مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ . باب: خوف اور امید کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18198
وَعَنْ أَبِي مُدَيْنَةَ الدَّارِمِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كَانَ الرَّجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا الْتَقَيَا لَمْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَقْرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ : وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ عَائِشَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابومدینہ دارمی رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد جب آپس میں ملتے تھے تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اُن دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے سامنے یہ تلاوت کرتا تھا : ” زمانے کی قسم ہے ! بیشک انسان خسارے میں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف این عائشہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔