مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُحْتَقَرُ مِنَ الذُّنُوبِ . باب: ان گناہوں کا بیان جنہیں حقیر سمجھا جاتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ ، وَلَكِنَّهُ سَيَرْضَى مِنْكُمْ بِدُونِ ذَلِكَ بِالْمُحَقَّرَاتِ ، وَهِيَ الْمُوبِقَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، اتَّقُوا الْمَظَالِمَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ; فَإِنَّ الْعَبْدَ يَجِيءُ بِالْحَسَنَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَرَى أَنَّهَا سَتُنْجِيهِ ، فَمَا زَالَ عَبْدٌ يَقُومُ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، ظَلَمَنِي عَبْدُكَ مُظْلِمَةً فَيَقُولُ : امْحُوَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، مَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ مِنَ الذُّنُوبِ ، وَإِنَّ مِثْلَ ذَلِكَ كَسَفَرٍ نَزَلُوا بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ مَعَهُمْ حَطَبٌ ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ لِيَحْطِبُوا ، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ حَطَبُوا فَأَعْظَمُوا النَّارَ وَطَبَخُوا مَا أَرَادُوا ، وَكَذَلِكَ الذُّنُوبُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب کی سرزمین پر بتوں کی عبادت کی جائے ، البتہ وہ تمہاری طرف سے اس سے کم چیز یعنی حقیر گناہوں سے بھی راضی ہو جائے گا ، اور وہ گناہ قیامت کے دن ہلاکت کا شکار کرنے والے ہوں گے ، تم سے جہاں تک ہو سکے ، ظلم کرنے سے بچو ! کیونکہ قیامت کے دن کوئی بندہ نیکیاں لے کر آئے گا اور وہ یہ سمجھے گا کہ یہ نیکیاں اسے نجات دلا دیں گی ، لیکن پھر کوئی بندہ کھڑا ہو کر یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیرے بندے نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی ، تو پروردگار فرمائے گا : اس کی نیکیاں مٹا دو ! ایسا مسلسل ہوتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس شخص کی کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہے گی ، اس کی مثال یوں ہے ، جیسے کچھ لوگ سفر کرنے کے دوران کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ان کے پاس لکڑیاں نہیں ہوتی ہیں ، وہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لئے ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں ، یہاں تک کہ لکڑی کی اکٹھی کر لیتے ہیں اور بہت سی آگ جلا لیتے ہیں ، اور جو ان کا ارادہ ہو وہ پکا لیتے ہیں ، تو گناہوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔