المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن علي بن أبي طالب ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: دَعَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْبَيْعَةِ، فَجَاءَ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ، وَقَدْ كَانَ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا يُحْبَسُ أَشْقَاهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَخْضِبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَتَمَثَّلَ بِهَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ:
[البحر الهزج]
اشُدُدْ حَيَازِيمَكَ لِلْمَوْ ... تِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِيَكَ
وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْمَوْتِ ... إِذَا حَلَّ بِوَادِيكَ "ترجمہ
ابوطفیل کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا، تو ان میں عبدالرحمٰن بن ملجم بھی آیا، حالانکہ آپ اسے اس سے پہلے دو بار دیکھ چکے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”اس سب سے بدبخت شخص کو کیا چیز روک رہی ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ ضرور اس (تلوار) کو اس (خون) سے رنگے گا“، اور آپ نے یہ دو شعر پڑھے: ”موت کے لیے اپنی کمر کس لو، کیونکہ موت تمہارے پاس آنے والی ہے۔
اور موت سے گھبراؤ نہیں جب وہ تمہاری وادی میں اتر آئے۔“