حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: يَا عَمْرُو فَانْظُرْ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ «فَلَمْ أَرَهُ خَضَبَ لِحْيَتَهُ، ضَخْمَ الرَّأْسِ»
ترجمہ
ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ کہتے ہیں: میرے والد نے مجھ سے کہا: اے عمرو! امیر المومنین کو دیکھو۔ تو میں نے انہیں دیکھا کہ ان کی داڑھی پر خضاب نہ تھا، اور وہ بڑے سر والے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، وَعَلَيْهِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ»
ترجمہ
ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کا سر اور داڑھی سفید تھی، اور وہ تہبند اور چادر پہنے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، ثنا حَمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ»
ترجمہ
ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا، ان کا سر اور داڑھی سفید تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الْجُمُعَةِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَلَمَّا خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، قَالَ لِي أَبِي: قُمْ أَيْ عَمْرُو فَانْظُرْ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: «فَقُمْتُ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ، عَلَيْهِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ لَيْسَ عَلَيْهِ قَمِيصٌ» قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى نَزَلَ عَنْهُ، قُلْنَا لِأَبِي إِسْحَاقَ: فَهَلْ قَنَتَ؟ قَالَ: «لَا»
ترجمہ
… ابواسحاق کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، اور میں اس وقت لڑکا تھا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نکل کر منبر پر چڑھے تو میرے والد نے مجھ سے کہا: اے عمرو! کھڑے ہو کر امیر المومنین کو دیکھو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں کھڑا ہوا، دیکھا تو وہ منبر پر کھڑے تھے، ان کی داڑھی اور سر سفید تھے، تہبند اور چادر پہنے ہوئے تھے، ان پر قمیص نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں منبر پر بیٹھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ وہ اتر گئے۔ ہم نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا انہوں نے قنوت پڑھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَوَّجْتَنِيهِ أُعَيْمِشَ عَظِيمَ الْبَطْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ زَوَّجْتُكِهِ وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ أَصْحَابِي سِلْمًا، وَأَكْثَرُهُمْ عِلْمًا، وَأَعْظَمُهُمْ حِلْمًا»
ترجمہ
…کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا: آپ نے میرا نکاح ایک کمزور نظر والے، بڑے پیٹ والے شخص سے کر دیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا نکاح اس سے کیا ہے جو میرے اصحاب میں سب سے پہلے اسلام لانے والا، ان میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا، اور ان میں سب سے زیادہ بردبار ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ: كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ قَدْ مَلَأَتْ مَا بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ» زَادَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: «عَلَى رَأْسِهِ زُغَيْبَاتٌ»
ترجمہ
شعبی کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا، ان کی داڑھی سفید تھی اور ان کے دونوں کندھوں کے درمیان (کی جگہ) بھر چکی تھی۔ یحییٰ بن سعید نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: ان کے سر پر ہلکے ہلکے بال تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، عَنِ الْوَاقِدِيِّ، قَالَ: يُقَالُ: «كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ آدَمَ رَبْعَةً مُسْمِنًا، ضَخْمَ الْمَنْكِبَيْنِ، طَوِيلَ اللِّحْيَةِ، أَصْلَعَ، عَظِيمَ الْبَطْنِ، غَلِيظَ الْعَيْنَيْنِ، أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ»
ترجمہ
واقدی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گندمی رنگ، درمیانہ قد، موٹے، چوڑے کندھوں والے، لمبی داڑھی والے، گنجے، بڑے پیٹ والے، موٹی آنکھوں والے، اور سفید سر و داڑھی والے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا إِسْحَاقَ أَنْتَ أَكْبَرُ مِنَ الشَّعْبِيِّ؟ فَقَالَ لِي: الشَّعْبِيُّ أَكْبَرُ مِنِّي بِسَنَةٍ، أَوْ سَنَتَيْنِ قَالَ: وَرَأَى أَبُو إِسْحَاقَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ يَصِفُهُ لَنَا «عَظِيمَ الْبَطْنِ أَجْلَحَ» قَالَ شُعْبَةُ: «وَكَانَ أَبُو إِسْحَاقَ أَكْبَرَ مِنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، وَلَمْ يُدْرِكْ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَلِيًّا وَلَمْ يَرَهُ»
ترجمہ
…شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا تم شعبی سے بڑے ہو؟ انہوں نے مجھ سے کہا: شعبی مجھ سے ایک یا دو سال بڑے ہیں۔ کہتے ہیں: اور ابواسحاق نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا، اور وہ ہمارے سامنے ان کی صفت یوں بیان کیا کرتے تھے: بڑا پیٹ، پیشانی سے گنجا پن۔ شعبہ کہتے ہیں: اور ابواسحاق، ابوالبختری سے بڑے تھے، اور ابوالبختری نے علی کا زمانہ نہیں پایا اور نہ انہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ قَوْلَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: «أَلَمْ تَرَ إِلَى رَأْسِهْ كالطَّسْتِ، وَإِنَّمَا حَوْلَهُ كالحِفَافِ»
ترجمہ
ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے علی رضی اللہ عنہ کی بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے ان کا سر نہیں دیکھا، وہ طشت کی مانند (چمکدار) تھا، اور اس کے گرد صرف کناروں جیسے (بال) تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مُسْمِنًا أَصْلَعَ الشَّعْرِ، كَأَنَّ بِجَانِبهِ إِهَابُ شَاةٍ»
ترجمہ
ابورجاء العطاردی کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ موٹے اور گنجے تھے، گویا ان کے پہلو میں بکری کی کھال (رکھی) ہو۔