حدیث نمبر: 17467
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتْ : أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ ہی وہ فرد ہیں ، جو یہ حدیث بیان کرتے ہیں : کہ ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور وہ اس بلی کو کھانے کے لئے ، یا پینے کے لئے کچھ نہیں دیتی تھی ؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے یہ بات ان کی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ وہ عورت کیا تھی ؟ اپنے اس طرز عمل کے ہمراہ وہ عورت کافر بھی تھی ، اور مؤمن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بلی کی وجہ سے اُسے عذاب دے ، جب آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث روایت کریں ، تو اس بات کا جائزہ لے لیا کریں کہ آپ کیا روایت کر رہے ہیں ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (519/2)»