المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن علي بن أبي طالب ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَمُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَكْوَةٍ اشْتَكَاهَا، فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ فِي شَكْوِكَ هَذَا، فَقَالَ: وَلَكِنِّي وَاللهِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَى نَفْسِي مِنْهُ؛ لِأَنِّي سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَةً هَهُنَا، وَضَرْبَةً هَهُنَا» - وَأَشَارَ إِلَى صُدْغَيْهِ - «فَيَسِيلُ دَمُهَا حَتَّى يَخْضِبَ لِحْيَتَكَ، وَيَكُونَ صَاحِبُهَا أَشْقَاهَا كَمَا كَانَ عَاقِرُ النَّاقَةِ أَشْقَى ثَمُودَ»ابوسنان الدؤلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا جب وہ ایک بیماری میں مبتلا تھے، تو میں نے ان سے کہا: اے ابوالحسن! ہمیں آپ کی اس بیماری میں آپ کے بارے میں خدشہ ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: لیکن اللہ کی قسم! مجھے اپنے بارے میں اس سے کوئی خدشہ نہیں، کیونکہ میں نے صادق و مصدوق ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”تجھے یہاں ایک وار پڑے گا اور یہاں ایک وار پڑے گا“ - اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں کنپٹیوں کی طرف اشارہ فرمایا - ”تو اس کا خون بہہ کر تیری داڑھی کو رنگ دے گا، اور اس کا کرنے والا (اس امت کا) سب سے بدبخت شخص ہو گا، جیسے اونٹنی کے کونچیں کاٹنے والا ثمود کا سب سے بدبخت شخص تھا۔“