مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُحْتَقَرُ مِنَ الذُّنُوبِ . باب: ان گناہوں کا بیان جنہیں حقیر سمجھا جاتا ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : إِنَّ مَثَلَ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفَرٍ ، نَزَلُوا بِأَرْضٍ قَفْرٍ مَعَهُمْ طَعَامٌ وَلَا يُصْلِحُهُمْ إِلَّا النَّارُ ، فَتَفَرَّقُوا فَجَعَلَ هَذَا يَأْتِي بِالرَّوْثَةِ ، وَهَذَا يَأْتِي بِالْعَظْمِ ، وَيَجِيءُ هَذَا بِالْعُودِ ، حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ مَا أَصْلَحُوا طَعَامَهُمْ ، وَكَذَلِكَ صَاحَبُ الْمُحَقَّرَاتِ يَكْذِبُ الْكَذِبَةَ ، وَيُذْنِبُ الذَّنْبَ ، وَيَجْمَعُ مِنْ ذَلِكَ مَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُبَّ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” حقیر گناہوں کی مثال ، ایسے مسافر لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ان کے پاس کھانے کے لیے اناج ہوتا ہے ، لیکن وہ اناج صرف آگ کے ذریعے تیار ہو سکتا ہے ، تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں ، کوئی شخص مینگنی لے کے آتا ہے ، کوئی ہڈی لے کے آتا ہے ، کوئی لکڑی لے کے آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اتنی چیزیں اکٹھی کر لیتے ہیں کہ انہیں آگ لگا کر اپنا کھانا تیار کر سکیں ، تو حقیر گناہ کرنے والے کی مثال بھی اسی طرح ہے ، کبھی وہ جھوٹ بول لیتا ہے ، کبھی کوئی اور گناہ کر لیتا ہے ، اور جب یہ سب اکٹھے ہوتے ہیں ، تو ہو سکتا ہے کہ وہ اسے چہرے کے بل جہنم کی آگ میں پھینکوا دیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔