حدیث نمبر: 18189
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ انْقَطَعَ إِلَى اللَّهِ كَفَاهُ اللَّهُ كُلَّ مَئُونَةٍ ، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ، وَمَنِ انْقَطَعَ إِلَى الدُّنْيَا ، وَكِلَهُ اللَّهُ إِلَيْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثِ صَاحِبُ الْفُضَيْلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُغَرِّبُ وَيُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ( دنیا سے ) لاتعلقی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر ضرورت کے حوالے سے اُس کے لیے کفایت کرتا ہے اور اُسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص مکمل طور پر دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ، اللہ تعالی اسے دنیا کے سپرد کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اشعث ہے جو فضیل کا شاگرد ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اشعث ہے جو فضیل کا شاگرد ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18190
وَعَنْ أُمِّ مَيْسَرَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ : " رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْظُرُ أَنْ يُغِيرَ ، أَوْ يُغَارَ عَلَيْهِ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَهُ رَجُلًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى . فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْحِجَازِ فَقَالَ : " رَجُلٌ فِي غَنِيمَةٍ ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، يَعْلَمُ مَا حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى فِي مَالِهِ قَدِ اعْتَزَلَ النَّاسَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام میسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں لوگوں میں سے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھام لیتا ہے اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ وہ حملہ کرے ؟ یا اس پر حملہ کیا جائے ؟ کیا میں تمہیں اس کے بعد والے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے حجاز کی طرف اشارہ کر کے یہ ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اپنی بھیڑ بکریوں کے درمیان موجود ہو اور نماز قائم کرے ، زکوۃ ادا کرے ، وہ اپنے مال میں اللہ تعالیٰ کے حق کا علم رکھتا ہو اور لوگوں سے الگ تھلگ رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحق نامی راوی مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحق نامی راوی مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 18191
وَعَنْ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ قَالَ : كُنْتُ بِشَرَافٍ ، فَنَزَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ فَبَعَثَنِي إِلَيْهِ أَهْلِي بِأَشْيَاءَ ، وَجَاءَ غِلْمَةٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعٍ بِطَيْرٍ ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَنِي : مِنْ أَيْنَ جِئْتَنِي بِهَذَا الطَّيْرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : جَاءَ غِلْمَانٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوَدِدْتُ أَنِّي حَيْثُ صِيدَ لَا أُكَلِّمُ أَحَدًا بِشَيْءٍ ، وَلَا يُكَلِّمُنِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عدسہ طائی بیان کرتے ہیں : میں ” شراف “ میں تھا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آ کر ٹھہرے ، میرے اہل خانہ نے کچھ اشیاء کے ہمراہ مجھے ان کی طرف بھیجا ، ہمارے کچھ غلام جو ہمارے اونٹوں میں ( آبادی سے دور ) ہوتے تھے ، وہ چار دن کے فاصلے سے پرندے لے کے آئے ، جب میں ان پرندوں کا گوشت ان کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم یہ پرندے کہاں سے میرے پاس لے کے آئے ہو ؟ میں نے بتایا : ہمارے کچھ غلام ہیں جو ہمارے اونٹوں میں ہوتے ہیں ، وہ چار دن کے فاصلے سے اسے لے کر آئے ہیں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ جہاں اس پرندے کا شکار ہوا ہے ( یعنی جو جگہ آبادی سے چار دن کے فاصلے پر موجود ہے ) میں وہاں رہتا ، جہاں میرے ساتھ کوئی بات کرنے والا نہ ہوتا ، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عدسہ طائی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عدسہ طائی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18192
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّهُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى بَابِهِ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ نَفْسَكَ ؟ ! قَالَ : مَا لِي يُرِيدُ عَدُوُّ اللَّهِ أَنْ يَلْفِتَنِي عَمَّا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُكَابِدُ دَهْرَكَ فِي بَيْتِكَ ، أَلَا تَخْرُجَ إِلَى الْمَجْلِسِ ؟ " . وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُعَزِّرُهُ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَمْ يَغْتَبْ أَحَدًا بِسُوءٍ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . فَيُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَنِي عَدُوُّ اللَّهِ مِنْ بَيْتِي إِلَى الْمَجْلِسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ان کا گزر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ کے ذریعے یوں اشارہ کر رہے تھے جیسے اپنے آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ آپ اپنے آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں کیا کروں ، اللہ کا دشمن یہ چاہتا ہے کہ وہ مجھے اس کام کے حوالے سے پھسلا دے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم ہمیشہ یہ بھرپور کوشش کرنا کہ اپنے گھر میں رہو اور نکل کر مجلس کی طرف نہ جاؤ ۔ “ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے : ” جو شخص اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص حکمران کے پاس جاتا ہے تاکہ اس کی مدد کرے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے اور جو شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی کی برائی کے ہمراہ غیبت نہیں کرتا ، وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ۔ “ ( پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو اللہ کا دشمن یہ چاہتا ہے کہ مجھے میرے گھر سے نکال کر محفل کی طرف لے جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18193
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : مُوَرِّقٌ ، فَكَانَ مُتَعَبِّدًا ، فَبَيْنَا هُوَ قَائِمٌ فِي صَلَاتِهِ ذَكَرَ النِّسَاءَ ، وَاشْتَهَاهُنَّ وَانْتَشَرَ ، حَتَّى قَطَعَ صَلَاتَهُ ، فَغَضِبَ فَأَخَذَ قَوْسَهُ فَقَطَعَ وَتَرَهُ فَعَقَدَهُ بِخُصْيَتِهِ وَشَدَّهُ إِلَى عَقِبِهِ ، ثُمَّ شَدَّ رِجْلَيْهِ فَانْتَزَعَهَا ، ثُمَّ أَخَذَ طِمْرَيْهِ ، وَنَعْلَيْهِ حَتَّى أَتَى أَرْضًا لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ ، فَاتَّخَذَ عَرِيشًا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ كُلَّمَا أَصْبَحَ تَصَدَّعَتِ الْأَرْضُ ، فَخَرَجَ لَهُ خَارِجٌ مِنْهَا مَعَهُ إِنَاءٌ فِيهِ طَعَامٌ ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ، ثُمَّ يَدْخُلُ ، فَيَخْرُجُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ، ثُمَّ يَدْخُلُ وَتَلْتَئِمُ الْأَرْضُ ، فَإِذَا أَمْسَى فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " . قَالَ : " وَمَرَّ النَّاسُ قَرِيبًا مِنْهُ ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّا بِهِ تَحْتَ جُنْحِ اللَّيْلِ ، فَسَأَلَاهُ عَنْ قَصْدِهِمَا ، فَسَمَتَ لَهُمَا بِيَدِهِ ، قَالَ : هَذَا قَصْدُكُمَا حَيْثُ يُرِيدَانِ ، فَسَارَا غَيْرَ بَعِيدٍ . قَالَ أَحَدُهُمَا : مَا يُسْكِنُ هَذَا الرَّجُلَ هَاهُنَا بِأَرْضٍ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ ؟ لَوْ رَجَعْنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَعْلَمَ عِلْمَهُ " . قَالَ : " فَرَجَعَا إِلَيْهِ ، فَقَالَا لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَكَانِ بِأَرْضٍ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ ؟ ! قَالَ : امْضِيَا لِشَأْنِكُمَا وَدَعَانِي ، فَأَبَيَا ، وَأَلَحَّا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَإِنِّي مُخْبِرُكُمَا عَلَى أَنَّ مَنْ كَتَمَ مِنْكُمَا عَنِّي أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا ، وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ أَظْهَرَ عَلَيَّ مِنْكُمَا أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا ، وَالْآخِرَةِ . قَالَا : نَعَمْ " . ¤ قَالَ : " فَنَزَلَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَّجَ الْخَارِجُ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَ الَّذِي كَانَ يُخْرِجُ مِنَ الطَّعَامِ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِثْلِ الَّذِي كَانَ يَخْرُجُ بِهِ كُلَّ يَوْمِ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ ، فَشَرِبُوا حَتَّى رَوُوا، ثُمَّ دَخَلَ ، وَالْتَأَمَتِ الْأَرْضُ " . قَالَ : " فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ ، فَقَالَ : مَا يُعْجِلُنَا ؟ هَذَا طَعَامٌ ، وَشَرَابٌ وَقَدْ عَلِمْنَا سَمْتَنَا مِنَ الْأَرْضِ ، امْكُثْ إِلَى الْعَشَاءِ . فَمَكَثَا ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِثْلُ الَّذِي خَرَجَ أَوَّلَ النَّهَارِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : امْكُثْ بِنَا حَتَّى نُصْبِحَ ، فَمَكَثَا . فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَجَ إِلَيْهِمَا مِثْلُ ذَلِكَ . ثُمَّ رَكِبَا فَانْطَلَقَا ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَلَزِمَ بَابَ الْمَلِكِ حَتَّى كَانَ مِنْ خَاصَّتِهِ وَسُمَّرِهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَقْبَلَ عَلَى تِجَارَتِهِ وَعَمَلِهِ ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَلِكُ لَا يَكْذِبُ أَحَدٌ فِي زَمَانِهِ مِنْ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ كَذْبَةً يُعْرَفُ بِهَا إِلَّا صَلَبَهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي السَّمَرِ يُحَدِّثُونَهُ مِمَّا رَأَوْا مِنَ الْعَجَائِبِ أَنْشَأَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يُحَدِّثُ فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ بِحَدِيثٍ مَا سَمِعْتَ أَعْجَبَ مِنْهُ قَطُّ ؟ فَحَدَّثَ بِحَدِيثِ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي رَأَى مِنْ أَمْرِهِ ، قَالَ الْمَلِكُ : مَا سَمِعْتُ بِكَذِبٍ قَطُّ أَعْظَمَ مِنْ هَذَا ، وَاللَّهِ ، لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَصْلُبَنَّكَ ، قَالَ : بَيِّنَتِي فُلَانٌ ، قَالَ : رِضَاءٌ . ائْتُونِي بِهِ ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ الْمَلِكُ : إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكُمَا مَرَرْتُمَا بِرَجُلٍ ، ثُمَّ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ الرَّجُلُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، أَوَ لَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا كَذِبٌ ، وَهَذَا مَا لَا يَكُونُ ؟ وَلَوْ أَنِّي حَدَّثْتُكَ بِهَذَا لَكَانَ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَصْلُبَنِي عَلَيْهِ . قَالَ : صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ ، فَأَدْخَلَ الرَّجُلَ الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ فِي خَاصَّتِهِ وَسُمَّرِهِ ، وَأَمَرَ بِالْآخَرِ فَصُلِبَ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَمَّا الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ مِنْهُمَا ; فَقَدْ أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَأَمَّا الَّذِي أَظْهَرُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا فَقَدْ أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا ، وَهُوَ مُهِينُهُ فِي الْآخِرَةِ " . ثُمَّ نَظَرَ بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْمُثَنَّى ، سَمِعْتَ جَدَّكَ يُحَدِّثُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ يَسِيرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ان میں ایک شخص تھا جس کا نام ” مورق “ تھا ، وہ عبادت گزار شخص تھا ، ایک مرتبہ وہ نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران اسے عورتوں کا خیال آیا اور اسے عورتوں کی شدید خواہش محسوس ہوئی وہ منتشر ہوا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی نماز توڑ دی ، پھر اسے غصہ آیا اس نے اپنی کمان لی اس کا تار کاٹا اور اس کے ذریعے اپنے خصیوں کو باندھ کر انہیں پیچھے کی طرف کھینچ دیا پھر اس نے اپنی چادر اور جوتے پکڑے اور ایسی سرزمین پر آ گیا ، جہاں کوئی فرد نہیں تھا اور کوئی جانور نہیں تھا ، وہاں اس نے ایک چھپر بنایا اور کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا صبح کے وقت زمین پھٹتی تھی ، اس میں سے کوئی باہر آتا تھا ، جس کے پاس ایک برتن ہوتا تھا ، جس میں کھانا موجود ہوتا تھا ” مورق “ وہ کھانا کھا لیتا تھا ، یہاں تک کہ سیر ہو جاتا تھا ، پھر وہ اندر چلا جاتا تھا ، پھر ایک برتن باہر آتا تھا ، جس میں مشروب ہوتا تھا ” مورق “ اس کو پیتا تھا ، یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا تھا ، پھر وہ برتن اندر چلا جاتا تھا اور زمین بند ہو جاتی تھی ، جب شام ہوتی تھی ، تو پھر ایسا ہوتا تھا ۔ ایک مرتبہ اس کے پاس سے کچھ افراد گزرے ، ان میں سے دو افراد ” مورق “ کے پاس سے گزرے ، رات ہو چکی تھی ان دونوں نے اس سے دریافت کیا : ان کی مطلوبہ جگہ کہاں ملے گی ؟ تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا : تمہارا مطلوبہ مقام اس طرف ہے ، وہ لوگ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ان میں سے ایک نے یہ کہا: یہ شخص یہاں کیسے رہا ہے ؟ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی جانور ہے ، اگر ہم اس کے پاس واپس جائیں تو ہمیں اس صورتحال کا پتہ چل جائے گا ، وہ دونوں اس کے پاس واپس آئے ، ان دونوں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم ایسی جگہ پر کیسے رہے ہو ؟ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی جانور ہے ، اس نے کہا: تم اپنے کام سے جاؤ اور مجھے چھوڑ دو ! لیکن ان دونوں نے یہ بات نہیں مانی اور اس کے سامنے گریہ و زاری کرتے رہے ، اس نے کہا: میں تمہیں اس شرط پر یہ بات بتاؤں گا کہ تم دونوں میں سے جو بھی میرا معاملہ پوشیدہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا کرے گا اور تم میں سے جس نے میرے معاملے کو ظاہر کیا ، اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں رسوا کرے گا ، ان دونوں نے کہا: ٹھیک ہے ۔ پھر وہ دونوں وہاں ٹھہر گئے ، جب صبح ہوئی تو زمین میں سے کوئی باہر آیا جیسے وہ پہلے کھانا لے کے آتا تھا ، اس طرح کی مانند مزید دو گنا کھانا لے کر آیا ، ان لوگوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ زمین کے اندر گیا اور ان کے لیے ایک برتن میں مشروب لے کے آیا ، جتنا مشروب وہ پہلے لے کر آتا تھا اس کے ہمراہ مزید دو گنا تھا ، ان لوگوں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے ، پھر وہ ( مشروب لانے والا ) اندر چلا گیا اور زمین مل گئی ۔ ان دونوں افراد میں سے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا: ہمیں کونسا جلدی ہے ، یہاں کھانا اور مشروب مل رہا ہے اور ہم نے جہاں جانا ہے ، اس کا ہمیں پتا ہے ، ہم شام تک ادھر ہی رہتے ہیں ، وہ دونوں وہاں ٹھہر گئے ، شام کے وقت پھر ان کے لئے اسی طرح کا کھانا اور مشروب آیا ، جس طرح دن کے ابتدائی حصے میں آیا تھا ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہم صبح ہونے تک ٹھہرے رہتے ہیں ، وہ دونوں ٹھہر گئے ، جب صبح ہوئی تو ان کے لئے پھر اسی طرح کھانا اور مشروب آیا ۔ پھر وہ دونوں سوار ہوئے اور وہاں سے روانہ ہو گئے ، ان دونوں میں سے ایک بادشاہ کا مقرب اور انتہائی قریبی ساتھی بن گیا دوسرا شخص اپنی تجارت اور کام کاج میں مصروف ہو گیا ، بادشاہ کا یہ معمول تھا کہ اس کی سلطنت میں جو بھی شخص جھوٹ بولتا تھا ، اور اس کا جھوٹ ثابت ہو جاتا تو بادشاہ اسے مصلوب کروا دیتا تھا ، ایک دن رات کے وقت بادشاہ کے مصاحب اس کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور انہوں نے جو حیران کن چیزیں دیکھی تھیں ان کا تذکرہ کر رہے تھے اسی دوران وہ شخص بولا: اسے بادشاہ سلامت ! کیا میں آپ کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ آپ نے کبھی اس سے زیادہ حیران کن بات نہیں سنی ہو گی ؟ پھر اس شخص نے اس ( یعنی عبادت گزار مورق ) کا واقعہ سنایا اور اس کے پاس جو صورتحال دیکھی تھی وہ بیان کی ، تو بادشاہ نے کہا: میں نے اس سے زیادہ بڑا جھوٹ کبھی نہیں سنا ، اللہ کی قسم ! تم نے جو بیان کیا ہے ، یا تو تم اس کا ثبوت پیش کرو گے یا پھر میں تمہیں مصلوب کروا دوں گا ، اس شخص نے کہا: میرا گواہ فلاں شخص ہے ، بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے اُسے میرے پاس لے کے آؤ ، جب وہ دوسرا شخص بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے کہا: اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ تم دونوں ایک فرد کے پاس سے گزرے تھے اور پھر وہاں اس اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی ؟ تو دوسرے شخص نے کہا: اے بادشاہ ! کیا آپ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ یہ بات جھوٹ ہے اور یہ نہیں ہو سکتا ؟ اگر میں نے آپ کو یہ بات بیان کی ہوتی تو یہ آپ کا حق تھا کہ آپ اس کی وجہ سے مجھے مصلوب کروا دیتے ، بادشاہ نے کہا: تم نے سچ کہا: ہے اور تم نے نیکی کا کام کیا ہے ، تو جس دوسرے شخص نے اس بات کو چھپایا تھا ، بادشاہ نے اُسے اپنے مقربین میں شامل کر لیا اور جس شخص نے ( یہ راز افشا کیا تھا ) بادشاہ نے اسے مصلوب کروا دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُن دونوں میں سے جس نے اس کے معاملے کو پوشیدہ رکھا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا کی اور ان دونوں میں سے جس نے اس کے معاملے کو ظاہر کیا تھا ، اللہ تعالی نے اُسے دنیا میں رسوائی کا شکار کیا اور وہ آخرت میں بھی اس کو رسوائی کا شکار کرے گا ۔ “ اس کے بعد بکر بن عبداللہ مزنی نامی راوی نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس کی طرف دیکھا اور بولے : اے ابومثنیٰ ! کیا آپ نے اپنے دادا ( یعنی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث روایت کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ اس کے بعض راویوں میں معمولی سا ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ اس کے بعض راویوں میں معمولی سا ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18194
وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ : حَجَّ عُمَرُ عَامَ الرَّمَادَةِ سَنَةَ سِتَّ عَشْرَةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ السُّقْيَا وَالْعَرَجِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ عَرَضَ لَهُ رَاكِبٌ عَلَى الطَّرِيقِ فَصَاحَ : أَيُّهَا الرَّكْبُ ، أَفِيكُمُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : وَيْلَكَ ، أَتَعْقِلُ ؟ ! قَالَ : الْعَقْلُ سَاقَنِي إِلَيْكَ ، أَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : تُوُفِّيَ ، فَبَكَى وَبَكَى النَّاسُ مَعَهُ . فَقَالَ : مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ ؟ قَالُوا : ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَقَالَ : أَحْنَفُ بَنِي تَمِيمٍ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ . فَقَالَ : فَهُوَ فِيكُمْ ؟ قَالُوا : لَا . قَدْ تُوُفِّيَ ، فَدَعَا ، وَدَعَا النَّاسُ . فَقَالَ : مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ ، قَالُوا : عُمَرُ . قَالَ : أَحْمَرُ بَنِي عَدِيٍّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . هُوَ الَّذِي يُكَلِّمُكَ ، فَقَالَ : فَأَيْنَ كُنْتُمْ عَنْ أَبْيَضِ بَنِي أُمَيَّةَ ، أَوْ أَصْلَعِ بَنِي هَاشِمٍ ؟ قَالُوا : قَدْ كَانَ ذَاكَ فَمَا حَاجَتُكَ ؟ قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبُو عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيُّ عَلَى رَدْهَةِ جُعَيْلٍ ، فَأَسْلَمْتُ ، وَبَايَعْتُ ، وَشَرِبْتُ مَعَهُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ ، شَرِبَ أَوَّلَهَا ، وَسَقَانِي آخِرَهَا ، فَوَاللَّهِ ، مَا زِلْتُ أَجِدُ شِبَعَهَا كُلَّمَا جُعْتُ ، وَبَرْدَهَا كُلَّمَا عَطِشْتُ ، وَرِيَّهَا كُلَّمَا ظَمِئْتُ إِلَى يَوْمِي هَذَا ، ثُمَّ تَسَنَّمْتُ هَذَا الْجَبَلَ الْأَبْعَرَ أَنَا وَزَوْجَتِي وَبَنَاتٌ لِي ، فَكُنْتُ فِيهِ أُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَأَصُومُ شَهْرًا فِي السَّنَةِ ، وَأَذْبَحُ لِعَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ ، فَذَلِكَ مَا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَتْ هَذِهِ السَّنَةُ ، فَوَاللَّهِ ، مَا بَقِيَتْ لَنَا شَاةٌ إِلَّا شَاةٌ وَاحِدَةٌ ، بَغَتَهَا الذِّئْبُ الْبَارِحَةَ ; فَأَكَلَ بَعْضَهَا وَأَكَلْنَا بَعْضَهَا ، فَالْغَوْثَ الْغَوْثَ ! فَقَالَ عُمَرُ : أَتَاكَ الْغَوْثُ ، أَصْبِحْ مَعَنَا بِالْمَاءِ . وَمَضَى عُمَرُ حَتَّى الْمَاءِ وَجَعَلَ يَنْتَظِرُ ، وَأَخَّرَ الرَّوَاحَ مِنْ أَجْلِهِ ، فَلَمْ يَأْتِ . فَدَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ : إِنَّ أَبَا عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيَّ مَعَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ لَهُ وَزَوْجُهُ ، فَإِذَا جَاءَكَ فَأَنْفِقْ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ رَاجِعًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ حَجَّهُ وَرَجَعَ دَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ : مَا فَعَلَ أَبُو عُقَيْلٍ ؟ فَقَالَ : جَاءَنِي الْغَدَ يَوْمَ حَدَّثْتَنِي ، فَإِذَا هُوَ مَوْعُوكٌ فَمَرِضَ عِنْدِي لَيَالٍ ثُمَّ مَاتَ ، فَذَاكَ قَبْرُهُ . فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : لَمْ يَرْضَ اللَّهُ لَهُ فِتْنَتَكُمْ ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَضَمَّ بَنَاتِهِ وَزَوْجَتَهُ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
اسلم بیان کرتے ہیں ” رمادہ “ کے سال ، یعنی سولہ ہجری میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لئے گئے ، جب وہ نصف رات کے وقت ” سقیا “ اور ” عرج “ کے درمیان تھے تو راستے میں ایک سوار اُن کے سامنے آیا اس نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے سوارو ! کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ! کیا تم عقل رکھتے ہو ؟ اس نے کہا: عقل ہی مجھے آپ کی طرف لے کر آئی ہے ، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ان کا وصال ہو چکا ہے ، وہ رونے لگا اس کے ساتھ لوگ بھی رونے لگے ، پھر اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد کون شخص معاملے کا نگران بنا ؟ لوگوں نے بتایا : ابوقحافہ کے صاحبزادے ! اس نے کہا: وہ کمزور سے شخص ، جن کا تعلق بنو تیم سے ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : کیا وہ تمہارے درمیان موجود ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! ان کا بھی انتقال ہو گیا ہے ، اس نے دعا کی ، لوگوں نے بھی دعا کی ، اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد معاملے کا نگران کون بنا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، اس نے کہا: بنو عدی سے تعلق رکھنے والے سرخ رنگ کے فرد ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! وہی تمہارے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ، اس نے کہا: تم نے بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) سفید رنگت کے فرد یا بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) آگے سے گنجے فرد کو فتخب کیوں نہیں کیا ؟ لوگوں نے کہا: اب تو یہ ہو چکا ہے ( تم بتاؤ ) تمہیں کیا کام ہے ؟ اس نے کہا: میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ” جعیل “ کی چٹان پر ہوئی تھی ، میں نے اسلام قبول کیا تھا اور بیعت کی تھی ، اور آپ کے ساتھ ستو پیا تھا ، جس کا ابتدائی حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور اس کا آخری حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پلایا تھا ، اللہ کی قسم ! اس کے بعد جب بھی مجھے بھوک محسوس ہوتی ہے تو اس ستو پینے کی طاقت مجھے اپنے اندر محسوس ہوتی ہے اور جب بھی مجھے پیاس لگتی ہے تو اس کی ٹھنڈک مجھے محسوس ہوتی ہے اور جب بھی میں پیاسا ہوتا ہوں ، تو اس کی سیرابی مجھے محسوس ہوتی ہے اور ایسا آج کے دن تک ہوتا رہا ہے ، پھر میں نے اس پہاڑ کی چوٹی پر رہائش اختیار کر لی ، میں تھا ، میری بیوی تھی ، میری بیٹیاں تھیں ، میں وہاں روزانہ پانچ نمازیں ادا کرتا ہوں ، سال میں ایک مخصوص مہینے کے روزے رکھتا ہوں ، ذوالج کی دس تاریخ کو جانور ذبح کرتا ہوں ، یہ وہ امور ہیں جن کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی تھی ، یہاں تک کہ یہ سال آ گیا ، اللہ کی قسم ! میری بکریوں میں سے صرف ایک بکری بچی تھی اور اس کو بھی کل ایک بھیڑیا لے گیا ، اس بکری کا کچھ حصہ اس نے کھا لیا اور کچھ ہم نے کھا لیا تو اب مدد کی ضرورت ہے ، مدد کی ضرورت ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے پاس مدد آ جائے گی ، تم صبح تک ہمارے ساتھ پانی کے پاس رہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ پانی کے پاس پہنچ گئے ، وہ انتظار کرتے رہے ، انہوں نے اس شخص کی وجہ سے روانگی کو مؤخر کیا ، لیکن وہ نہیں آیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانی کے مالک ( یا وہاں کے مقامی بڑے ) کو بلایا اور یہ فرمایا : ابوعقیل جعیلی کے ساتھ اس کی تین بیٹیاں ہیں اور اس کی بیوی ہے جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس پر اور اس کے اہل خانہ پر اور اس کی اولاد پر خرچ کرنا ، جب تک میں واپسی پر تمہارے پاس سے نہیں گزرتا ، اگر اللہ نے چاہا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج کر لیا اور وہ واپس روانہ ہوئے ( راستے میں ) انہوں نے اس پانی کے مالک کو بلوایا اور دریافت کیا : ابوعقیل کے معاملے کا کیا بنا ؟ اس نے بتایا : جب آپ نے مجھے ہدایت کی تھی اس سے اگلے دن وہ میرے پاس آیا تھا ، اُسے بخار تھا وہ چند دن میرے پاس بیمار رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا ، اُس کی قبر وہاں ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس آزمائش سے راضی نہیں ہوا ، جس کا سامنا تم لوگوں کو کرنا پڑا ، پھر وہ لوگوں کے ساتھ اس کی قبر پر گئے اور انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، اُس کے بعد اس کی صاحبزادیوں اور بیوی کی کفالت انہوں نے اپنے ذمہ لی اور انہیں خرچ فراہم کرتے رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔