مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ . باب: خوف اور امید کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ : انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ تَحْرِقُوهُ حَتَّى تَدَعُوهُ حُمَمًا ، ثُمَّ اطْحَنُوهُ ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمٍ رَاحٍ . فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَخَافَتُكَ ! قَالَ : فَغَفَرَ لَهُ بِهَا ، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُ أَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ ابْنِ سِيرِينَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . قُلْتُ : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ ، قَدْ ذَكَرْتُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِي التَّوْبَةِ فِي بَابِ فِيمَنْ خَافَ مِنْ ذَنْبِهِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اور ابن سیرین ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ، البتہ وہ توحید ( کے عقیدے ) پر قائم تھا ، جب اُس کا آخری وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم اس بات کا دھیان رکھنا ، جب میں مر جاؤں تو تم مجھے جلا دینا یہاں تک کہ میں کوئلہ بن جاؤں ، پھر تم مجھے پیس دینا اور پھر تیز ہوا والے دن میں اُس راکھ کو اڑا دینا ، جب وہ شخص مر گیا تو اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا ، جب وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابن آدم ! تم نے جو یہ کیا ہے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو پروردگار نے اس ( خوف ) کی وجہ سے اُس کی مغفرت کر دی ، حالانکہ اس نے توحید کا قائل ہونے کے علاوہ اور کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ابن سیرین کی سند میں ایسا شخص ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے حوالے سے منقول ہے میں نے وہ تمام روایات - کتاب التوبة باب : اُس شخص کا بیان جو اپنے گناہ سے خوفزدہ ہو ۔ میں نقل کر دی ہیں ۔