مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ . باب: خوف اور امید کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَضْحَكُونَ فَقَالَ : " تَضْحَكُونَ وَذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ ! " . قَالَ : فَمَا رُئِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ ضَاحِكًا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ : وَنَزَلَتْ : " نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو ہنس رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ حالانکہ تمہارے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد ان لوگوں میں سے کسی کو بھی مرتے دم تک ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” تم میرے بندوں کو یہ بتا دو ! کہ بے شک میں مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب ، وہ دردناک عذاب ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔