کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایک گھڑی اور دوسری گھڑی ( میں کیفیات مختلف ہونے ) کا بیان
حدیث نمبر: 18202
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَيْنَا فِي أَنْفُسِنَا مَا نُحِبُّ ، فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا وَخَالَطْنَاهُمْ أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا ! فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي فِي الْخَلَاءِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا ، وَلَكِنْ سَاعَةً وَسَاعَةً " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّازِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ؟ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَقَالَ : " لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُظِلَّكُمْ بِأَجْنِحَتِهَا عِيَانًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے : ” جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تھے تو ہم اپنے من میں وہ چیز محسوس کرتے تھے جو ہمیں اچھی لگتی تھی ، اور جب ہم اپنے اہل خانہ کی طرف واپس چلے جاتے تھے اور ان کے ساتھ گھل مل جاتے تھے تو ہمیں اپنے من کی کیفیت تبدیل محسوس ہوتی تھی ، اُن لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کی میرے پاس جو کیفیت ہوتی ہے ، اگر تنہائی میں ( یعنی مجھ سے دور ہو کر ) بھی ویسی ہی کیفیت ہو تو فرشتے اپنے پروں کے ذریعے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں ، لیکن وقت ، وقت ( کی کیفیت مختلف ہوتی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زہیر بن محمد رازی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں اور تم پر اپنے پروں کے ذریعے سایہ کریں ، جسے دیکھا جا سکے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (3234) أخرجه أبو يعلى فى المسند (3035) اخرجه احمد فى المسند (175/3)»
حدیث نمبر: 18203
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : كَانَ لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بَيْتٌ قَدْ أَخْلَاهُ لِلْحَدِيثِ ، فَكُنَّا نَأْتِيهِ فِيهِ ، وَكَانَ يَقُولُ : سَاعَةٌ لِلدُّنْيَا ، وَسَاعَةٌ لِلْآخِرَةِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَيَّ السَّاعَتَيْنِ تَغْلِبُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا گھر تھا ( یہاں شاید کمرہ مراد ہے ) جسے انہوں نے بات چیت کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا ، وہ ایک پہر دنیاوی امور پر گفتگو کرتے تھے اور ایک بہر آخرت کے بارے میں گفتگو کرتے تھے ، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان دونوں میں کون سا پہر غالب ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان بن ابوصفوان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (831)»
حدیث نمبر: 18204
عَنْ عَمَّارٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَفَى بِالْمَوْتِ وَاعِظًا ، وَكَفَى بِالْيَقِينِ غِنًى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نصیحت کرنے والے کے طور پر موت کافی ہے اور خوشحالی کے لئے یقین کافی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18205
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِمَجْلِسٍ ، وَهُمْ يَضْحَكُونَ ، قَالَ : " أَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَادِمِ اللَّذَّاتِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَإِنَّهُ مَا ذَكَرَهُ أَحَدٌ فِي ضِيقٍ مِنَ الْعَيْشِ إِلَّا وَسَّعَهُ عَلَيْهِ ، وَلَا فِي سَعَةٍ إِلَّا ضَيَّقَهَا عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک محفل کے پاس سے ہوا ، جس میں لوگ ہنس رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ لذتوں کو منہدم کر دینے والی موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرو ! “ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تنگی کے عالم میں اسے یاد کرے گا یہ اس کے لیے گنجائش پیدا کر دے گی اور جو گنجائش کے عالم میں اسے یاد کرے گا ، یہ اس کے لئے تنگی پیدا کر دے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے ان صحابی کے حوالے سے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3623) أخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (695)»
حدیث نمبر: 18206
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، وَيَذْكُرُونَ مِنْ عِبَادَتِهِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِتٌ ، فَلَمَّا سَكَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ الْمَوْتِ ؟ " . قَالُوا : لَا . قَالَ : " فَهَلْ كَانَ يَدَعُ كَثِيرًا مِمَّا يَشْتَهِي " . قَالُوا : لَا . قَالَ : " مَا بَلَغَ صَاحِبُكُمْ كَثِيرًا مِمَّا تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی تعریف کرنا شروع کی اور اس کی عبادت کا ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، جب لوگ خاموش ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وہ موت کا ذکر کثرت سے کرتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے جن چیزوں کی خواہش محسوس ہوتی تھی ، کیا وہ ان میں سے زیادہ تر چیزیں چھوڑ دیتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ساتھی اس میں سے زیادہ تر نہیں پہنچا ، جس کی طرف تم جا رہے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5941)»
حدیث نمبر: 18207
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ بِعِبَادَةٍ وَاجْتِهَادٍ ، فَقَالَ : " كَيْفَ ذِكْرُ صَاحِبِكُمْ لِلْمَوْتِ ؟ " . قَالُوا : مَا نَسْمَعُهُ يَذْكُرُهُ . قَالَ : " لَيْسَ صَاحِبُكُمْ هُنَاكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا عبادت اور اجتہاد ( یعنی عبادت میں بھرپور اہتمام ) کے حوالے سے ذکر کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا وہ ساتھی موت کو کتنا یاد کرتا تھا ؟ لوگوں نے کہا: ہم نے اُسے موت کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تمہارا ساتھی اتنے پائے کا نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18207
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3622)»
حدیث نمبر: 18208
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ حَبِّبِ الْمَوْتَ إِلَى مَنْ يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو اُس شخص کے نزدیک موت کو محبوب کر دے جو یہ جانتا ہو کہ میں تیرا رسول ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18208
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18209
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا طَارِقُ ، اسْتَعِدَّ لِلْمَوْتِ قَبْلَ الْمَوْتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ نَاصِحٍ . قَالَ أَحْمَدُ : كَانَ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طارق بن عبدالله محاربی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے طارق ! موت سے پہلے موت کے لئے تیاری کر لو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ناصح ہے ، امام أحمد کہتے ہیں : وہ سب سے بڑا جھوٹا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8174)»
حدیث نمبر: 18210
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَهُوَ خَاثِرٌ فَقُلْنَا : مَا لَكَ ؟ قَالَ : ذَهَبَ صَفْوُ الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكَدَرُ ، وَالْمَوْتُ الْيَوْمَ تُحْفَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، اُن کا مزاج خوشگوار نہیں تھا ، ہم نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” دنیا کا صاف حصہ رخصت ہو گیا ہے اور صرف اس کا گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے ، اور آج موت ہر مسلمان کے لئے تحفے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18210
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8774)»
حدیث نمبر: 18211
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، مَا مِنْ نَفْسٍ حَيَّةٍ إِلَّا الْمَوْتُ خَيْرٌ لَهَا إِنْ كَانَ بَرًّا ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ . وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اُس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، آج جو بھی شخص زندہ ہے ، اُس کے حق میں موت بہتر ہے ، اگر وہ نیک ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے ۔ “ اور اگر کوئی شخص گناہ گار ہو تو اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے : ” اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ ہم انہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں بہتر ہے ہم انہیں ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ ان کے گناہ میں اضافہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8759)»
حدیث نمبر: 18212
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ ; فَإِنَّهُ مَا ذَكَرَهُ أَحَدٌ فِي ضِيقٍ إِلَّا وَسَّعَهُ ، وَلَا ذَكَرَهُ فِي سَعَةٍ إِلَّا ضَيَّقَهَا عَلَيْهِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لذتوں کو تیزی سے کاٹ دینے والی ( چیز یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کرو ! کیونکہ جو شخص تنگی کے عالم میں اس کو یاد کرے گا یہ اس کے لیے گنجائش پیدا کر دے گی اور جو گنجائش کے عالم میں اس کو یاد کرے گا ، یہ اسے تنگی کا شکار کر دے گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18212
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 18213
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ - يَعْنِي الْمَوْتَ - ; فَإِنَّهُ مَا كَانَ فِي كَثِيرٍ إِلَّا قَلَّلَهُ ، وَلَا قَلِيلٍ إِلَّا أَجْزَلَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَنَسٍ فِي هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لذتوں کو تیزی سے کاٹ دینے والی ( چیز ، راوی کہتے ہیں : یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کرو ! کیونکہ جو شخص کثرت میں ہو گا یہ ( یاد کرنا ) اُس کو قلت میں کر دے گا اور جو شخص قلت میں ہو گا ، یہ اسے کثرت میں کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس باب میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18213
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 18214
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَاشِرَ عَشْرَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ ، وَأَحْزَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ ، وَأَكْثَرُهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ ، قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ أُولَئِكَ هُمُ الْأَكْيَاسُ ، ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا ، وَكَرَامَةِ الْآخِرَةِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، مجھ سمیت دس افراد تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا ، اُس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سب سے زیادہ سمجھدار ہے ؟ اور کون سب سے زیادہ محتاط ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والا ہو ، اور جس نے موت کے آنے سے پہلے موت کے لیے سب سے زیادہ تیاری کی ہو ، وہ لوگ ہی سمجھدار ہیں ، دنیا کا شرف اور آخرت کی کرامت ( یعنی عزت ) لے گئے ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1008) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13536)»