ وار مجھ پر مستقل نشان چھوڑ گیا۔
اور تم ہر روز اور ہر رات اپنے شہر میں ہرنوں جیسی سفید عورتوں سے دل بہلاتے رہتے ہو۔“ اور جو شخص وفات کی خبر لے کر گیا وہ سفیان بن عبدشمس بن ابی وقاص الزہری تھا۔ حسن نے قیس بن سعد بن عبادہ کو بارہ ہزار فوجیوں کے ساتھ اپنا پیش رو دستہ بنا کر بھیجا تھا، اور معاویہ نکل کر اسی سال ایلیاء (بیت المقدس) میں اترے۔ حسین رضی اللہ عنہ نکل کر مدائن کے سفید محلوں میں اترے، اور معاویہ نکل کر مسکن میں اترے۔ مدائن پر ابن ابی عبید (مختار) کے چچا کی حکومت تھی، جسے سعد بن مسعود کہا جاتا تھا۔ مختار نے، جو اس وقت نوجوان تھا، اس سے کہا: کیا آپ کو مال و عزت کی خواہش ہے؟ اس نے پوچھا: وہ کیسے؟ مختار نے کہا: حسن کو باندھ لیں اور انہیں معاویہ کے حوالے کر کے امان مانگ لیں۔ سعد نے اس سے کہا: تجھ پر اللہ کی لعنت ہو! کیا میں رسول اللہ ﷺ کی نواسی کے بیٹے پر حملہ کر کے اسے باندھ لوں؟ تم بہت برے آدمی ہو۔ جب حسن رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان سے منتشر ہو رہے ہیں تو معاویہ نے ان کی طرف صلح کا پیغام بھیجا۔ معاویہ نے عبداللہ بن عامر اور عبداللہ بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس کو ان کے پاس بھیجا، وہ دونوں مدائن میں حسن کے پاس پہنچے، اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو وہ چاہتے تھے اور ان سے صلح کر لی۔ پھر حسن رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا: اے اہل عراق! تین باتیں ہیں جو مجھے تم سے بیزار کر دیتی ہیں: تمہارا میرے والد کو قتل کرنا، تمہارا مجھے زخمی کرنا، اور تمہارا میرا سامان لوٹ لینا۔ پھر وہ معاویہ کی اطاعت میں داخل ہو گئے - اللہ ان دونوں پر رحم فرمائے - اور کوفہ میں داخل ہوئے تو لوگوں نے ان کی بیعت کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: دَعَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَيْعَةِ، فَجَاءَ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ، وَقَدْ كَانَ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا يُحْبَسُ أَشْقَاهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَخْضِبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَتَمَثَّلَ بِهَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ:
[البحر الهزج]
اشُدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلْمَوْ ... تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيَكَ
وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ ... إِذَا حَلَّ بِوَادِيكَ "
[البحر الهزج]
اشُدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلْمَوْ ... تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيَكَ
وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ ... إِذَا حَلَّ بِوَادِيكَ "
ترجمہ
ابوطفیل کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا، تو ان میں عبدالرحمٰن بن ملجم بھی آیا، حالانکہ آپ اسے اس سے پہلے دو بار دیکھ چکے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”اس سب سے بدبخت شخص کو کیا چیز روک رہی ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ ضرور اس (تلوار) کو اس (خون) سے رنگے گا“، اور آپ نے یہ دو شعر پڑھے:
”موت کے لیے اپنی کمر کس لو، کیونکہ موت تمہارے پاس آنے والی ہے۔
اور موت سے گھبراؤ نہیں جب وہ تمہاری وادی میں اتر آئے۔“
”موت کے لیے اپنی کمر کس لو، کیونکہ موت تمہارے پاس آنے والی ہے۔
اور موت سے گھبراؤ نہیں جب وہ تمہاری وادی میں اتر آئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ عَاصِمٍ الْجَمَّالُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، قَالَ: جَاءَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَى عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَقَالُوا: إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: «وَمَا أَقْدَمَكُمْ شَيْءٌ غَيْرُ هَذَا؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: {تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [البقرة: ١٣٤]
ترجمہ
اعمش، ابوراشد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: بصرہ کے کچھ لوگ عبید بن عمیر کے پاس آئے اور کہا: آپ کے بصرہ کے بھائی آپ سے علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا تمہیں یہاں لانے والی اور کوئی چیز نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہی ہے جو تم کماؤ گے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے“ [البقرہ: 134]۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: «قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَنَةَ أَرْبَعِينَ»
ترجمہ
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ سنہ 40 ہجری میں شہید کر دیے گئے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: «قُتِلَ عَلِيٌّ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ»
ترجمہ
ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ سنہ 40 ہجری میں شہید کر دیے گئے، اور ان کی خلافت پانچ سال چھ ماہ رہی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَمُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَكْوَةٍ اشْتَكَاهَا، فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ فِي شَكْوِكَ هَذَا، فَقَالَ: وَلَكِنِّي وَاللهِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَى نَفْسِي مِنْهُ؛ لِأَنِّي سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَةً هَهُنَا، وَضَرْبَةً هَهُنَا» - وَأَشَارَ إِلَى صُدْغَيْهِ - «فَيَسِيلُ دَمُهَا حَتَّى يَخْضِبَ لِحْيَتَكَ، وَيَكُونَ صَاحِبُهَا أَشْقَاهَا كَمَا كَانَ عَاقِرُ النَّاقَةِ أَشْقَى ثَمُودَ»
ترجمہ
…میں نے ان سے کہا: اے ابوالحسن! ہمیں آپ کی اس بیماری میں آپ کے بارے میں خدشہ ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: لیکن اللہ کی قسم! مجھے اپنے بارے میں اس سے کوئی خدشہ نہیں، کیونکہ میں نے صادق و مصدوق ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”تجھے یہاں ایک وار پڑے گا اور یہاں ایک وار پڑے گا“ - اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں کنپٹیوں کی طرف اشارہ فرمایا - ”تو اس کا خون بہہ کر تیری داڑھی کو رنگ دے گا، اور اس کا کرنے والا امت کا سب سے بدبخت شخص ہو گا، جیسے اونٹنی کے کونچیں کاٹنے والا ثمود کا سب سے بدبخت شخص تھا۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو جھنڈا عطا فرمایا جبکہ ان کی عمر بیس (20) سال تھی۔