مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ . باب: خوف اور امید کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ ، وَاسْتَغْرَبُوا ضَحِكًا ; فَأَغْضَبَهُ ذَلِكَ فَقَالَ : " مَا لِلضَّحِكِ خُلِقْتُمْ " . وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنِ اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ - فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُيَسِّرَ وَلَا تُعَسِّرَ ، وَتُبَشِّرَ وَلَا تُنَفِّرَ . فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَشَّرَهُمْ وَيَسَّرَ عَلَيْهِمْ ، وَبَسَطَ مِنْهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل صفہ کے پاس تشریف لائے ، جن کی آوازیں بلند ہو چکی تھی اور وہ ہنس رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر غصہ آ گیا ، آپ نے فرمایا : تمہیں ہنسنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر انکار کیا ، سیدنا جبرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئے اور بولے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ آسانی فراہم کریں ، آپ تنگی کا شکار نہ کریں ، خوشخبری سنائیں ، آپ متنفر نہ کریں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں خوش خبری سنائی ، انہیں آسانی فراہم کی اور انہیں خوشی سے ملے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن یحیی مدنی ہے اور وہ کذاب ہے ۔