عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ ، وَاسْتَغْرَبُوا ضَحِكًا ; فَأَغْضَبَهُ ذَلِكَ فَقَالَ : " مَا لِلضَّحِكِ خُلِقْتُمْ " . وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنِ اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ - فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُيَسِّرَ وَلَا تُعَسِّرَ ، وَتُبَشِّرَ وَلَا تُنَفِّرَ . فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَشَّرَهُمْ وَيَسَّرَ عَلَيْهِمْ ، وَبَسَطَ مِنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل صفہ کے پاس تشریف لائے ، جن کی آوازیں بلند ہو چکی تھی اور وہ ہنس رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر غصہ آ گیا ، آپ نے فرمایا : تمہیں ہنسنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر انکار کیا ، سیدنا جبرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئے اور بولے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ آسانی فراہم کریں ، آپ تنگی کا شکار نہ کریں ، خوشخبری سنائیں ، آپ متنفر نہ کریں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں خوش خبری سنائی ، انہیں آسانی فراہم کی اور انہیں خوشی سے ملے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن یحیی مدنی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن یحیی مدنی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَضْحَكُونَ فَقَالَ : " تَضْحَكُونَ وَذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ ! " . قَالَ : فَمَا رُئِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ ضَاحِكًا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ : وَنَزَلَتْ : " نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو ہنس رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ حالانکہ تمہارے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد ان لوگوں میں سے کسی کو بھی مرتے دم تک ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” تم میرے بندوں کو یہ بتا دو ! کہ بے شک میں مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب ، وہ دردناک عذاب ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ قُلْ لِأَهْلِ طَاعَتِي مِنْ أُمَّتِكَ لَا يَتَّكِلُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ ; فَإِنِّي لَا أُقَاصُّ عِنْدَ الْحِسَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ أَشَاءُ أَنْ أُعَذِّبَهُ إِلَّا عَذَّبْتُهُ . وَقُلْ لِأَهْلِ الْمَعَاصِي مِنْ أُمَّتِكَ : لَا يُلْقُونَ بِأَيْدِيهِمْ ; فَإِنِّي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ الْعِظَامَ ، وَلَا أُبَالِي ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ ، وَلَا أَهْلِ مَدِينَةٍ ، وَلَا أَرْضٍ ، وَلَا رَجُلٍ بِخَاصَّةٍ ، وَلَا امْرَأَةٍ يَكُونُ لِي عَلَى مَا أُحِبُّ ; فَأَكُونُ لَهُ عَلَى مَا يُحِبُّ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ عَمَّا أُحِبُّ إِلَى مَا أَكْرَهُ إِلَّا تَحَوَّلْتُ لَهُ عَمَّا يُحِبُّ إِلَى مَا يَكْرَهُ . وَإِنَّهُ لَيْسَ مَنْ أَهْلِ مَدِينَةٍ ، وَلَا أَهْلِ أَرْضٍ ، وَلَا رَجُلٍ بِخَاصَّةٍ ، وَلَا امْرَأَةٍ يَكُونُ لِي عَلَى مَا أَكْرَهُ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ لِي عَمَّا أَكْرَهُ إِلَى مَا أُحِبُّ إِلَّا تَحَوَّلْتُ لَهُ عَمَّا يَكْرَهُ إِلَى مَا يُحِبُّ . لَيْسَ مِنِّي مَنْ تَطَيَّرَ ، أَوْ تُطِيِّرَ لَهُ ، أَوْ تَكَهَّنَ ، أَوْ تُكِهِّنَ لَهُ ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ . إِنَّمَا أَنَا وَخَلْقِي ، وَكُلُّ خَلْقِي لِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مُسْلِمٍ الطُّهَوِيُّ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : لَيِّنٌ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، وہاں امیرالمؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر موجود تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیاء کرام میں سے ایک نبی کی طرف یہ وحی کی : کہ تم اپنی امت سے تعلق رکھنے والے میرے فرمانبردار بندوں سے یہ کہہ دو : کہ وہ لوگ اپنے اعمال پر تکیہ نہ کریں ، کیونکہ قیامت کے دن حساب کے وقت مجھ سے بدلہ نہیں لیا جائے گا ، پھر اگر میں انہیں عذاب دینا چاہوں گا تو عذاب دے دوں گا اور تم اپنی امت سے تعلق رکھنے والے گناہ گار لوگوں سے یہ کہہ دو : وہ اپنے ہاتھ نہ ڈالیں ، کیونکہ میں بڑے گناہوں کی مغفرت کر دوں گا اور میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا ، جس بھی بستی کا یا شہر کا یا سرزمین کا رہنے والا کوئی فرد یا کوئی مخصوص آدمی یا عورت ، وہ میری خاطر وہ کام کرے جسے میں پسند کرتا ہوں تو میں اُس کے لیے ویسا ہو جاؤں گا جسے وہ پسند کرتا ہو گا ، لیکن جو میری پسند سے پھر کر اس طرف جائے گا جو مجھے ناپسند ہو تو میں اس کے لئے اس کی پسند سے تبدیل ہو کے اُس طرف ہو جاؤں گا جو اسے ناپسند ہو ، جس بھی شہر یا سرزمین کا فرد یا کوئی مخصوص مرد یا عورت ، وہ عمل کریں گے جو مجھے ناپسند ہو تو میں اُن کے لیے ویسا ہو جاؤں گا جو انہیں ناپسند ہو اور جس بھی بستی یا شہر کا کوئی فرد یا کوئی مخصوص مرد یا عورت ، وہ کام کرتے ہوں جو مجھے ناپسند ہو اور پھر وہ اس سے منتقل ہو کر وہ کام کریں ، جو مجھے پسند ہو تو میں ان کی ناپسندیدگی سے تبدیل ہو کے اس طرف ہو جاؤں گا جو انہیں پسند ہو ، اُس شخص کا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے جو فال نکالتا ہے یا جس کے لئے فال نکالی جاتی ہے یا جو کہانت کرتا ہے یا اس کے لئے کہانت کی جاتی ہے یا جو جادو کرتا ہے یا اُس کے لیے جادو کیا جاتا ہے ، بے شک میں ہوں اور میری مخلوق ہے ، اور میری ساری مخلوق میری ملکیت ہے ۔ “
یہ روایت طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسلم طہوی ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ کمزور ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، ان شاء اللہ ۔
یہ روایت طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسلم طہوی ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ کمزور ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، ان شاء اللہ ۔
وَعَنْ أَبِي مُدَيْنَةَ الدَّارِمِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كَانَ الرَّجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا الْتَقَيَا لَمْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَقْرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ : وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ عَائِشَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومدینہ دارمی رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد جب آپس میں ملتے تھے تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اُن دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے سامنے یہ تلاوت کرتا تھا : ” زمانے کی قسم ہے ! بیشک انسان خسارے میں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف این عائشہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف این عائشہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ : انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ تَحْرِقُوهُ حَتَّى تَدَعُوهُ حُمَمًا ، ثُمَّ اطْحَنُوهُ ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمٍ رَاحٍ . فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَخَافَتُكَ ! قَالَ : فَغَفَرَ لَهُ بِهَا ، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُ أَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ ابْنِ سِيرِينَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . قُلْتُ : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ ، قَدْ ذَكَرْتُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِي التَّوْبَةِ فِي بَابِ فِيمَنْ خَافَ مِنْ ذَنْبِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اور ابن سیرین ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ، البتہ وہ توحید ( کے عقیدے ) پر قائم تھا ، جب اُس کا آخری وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم اس بات کا دھیان رکھنا ، جب میں مر جاؤں تو تم مجھے جلا دینا یہاں تک کہ میں کوئلہ بن جاؤں ، پھر تم مجھے پیس دینا اور پھر تیز ہوا والے دن میں اُس راکھ کو اڑا دینا ، جب وہ شخص مر گیا تو اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا ، جب وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابن آدم ! تم نے جو یہ کیا ہے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو پروردگار نے اس ( خوف ) کی وجہ سے اُس کی مغفرت کر دی ، حالانکہ اس نے توحید کا قائل ہونے کے علاوہ اور کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ابن سیرین کی سند میں ایسا شخص ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے حوالے سے منقول ہے میں نے وہ تمام روایات - کتاب التوبة باب : اُس شخص کا بیان جو اپنے گناہ سے خوفزدہ ہو ۔ میں نقل کر دی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ابن سیرین کی سند میں ایسا شخص ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے حوالے سے منقول ہے میں نے وہ تمام روایات - کتاب التوبة باب : اُس شخص کا بیان جو اپنے گناہ سے خوفزدہ ہو ۔ میں نقل کر دی ہیں ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَهُ قَالَ : " لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَأَمْنَيْنَ ، وَإِنْ أَخَفْتُهُ فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ فِي الْآخِرَةِ ، وَإِنْ أَمَّنْتُهُ فِي الدُّنْيَا أَخَفْتُهُ فِي الْآخِرَةِ " . ¤
محمد محی الدین
حسن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) میں اپنے بندے پر دو قسم کے خوف یا دو قسم کے امن جمع نہیں کروں گا ، اگر میں اُسے دنیا میں خوف میں مبتلا کروں گا تو آخرت میں اُسے امان نصیب کروں گا اور اگر میں اُسے دنیا میں امان عطا کروں گا تو اُسے آخرت میں خوف کا شکار کروں گا ۔ “
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِنَحْوِهِ . رَوَاهُمَا الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ : مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْمُرْسَلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الْمُسْنَدِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، انہوں نے یہ اپنے استاد محمد بن یحیی بن میمون کے حوالے سے نقل کی ہیں اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ” مرسل “ روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ” مسند “ روایت کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔