المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن علي بن أبي طالب ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ عَاصِمٍ الْجَمَّالُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، قَالَ: جَاءَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَى عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَقَالُوا: إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: «وَمَا أَقْدَمَكُمْ شَيْءٌ غَيْرُ هَذَا؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: {تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [البقرة: ١٣٤]ترجمہ
اعمش، ابوراشد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: بصرہ کے کچھ لوگ عبید بن عمیر کے پاس آئے اور کہا: آپ کے بصرہ کے بھائی آپ سے علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا تمہیں یہاں لانے والی اور کوئی چیز نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہی ہے جو تم کماؤ گے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے“ [البقرہ: 134]۔