مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ . باب: خوف اور امید کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ قُلْ لِأَهْلِ طَاعَتِي مِنْ أُمَّتِكَ لَا يَتَّكِلُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ ; فَإِنِّي لَا أُقَاصُّ عِنْدَ الْحِسَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ أَشَاءُ أَنْ أُعَذِّبَهُ إِلَّا عَذَّبْتُهُ . وَقُلْ لِأَهْلِ الْمَعَاصِي مِنْ أُمَّتِكَ : لَا يُلْقُونَ بِأَيْدِيهِمْ ; فَإِنِّي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ الْعِظَامَ ، وَلَا أُبَالِي ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ ، وَلَا أَهْلِ مَدِينَةٍ ، وَلَا أَرْضٍ ، وَلَا رَجُلٍ بِخَاصَّةٍ ، وَلَا امْرَأَةٍ يَكُونُ لِي عَلَى مَا أُحِبُّ ; فَأَكُونُ لَهُ عَلَى مَا يُحِبُّ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ عَمَّا أُحِبُّ إِلَى مَا أَكْرَهُ إِلَّا تَحَوَّلْتُ لَهُ عَمَّا يُحِبُّ إِلَى مَا يَكْرَهُ . وَإِنَّهُ لَيْسَ مَنْ أَهْلِ مَدِينَةٍ ، وَلَا أَهْلِ أَرْضٍ ، وَلَا رَجُلٍ بِخَاصَّةٍ ، وَلَا امْرَأَةٍ يَكُونُ لِي عَلَى مَا أَكْرَهُ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ لِي عَمَّا أَكْرَهُ إِلَى مَا أُحِبُّ إِلَّا تَحَوَّلْتُ لَهُ عَمَّا يَكْرَهُ إِلَى مَا يُحِبُّ . لَيْسَ مِنِّي مَنْ تَطَيَّرَ ، أَوْ تُطِيِّرَ لَهُ ، أَوْ تَكَهَّنَ ، أَوْ تُكِهِّنَ لَهُ ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ . إِنَّمَا أَنَا وَخَلْقِي ، وَكُلُّ خَلْقِي لِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مُسْلِمٍ الطُّهَوِيُّ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : لَيِّنٌ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، وہاں امیرالمؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر موجود تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیاء کرام میں سے ایک نبی کی طرف یہ وحی کی : کہ تم اپنی امت سے تعلق رکھنے والے میرے فرمانبردار بندوں سے یہ کہہ دو : کہ وہ لوگ اپنے اعمال پر تکیہ نہ کریں ، کیونکہ قیامت کے دن حساب کے وقت مجھ سے بدلہ نہیں لیا جائے گا ، پھر اگر میں انہیں عذاب دینا چاہوں گا تو عذاب دے دوں گا اور تم اپنی امت سے تعلق رکھنے والے گناہ گار لوگوں سے یہ کہہ دو : وہ اپنے ہاتھ نہ ڈالیں ، کیونکہ میں بڑے گناہوں کی مغفرت کر دوں گا اور میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا ، جس بھی بستی کا یا شہر کا یا سرزمین کا رہنے والا کوئی فرد یا کوئی مخصوص آدمی یا عورت ، وہ میری خاطر وہ کام کرے جسے میں پسند کرتا ہوں تو میں اُس کے لیے ویسا ہو جاؤں گا جسے وہ پسند کرتا ہو گا ، لیکن جو میری پسند سے پھر کر اس طرف جائے گا جو مجھے ناپسند ہو تو میں اس کے لئے اس کی پسند سے تبدیل ہو کے اُس طرف ہو جاؤں گا جو اسے ناپسند ہو ، جس بھی شہر یا سرزمین کا فرد یا کوئی مخصوص مرد یا عورت ، وہ عمل کریں گے جو مجھے ناپسند ہو تو میں اُن کے لیے ویسا ہو جاؤں گا جو انہیں ناپسند ہو اور جس بھی بستی یا شہر کا کوئی فرد یا کوئی مخصوص مرد یا عورت ، وہ کام کرتے ہوں جو مجھے ناپسند ہو اور پھر وہ اس سے منتقل ہو کر وہ کام کریں ، جو مجھے پسند ہو تو میں ان کی ناپسندیدگی سے تبدیل ہو کے اس طرف ہو جاؤں گا جو انہیں پسند ہو ، اُس شخص کا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے جو فال نکالتا ہے یا جس کے لئے فال نکالی جاتی ہے یا جو کہانت کرتا ہے یا اس کے لئے کہانت کی جاتی ہے یا جو جادو کرتا ہے یا اُس کے لیے جادو کیا جاتا ہے ، بے شک میں ہوں اور میری مخلوق ہے ، اور میری ساری مخلوق میری ملکیت ہے ۔ “
یہ روایت طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسلم طہوی ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ کمزور ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، ان شاء اللہ ۔