کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ان گناہوں کا بیان جنہیں حقیر سمجھا جاتا ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ يُهْلِكْنَهُ " . ¤ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا : " كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ ، حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا ، وَأَجَّجُوا نَارًا ، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ دَاوَدَ الْقِطَّانِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حقیر گناہوں سے بچ کے رہو ! کیونکہ وہ کسی شخص کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اسے ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے ایک مثال بیان کی : جیسے کچھ لوگ کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، کھانا تیار کرنے کا وقت ہوتا ہے ، ایک شخص جاتا ہے ایک لکڑی لے آتا ہے ، دوسرا شخص جاتا ہے دوسری لکڑی لے آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بہت سی لکڑیاں اکٹھی کر لیتے ہیں ، آگ جلاتے ہیں اور اس پر کچھ پکا لیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عمران بن داؤد قطان کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (105000) اخرجه احمد فى المسند (3818)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ ، وَلَكِنَّهُ سَيَرْضَى مِنْكُمْ بِدُونِ ذَلِكَ بِالْمُحَقَّرَاتِ ، وَهِيَ الْمُوبِقَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، اتَّقُوا الْمَظَالِمَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ; فَإِنَّ الْعَبْدَ يَجِيءُ بِالْحَسَنَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَرَى أَنَّهَا سَتُنْجِيهِ ، فَمَا زَالَ عَبْدٌ يَقُومُ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، ظَلَمَنِي عَبْدُكَ مُظْلِمَةً فَيَقُولُ : امْحُوَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، مَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ مِنَ الذُّنُوبِ ، وَإِنَّ مِثْلَ ذَلِكَ كَسَفَرٍ نَزَلُوا بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ مَعَهُمْ حَطَبٌ ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ لِيَحْطِبُوا ، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ حَطَبُوا فَأَعْظَمُوا النَّارَ وَطَبَخُوا مَا أَرَادُوا ، وَكَذَلِكَ الذُّنُوبُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب کی سرزمین پر بتوں کی عبادت کی جائے ، البتہ وہ تمہاری طرف سے اس سے کم چیز یعنی حقیر گناہوں سے بھی راضی ہو جائے گا ، اور وہ گناہ قیامت کے دن ہلاکت کا شکار کرنے والے ہوں گے ، تم سے جہاں تک ہو سکے ، ظلم کرنے سے بچو ! کیونکہ قیامت کے دن کوئی بندہ نیکیاں لے کر آئے گا اور وہ یہ سمجھے گا کہ یہ نیکیاں اسے نجات دلا دیں گی ، لیکن پھر کوئی بندہ کھڑا ہو کر یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیرے بندے نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی ، تو پروردگار فرمائے گا : اس کی نیکیاں مٹا دو ! ایسا مسلسل ہوتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس شخص کی کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہے گی ، اس کی مثال یوں ہے ، جیسے کچھ لوگ سفر کرنے کے دوران کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ان کے پاس لکڑیاں نہیں ہوتی ہیں ، وہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لئے ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں ، یہاں تک کہ لکڑی کی اکٹھی کر لیتے ہیں اور بہت سی آگ جلا لیتے ہیں ، اور جو ان کا ارادہ ہو وہ پکا لیتے ہیں ، تو گناہوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5122)»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : إِنَّ مَثَلَ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفَرٍ ، نَزَلُوا بِأَرْضٍ قَفْرٍ مَعَهُمْ طَعَامٌ وَلَا يُصْلِحُهُمْ إِلَّا النَّارُ ، فَتَفَرَّقُوا فَجَعَلَ هَذَا يَأْتِي بِالرَّوْثَةِ ، وَهَذَا يَأْتِي بِالْعَظْمِ ، وَيَجِيءُ هَذَا بِالْعُودِ ، حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ مَا أَصْلَحُوا طَعَامَهُمْ ، وَكَذَلِكَ صَاحَبُ الْمُحَقَّرَاتِ يَكْذِبُ الْكَذِبَةَ ، وَيُذْنِبُ الذَّنْبَ ، وَيَجْمَعُ مِنْ ذَلِكَ مَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُبَّ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” حقیر گناہوں کی مثال ، ایسے مسافر لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ان کے پاس کھانے کے لیے اناج ہوتا ہے ، لیکن وہ اناج صرف آگ کے ذریعے تیار ہو سکتا ہے ، تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں ، کوئی شخص مینگنی لے کے آتا ہے ، کوئی ہڈی لے کے آتا ہے ، کوئی لکڑی لے کے آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اتنی چیزیں اکٹھی کر لیتے ہیں کہ انہیں آگ لگا کر اپنا کھانا تیار کر سکیں ، تو حقیر گناہ کرنے والے کی مثال بھی اسی طرح ہے ، کبھی وہ جھوٹ بول لیتا ہے ، کبھی کوئی اور گناہ کر لیتا ہے ، اور جب یہ سب اکٹھے ہوتے ہیں ، تو ہو سکتا ہے کہ وہ اسے چہرے کے بل جہنم کی آگ میں پھینکوا دیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17461
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موقوف صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8796)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بَطْنَ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ ، وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ ، حَتَّى حَمَلُوا مَا أَنْضَجُوا بِهِ خُبْزَهُمْ ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذْ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حقیر گناہوں سے بچ کے رہو ! کیونکہ حقیر گناہوں کی مثال ، ان لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی وادی میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، دوسرا شخص دوسری لکڑی لے کر آتا ہے ، یہاں تک کہ اتنی لکڑیاں ہو جاتی ہیں کہ ان کے ذریعے وہ اپنی روٹی پکا سکتے ہیں ، تو حقیر گناہوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ( کہ جب وہ بہت زیادہ اکٹھے ہو جائیں ) اور ان کے مرتکب شخص کی گرفت کی جائے ، تو وہ اس شخص کو ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام طبرانی نے اس کو تینوں کتابوں میں دو حوالوں سے نقل کیا ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالوہاب بن عبدالحکم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17462
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5872) اخرجه احمد فى المسند (331/2)»
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حُنَيْنٍ نَزَلْنَا قَفْرًا مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْمَعُوا ، مَنْ وَجَدَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ بِهِ ، وَمَنْ وَجَدَ عَظْمًا أَوْ سِنًّا فَلْيَأْتِ بِهِ " ، قَالَ : فَمَا كَانَ إِلَّا سَاعَةٌ حَتَّى جَعَلْنَاهُ رُكَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَرَوْنَ هَذَا ؟ فَكَذَلِكَ تُجْمَعُ الذُّنُوبُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْكُمْ كَمَا جَمَعْتُمْ هَذَا ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَجُلٌ ، فَلَا يُذْنِبُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً ; فَإِنَّهَا مُحْصَاةٌ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ أَبُو دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہوئے ، تو ہم نے ایک ویران جگہ پر پڑاؤ کیا وہاں کوئی چیز موجود نہیں تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ جمع کرو ! جسے جو چیز ملے ، وہ لے آئے ، جسے ہڈی ملے یا کوئی اور چیز ملے ، وہ اسے لے آئے ، راوی بیان کرتے ہیں : تھوڑی ہی دیر میں ایک ڈھیر اکٹھا ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اسے دیکھ رہے ہو ؟ اسی طرح گناہ تم میں سے کسی ایک شخص کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، جس طرح تم نے اس کو اکٹھا کیا ہے ، تو آدمی کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے ، اور چھوٹا یا بڑا کوئی گناہ نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ وہ اس شخص کے خلاف شمار ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیح ابوداؤد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17463
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5485)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا لَهِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو کہ وہ تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ ہلکے ہوتے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم لوگ انہیں ہلاکت کا شکار کرنے والے اعمال شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17464
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3/3)»
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ قَرَضٍ - أَوْ قَرَظٍ - قَالَ : إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ الْيَوْمَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ . ¤ قَالَ حُمَيْدٌ : فَقُلْتُ لِأَبِي قَتَادَةَ : فَكَيْفَ لَوْ أَدْرَكَ زَمَانَنَا هَذَا ؟ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : لَكَانَ لِذَلِكَ أَقْوَلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَالَ : عُبَادَةُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : عَبَّادُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ لفظ ہے : ) ۔ قرط فرماتے ہیں : ” آج کل تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ( یعنی ہلکے ) ہوتے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم لوگ انہیں ہلاکت کا شکار کرنے والے اعمال شمار کرتے تھے ۔ “ حمید کہتے ہیں : میں نے ابوقتادہ سے دریافت کیا : اگر وہ ہمارا زمانہ پا لیتے ، تو پھر کیا کہتے ؟ ابوقتادہ نے کہا: پھر تو یہ بات زیادہ موزوں ہونی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے لفظ ” عبادہ “ نقل کیا ہے ، جبکہ امام طبرانی نے اس میں لفظ ” عباد “ نقل کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کی اسانید کے بعض رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (470/3)»
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرٍّ - أَوْ هِرَّةٍ - رَبَطَتْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ تُرْسِلْهُ فَيَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، فَوَجَبَتْ لَهَا النَّارُ بِذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک عورت کو ، ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ۔ ( یہاں بلی کے لئے استعمال ہونے والے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ اس عورت نے اسے باندھ دیا ، یہاں تک کہ وہ مر گئی ، اس عورت نے اسے چھوڑا نہیں ، تاکہ وو بلی خود زمین سے کچھ کھا لیتی ، تو اس عمل کی وجہ سے اُس عورت کے لئے جہنم واجب ہو گئی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (335/3)»
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتْ : أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ ہی وہ فرد ہیں ، جو یہ حدیث بیان کرتے ہیں : کہ ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور وہ اس بلی کو کھانے کے لئے ، یا پینے کے لئے کچھ نہیں دیتی تھی ؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے یہ بات ان کی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ وہ عورت کیا تھی ؟ اپنے اس طرز عمل کے ہمراہ وہ عورت کافر بھی تھی ، اور مؤمن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بلی کی وجہ سے اُسے عذاب دے ، جب آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث روایت کریں ، تو اس بات کا جائزہ لے لیا کریں کہ آپ کیا روایت کر رہے ہیں ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (519/2)»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ لَغُفِرَ لَكُمُ الْكَثِيرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا كَمَا تَرَاهُ ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ مَوْقُوفًا ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ جانوروں کے ساتھ جو سلوک کرتے ہو ، اگر اُس حوالے سے تمہاری مغفرت ہو گئی ، تو تمہاری بہت سی ( دوسری کوتاہیوں کی بھی ) مغفرت ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں ، جبکہ ان کے صاحبزادے عبداللہ نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17468
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (441/6)»