حدیث نمبر: 17459
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ يُهْلِكْنَهُ " . ¤ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا : " كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ ، حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا ، وَأَجَّجُوا نَارًا ، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ دَاوَدَ الْقِطَّانِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حقیر گناہوں سے بچ کے رہو ! کیونکہ وہ کسی شخص کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اسے ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے ایک مثال بیان کی : جیسے کچھ لوگ کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، کھانا تیار کرنے کا وقت ہوتا ہے ، ایک شخص جاتا ہے ایک لکڑی لے آتا ہے ، دوسرا شخص جاتا ہے دوسری لکڑی لے آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بہت سی لکڑیاں اکٹھی کر لیتے ہیں ، آگ جلاتے ہیں اور اس پر کچھ پکا لیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عمران بن داؤد قطان کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (105000) اخرجه احمد فى المسند (3818)»